Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / راجیہ سبھا ٹکٹ کیلئے ٹی آر ایس امیدواروں میں تجسس

راجیہ سبھا ٹکٹ کیلئے ٹی آر ایس امیدواروں میں تجسس

 

حیدرآباد۔/10 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ سے راجیہ سبھا کی 3 نشستوں کیلئے ٹی آر ایس امیدواروں کے ناموں پر تجسس برقرار ہے اور ٹکٹ کے خواہشمند قائدین مختلف سطح پر اپنی پیروی میں مصروف دیکھے گئے۔ چیف منسٹر سے ملاقات کیلئے مختلف وزراء کے ذریعہ خواہشمند امیدوار پرگتی بھون پہنچ رہے ہیں تاہم چیف منسٹر نے بتایا جاتا ہے کہ اس مسئلہ پر ملاقات کا وقت کسی کو نہیں دیا ہے۔ کے ٹی آر، ہریش راؤ اور کویتا کی قیامگاہوں پر ٹکٹ کے خواہشمند امیدواروں اور ان کے حامیوں کی زبردست سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ ہر خواہشمند امیدوار ان تینوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ تلنگانہ سے تین نشستوں کیلئے بلا مقابلہ انتخاب کے امکانات اس وقت موہوم ہوگئے جب کانگریس پارٹی نے ایک نشست کیلئے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔ سابق مرکزی وزیر بلرام نائیک کی امیدواری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طرح تینوں نشستوں کیلئے رائے دہی یقینی ہوجائے گی۔ ٹی آر ایس کے 3 امیدواروں میں سے ایک امیدوار کو پہلے ہی قطعیت دی جاچکی ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور کے سی آر کے قریبی رشتہ دار جوگنا پلی سنتوش کمار کے نام کو پہلے ہی منظوری دی جاچکی ہے۔ باقی 2 ناموں کے سلسلہ میں پارٹی حلقوں میں تجسس پایا جاتا ہے۔ چیف منسٹر نے ایک نشست یادو طبقہ کو الاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا اس نشست کیلئے محبوب نگر کے سابق رکن اسمبلی جئے پال یادو یا پھر نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے ڈی لنگیا یادو کے نام زیر گشت ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تیسری نشست کیلئے خاتون امیدوار کے نام پر غور کیا جاسکتا ہے۔ راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس کی جانب سے خاتون نمائندگی ابھی تک نہیں دی گئی۔ اس نشست کیلئے بھونگیر سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اوما مادھو ریڈی اور کریم نگر کی ٹی اوما کے نام زیر غور بتائے گئے ہیں۔ تیسری نشست کیلئے بعض اقلیتی قائدین بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں اور مختلف گوشوں کے ذریعہ حکومت پر دباؤ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ کانگریس پارٹی اگر کسی اقلیتی امیدوار کو میدان میں اُتارتی تو امکان تھا کہ ٹی آر ایس بھی کسی اقلیتی امیدوار کو ٹکٹ دیتے ہوئے کامیابی کو یقینی بناتی۔ اب جبکہ کانگریس نے درج فہرست قبائیل سے تعلق رکھنے والے مضبوط امیدوار کو میدان میں اُتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹی آر ایس کے ذرائع کے مطابق پارٹی امیدوار بھی مضبوط ہوسکتا ہے۔ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے جن قائدین کے نام راجیہ سبھا کی دوڑ میں سنائی دے رہے ہیں ان میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم، نواب محبوب عالم خان اور ملک معتصم خاں شامل ہیں۔ محمد سلیم کو ہریش راؤ اور کے ٹی آر کی تائید کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ محبوب عالم خاں چیف منسٹر سے اپنے روابط کی بنیاد پر پُرامید ہیں۔ ملک معتصم خاں کے حق میں سوشیل میڈیا کے ذریعہ مہم چلائی جارہی ہے۔ بعض گوشوں میں راجیہ سبھا کی نشست کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا نام بھی زیر گشت ہے تاہم انہوں نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہا کہ وہ حیدرآباد میں ہی رہیں گے اور انہوں نے کبھی بھی راجیہ سبھا کیلئے نمائندگی نہیں کی۔اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض قائدین بھی خود کو راجیہ سبھا کی نشست کی دوڑ میں شامل کرچکے ہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہنا مشکل ہے کہ آیا کسی مسلمان کو ٹکٹ دیا جائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT