Saturday , August 18 2018
Home / شہر کی خبریں / راجیہ سبھا کے امیدوار پارٹی کا داخلی معاملہ

راجیہ سبھا کے امیدوار پارٹی کا داخلی معاملہ

مسلم اور ایس ٹی تحفظات پر پارلیمنٹ میں جدوجہد: کے سی آر
تحفظات کا اختیار ریاستوں کو دیا جائے

حیدرآباد۔/3مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات کے مسئلہ کو پارٹی کی جانب سے شدت کے ساتھ پیش کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت تلنگانہ کو حاصل ہونے والی مراعات کا مسئلہ بھی پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج پرگتی بھون میں منعقد ہوا جس میں پارلیمنٹ سیشن میں پارٹی حکمت عملی کو قطعیت دی گئی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ تنظیم جدید قانون پر عمل آوری کے سلسلہ میں کئی مرتبہ مرکز سے نمائندگی کی گئی۔ تحریری طور پر درخواست دی گئی۔ پارلیمنٹری پارٹی کے ارکان اور ریاستی وزراء نے بھی نمائندگی کی لیکن مرکز سے حاصل ہونے والے مراعات اور فنڈز حاصل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اور ایس ٹی تحفظات کے سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے بات چیت کی گئی تھی۔ آزادی کے 70 سال گزرنے کے باوجود تحفظات کی فراہمی کا اختیار مرکز کے پاس رکھنا مناسب نہیں ہے۔ اسمبلی میں تحفظات بل کی منظوری کے موقع پر بھی انہوں نے واضح کردیا تھا کہ ریاستوں کو تحفظات کا اختیار دیا جانا چاہیئے۔ روزگار اور تعلیم میں تحفظات کی فراہمی کیلئے بل منظور کیا گیا اور مرکز کو روانہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا کہ ریاستوں کو اس کا اختیار دیا جانا چاہیئے لیکن افسوس کہ مرکز نے ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور روایتی طریقہ کار پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تحفظات کے مسئلہ پر بڑے پیمانے پر جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تحفظات کے سلسلہ میں جو حد مقرر کی ہے اس سلسلہ میں دستوری ترمیم کی جاسکتی ہے اور یہ کام مرکز کیلئے کوئی دشوار نہیں۔ ملک بھر میں اس طرح کا مطالبہ کیا جارہا ہے کہ تحفظات کا اختیار ریاستوں کو ہو۔ مرکزی حکومت چاہے تو دستور کی دفعہ 16 میں ترمیم کرسکتی ہے اور بل کو منظوری دی جاسکتی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکز اپنے اختیارات کو غیر مرکوز کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ وہ تحفظات کا اختیاراپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مہاراشٹرا میں 58 فیصد اور ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات ہیں جبکہ دیگر ریاستوں کیلئے 50 فیصد کی حد مقرر کی گئی ہے۔ 1994 سے ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات پر عمل کیا جارہا ہے۔ 21 برس سے یہ سلسلہ جاری ہے لیکن دیگر ریاستوں کو اس کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے سلسلہ میں ملک بھر کیلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیئے۔ ہر ریاست کیلئے علحدہ قانون قابل قبول نہیں۔ راجیہ سبھا کی 3 نشستوں کیلئے پارٹی امیدواروں سے متعلق سوال پر چیف منسٹر نے کہا کہ یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ راجیہ سبھا میں کس کو نمائندگی دی جائے اور کسے نہیں اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کانگریس کے اس مطالبہ کو مضحکہ خیز قراردیا کہ شہیدان تلنگانہ کے خاندان میں سے کسی ایک کو ٹکٹ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اس طرح کے مطالبہ کا کوئی اخلاقی حق نہیں پہنچتا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے راجیہ سبھا انتخابات میں حصہ لینے کی اطلاعات مضحکہ خیز ہیں۔ درکار تعداد کے بغیر کوئی بھی پارٹی کس طرح مقابلہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو واضح اکثریت حاصل ہے اور تینوں نشستوں پر اس کے امیدوار منتخب ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT