راجیہ سبھا کے وقفہ سوالات کو معطل کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی ۔ 24 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت کو کالے دھن کے مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں جیسے ترنمول کانگریس اور جنتادل (یو) نے آج راجیہ سبھا میں کل وقفہ سوالات معطل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس مسئلہ پر بحث کی جاسکے۔ اپوزیشن بھی امکان ہے کہ ایوان بالا میں اس اہم قانون سازی کی منظوری میں رکاوٹیں پیدا کرے

نئی دہلی ۔ 24 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت کو کالے دھن کے مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں جیسے ترنمول کانگریس اور جنتادل (یو) نے آج راجیہ سبھا میں کل وقفہ سوالات معطل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس مسئلہ پر بحث کی جاسکے۔ اپوزیشن بھی امکان ہے کہ ایوان بالا میں اس اہم قانون سازی کی منظوری میں رکاوٹیں پیدا کرے گا۔ علاوہ ازیں لیبر اصلاحات بلز کی منظوری میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جائیں گی جو غور اور منظوری کیلئے کل پیش کی جانے والی ہیں۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی راجیہ سبھا کے ایک اجلاس میں حکومت نے آج کہا کہ اسے لیبر اصلاحات بلز کی جاریہ ہفتہ ایوان بالا میں منظوری سے گہری دلچسپی ہے۔ جے ڈی یو رکن کے سی تیاگی اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیریک او برائن نے آج صدرنشین راجیہ سبھا حامد انصاری کو اس سلسلہ میں نوٹس حوالہ کردی۔ امکان ہے کہ دیگر پارٹیاں بھی ان کی تقلید کریں گی۔ اپوزیشن حکومت کو مجبور کرنے کیلئے متحدہ مخالفت کی خواہاں ہے۔ امکان ہے کہ کل راجیہ سبھا میں شور و غل کے مناظر دیکھے جائیں گے۔ ایک تحریک پیش کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اہم ترین سلیکٹ کمیٹی کیلئے دو نئے ارکان نامزد کئے جائیں کیونکہ حساس انشورنس بل کو ترنمول کانگریس ، جے ڈی یو اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے احتجاج اور مخالفت کی بناء پر اس بل کی منظوری مشکل معلوم ہوتی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ انشورنس کے شعبہ میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اعظم ترین حد میں اضافہ کیا جائے جبکہ دیگر سیاسی پارٹیاں اس کی مخالف ہیں۔ بی جے پی کے دو ارکان کو کمیٹی سے خارج کر کے ان کی جگہ نئے تقررات ضروری ہوگئے ہیں کیونکہ مختار عباس نقوی اور جے پی ندا وزراء بنائے گئے ہیں۔ کالا دھن مسئلہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا کلیدی انتخابی مسئلہ تھا جس کی بنیاد پر اس نے کامیابی حاصل کی لیکن حکومت نے گزشتہ چند مہینوں میں اس سلسلہ میں کچھ نہیں کیا جبکہ اسے برسر اقتدار آکر کئی ماہ ہوچکے ہیں۔ جنتادل (یو) کی جانب سے نوٹس حوالہ کرنے کے بعد کے سی تیاگی نے کہا کہ ہم اس مسئلہ پر کھل کر مباحث چاہتے ہیں۔ کل وقفہ سوالات معطل کر کے ان مباحث کیلئے وقت فراہم کرنے کی نوٹس دی جاچکی ہے ۔ حکومت نے لیبر قوانین (تختہ جات) داخل کرنے اور رجسٹرس مرتب کرنے(ترمیمی) بل 2011 ء بھی کارروائی میں شامل کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT