Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / راجیہ سبھا کی 6 نشستوں کیلئے رائے دہی ضروری ہو گئی، لمحۂ آخر میں ڈرامائی واقعات

راجیہ سبھا کی 6 نشستوں کیلئے رائے دہی ضروری ہو گئی، لمحۂ آخر میں ڈرامائی واقعات

حیدرآباد /31 جنوری (سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی 6 راجیہ سبھا نشستوں کے لئے رائے دہی لازمی ہو گئی ہے، کیونکہ لمحہ آخر میں کچھ ڈرامائی واقعات پیش آئے۔ واضح رہے کہ 7 فروری کو ریاست کی 6 راجیہ سبھا نشستوں کے لئے رائے دہی ہوگی۔ کانگریس نے اپنے تین امیدواروں ایم اے خان، ٹی سبی رام ریڈی اور ڈاکٹر کے وی پی رام چندر راؤ کو، تلگودیشم نے جی رام موہ

حیدرآباد /31 جنوری (سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی 6 راجیہ سبھا نشستوں کے لئے رائے دہی لازمی ہو گئی ہے، کیونکہ لمحہ آخر میں کچھ ڈرامائی واقعات پیش آئے۔ واضح رہے کہ 7 فروری کو ریاست کی 6 راجیہ سبھا نشستوں کے لئے رائے دہی ہوگی۔ کانگریس نے اپنے تین امیدواروں ایم اے خان، ٹی سبی رام ریڈی اور ڈاکٹر کے وی پی رام چندر راؤ کو، تلگودیشم نے جی رام موہن راؤ اور مسز ستیہ راما لکشمی کو اور ٹی آر ایس نے ڈاکٹر کے کیشو راؤ کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جب کہ وائی ایس آر کانگریس نے راجیہ سبھا انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثناء سیما۔ آندھرا کے وزراء اور دیگر کانگریس قائدین نے پارٹی فیصلہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کانگریس رکن اسمبلی اے پربھاکر ریڈی اور رکن قانون ساز کونسل چیتنیا راجو کو باغی امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ پرچہ نامزدگی سے دست برداری کی آج آخری تاریخ تھی، چیف منسٹر اور دیگر قائدین نے باغی امیدواروں کو انتخابی میدان سے ہٹانے کی ہرممکن کوشش کی۔ اس دوران مسٹر چیتنیا نے تین وزراء کے ساتھ ریٹرننگ آفیسر سے ملاقات کرتے ہوئے دست برداری اختیار کرلی،

تاہم لمحہ آخر تک دست برداری کا تیقن دینے والے اے پربھاکر ریڈی نے دست برداری سے انکار کردیا۔ دریں اثناء کانگریس پارٹی اے پربھاکر کی تائید کرنے والے کانگریس رکن اسمبلی سی وینکٹ رامیا کو لے کر ریٹرننگ آفیسر کے پاس پہنچی اور انھیں پربھاکر ریڈی کی تائید سے دست برداری کا مکتوب حوالے کیا، جس سے ریٹرننگ آفیسر نے اتفاق نہ کرتے ہوئے امیدوار کو ان کے سامنے پیش کرنے یا ان کا مکتوب دست برداری پیش کرنے پر زور دیا۔ اس دوران کانگریس کے وزراء اور قائدین نے پربھاکر ریڈی سے رابطہ پیدا کرنے کی بہت کوشش کی، مگر انھوں نے اپنا ٹیلیفون بند کردیا تھا۔ بعد ازاں سی وینکٹ رامیا نے ایک مکتوب میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مکتوب باغی امیدوار اے پربھاکر ریڈی کا ہے، وہ کسی مصروفیت کی وجہ سے نہیں آئے، تاہم دست برداری کا مکتوب ریٹرننگ آفیسر تک پہنچانے پر زور دیا ہے۔ یہ خبر عام ہوتے ہی اے پربھاکر ریڈی نے ریٹرننگ آفیسر سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے انتخابی مقابلہ سے دست برداری کا کوئی مکتوب نہیں دیا ہے اور نہ ہی وہ دست بردار ہو رہے ہیں۔ بعد ازاں سہ پہر تین بجے ریٹرننگ آفیسر نے راجیہ سبھا کی 6 نشستوں کے لئے 7 امیدوار انتخابی میدان میں ہونے اور 7 فروری کو رائے دہی کے انعقاد کا اعلان کیا۔

دریں اثناء باغی امیدوار اے پربھاکر ریڈی نے بتایا کہ چیف منسٹر نے انھیں تین مرتبہ ٹیلیفون کرتے ہوئے دست برداری کی خواہش کی، لیکن میں نے انھیں صرف غور کرنے کا تیقن دیا، مگر دست بردار نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ریاست کو متحد رکھنے کے لئے مقابلہ کر رہے ہیں، لہذا سیما۔ آندھرا کے عوام کو چاہئے کہ اپنے حلقہ کی نمائندگی کرنے والے ارکان اسمبلی پر دباؤ ڈال کر ان کی تائید پر مجبور کریں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کانگریس کے ڈرامہ سے لاعلم ہیں، جب کہ وہ 175 ارکان اسمبلی کی تائید سے کامیابی حاصل کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT