راجیہ سبھا کے اجلاس میں ہنگامہ،اجلاس دوپہر تک ملتوی

نئی دہلی ۔ 21 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو کے مبینہ الزامات کہ سابق یو پی اے دور اقتدار میں سیاسی دباؤ کے نتیجہ میں ایک جج کو ترقی دی گئی ہے حالانکہ اس پر بدعنوانی الزامات تھے۔ راجیہ سبھا میں انا ڈی ایم کے نے اس مسئلہ پر وقفہ سوالات کے دوران ہنگامہ کھڑا کردیا جس کی وجہ سے ایوان کا اجلاس دوپہر تک کیلئے ملت

نئی دہلی ۔ 21 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو کے مبینہ الزامات کہ سابق یو پی اے دور اقتدار میں سیاسی دباؤ کے نتیجہ میں ایک جج کو ترقی دی گئی ہے حالانکہ اس پر بدعنوانی الزامات تھے۔ راجیہ سبھا میں انا ڈی ایم کے نے اس مسئلہ پر وقفہ سوالات کے دوران ہنگامہ کھڑا کردیا جس کی وجہ سے ایوان کا اجلاس دوپہر تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ انا ڈی ایم کے ارکان نے وقفہ سوالات معطل کردینے کا مطالبہ کرتے ہوئے شور و غل کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ عدلیہ کے تقررات میں سیاسی دخل اندازی کے مسئلہ پر بحث کی جائے ۔ شور و غل کی وجہ سے عوام کا اجلاس پہلے 10 منٹ اور دوسری بات 12 بجے دن تک ملتوی کردیا گیا۔ نو منتخبہ رکن میزورم رونالڈ ساپا تلاو کی رسم حلف برداری کے فوری بعد انا ڈی ایم کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے صدرنشین پریس کونسل آف انڈیا مارکنڈے کاٹجو کے مضمون کی ایک روزنامہ میں اشاعت کا تذکرہ کرتے ہوئے روزنامہ کی نقلیں لہرائیں اور مطالبہ کیا کہ اس مسئلہ پر وقفہ سوالات کو ملتوی کرتے ہوئے بحث کی جائے ۔ انا ڈی ایم کے رکن وی مائیترین نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس پر صدرنشین راجیہ سبھا میں کہا کہ وہ روزنامہ کا ایوان میں حوالہ نہیں دے سکتے۔ مائیترین نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ صدرنشین حامد انصاری نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کرسکتے، کوئی بھی آپ کی بات نہیں سن رہا ہے۔ حامد انصاری کے اس تبصرہ پر انا ڈی ایم کے ارکان نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے ۔ صدرنشین راجیہ سبھا نے ایوان کا اجلاس دس منٹ کیلئے ملتوی کردیا جب اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوا تو انا ڈی ایم کے ارکان وقفہ سوالات معطل کرنے کا دوبارہ مطالبہ کرنے لگے۔ حامد انصاری نے کہا کہ اگر آپ یہ مسئلہ ا ٹھانا چاہتے ہیں تو مناسب طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ایسا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ آپ فہرست کے مطابق کارروائی میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر وہ اخبار لہرانا بند نہ کریں تو انہیں ان کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ مائیترین نے جاننا چاہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ جو ایوان میں موجود ہیں، جج کے خلاف ان الزامات سے واقف تھے، ان کی حلیف ڈی ایم کے نے حکومت پر دباؤ ڈالا تھا کہ جج کو ترقی دی جائے۔شور و غل جاری رہنے پر ایوان کا اجلاس دوپہر تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT