Friday , June 22 2018
Home / سیاسیات / راجیہ سبھا میں خلل کیلئے وزیر اعظم کی ہٹ دھرمی ذمہ دار

راجیہ سبھا میں خلل کیلئے وزیر اعظم کی ہٹ دھرمی ذمہ دار

نئی دہلی۔/25ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج کہا ہے کہ راجیہ سبھا کی کارروائی میں خلل اندازی کی بنیادی وجہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بی جے پی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کے تیقن سے انکار تھا، جنہوں نے تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر اشتعال انگیز بیانات دیئے تھے۔ جن لوگوں نے دستور اور انڈین پینل کوڈ کی طمانیت کی خلا

نئی دہلی۔/25ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج کہا ہے کہ راجیہ سبھا کی کارروائی میں خلل اندازی کی بنیادی وجہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بی جے پی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کے تیقن سے انکار تھا، جنہوں نے تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر اشتعال انگیز بیانات دیئے تھے۔ جن لوگوں نے دستور اور انڈین پینل کوڈ کی طمانیت کی خلاف ورزی کی ہے بالخصوص بی جے پی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کو ان کے جرائم کی سزاء دی جانی چاہیئے لیکن وزیر اعظم نے ایوان میں کسی بھی طرح کا تیقن دینے سے انکار کردیا تھا۔ جس کے سبب راجیہ سبھا میں خلل اندازی کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ سی پی ایم کے سینئر لیڈر سیتا رام ایچوری نے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ مملکتی وزیر نرنجن جیوتی کے متنازعہ ریمارکس پر قبل ازیں پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی جانب سے نامنظور کئے جانے کے اعلان کے بعد بھی اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری رہا۔ سی پی ایم کے ترجمان ’ پیپلز ڈیموکریسی‘ میں تحریر کردہ اداریہ میں پارٹی لیڈر سیتا رام ایچوری نے کہا کہ حکومت نے قصوروار ارکان پارلیمنٹ ، مرکزی وزراء اور ترجمان کے خلاف کارروائی کیلئے واضح تیقن دینے میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جنہوں نے ہندوتوا کے حقیقی ایجنڈہ پر عمل آوری کیلئے اشتعال انگیز بیانات دیئے تھے جس پر اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں صدائے احتجاج بلند کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو مورد الزام ٹھہرانے کی یہ ایک نادر مثال ہے جو کہ ’ ناچ نہ آئے آنگن تیڑھا ‘ کے مترادف ہے۔

قبل ازیں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایوان میں آکر ایک مملکتی وزیر کے متنازعہ ریمارکس پر افسوس کا اظہار کیا تھا جنہوں نے بی جے پی مخالفین پر غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ اگرچیکہ وزیراعظم نے ابتداء میں معذرت خواہی سے انکارکردیا تھا لیکن کرسی صدارت کی جانب سے ایک قرارداد پیش کرنے سے اتفاق کرلیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سادھوی نرنجن جیوتی کے متنازعہ ریمارکس کو یہ ایوان نامنظور کرتا ہے۔ اگرچیکہ وزیر اعظم کی مداخلت کے بعد یہ مسئلہ ختم ہوگیا تھا لیکن ملک میں فرقہ وارانہ خطوط پر صف بندی کیلئے آر ایس ایس۔ بی جے پی قائدین بدستور اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

کولکتہ میں آر ایس ایس سربراہ کے ریمارکس اور کیرالا میں بی جے پی صدر کی جانب سے دوبارہ تبدیلی مذہب کی مہم جاری رکھنے کے عزم کا حوالہ دیتے ہوئے سی پی ایم لیڈر نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ راجیہ سبھا کے اجلاس کے آخری دو دن کارروائی میں خلل اندازی پر مجبور ہونا پڑا۔ ہندوستان کے سیکولر اور جمہوری نظام کو درپیش خطرہ سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ محض فراخدلانہ معاشی پالیسیوں پر عمل آوری سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ سی پی ایم لیڈر نے مزید کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں اور کارپوریٹ عناصر نے آپس میں ساز باز کرکے ملک پر آرڈیننس راج نافذ کردیا ہے جس کے باعث سیکولرازم اور جمہوریت کی بنیادوں کو لاحق خطرہ ہوگیا ہے اور عوام کو چوکسی برتنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT