Tuesday , December 11 2018

راج بھون سازشوں کے مرکز میں تبدیل ‘ حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کانگریس ارکان کی معطلی

ریاست کی سیاسی صورتحال پر کانگریس قائدین کا اجلاس۔ تیسرے محاذ پر کے سی آر کو ممتابنرجی کی تائید نہیں ملی ۔ اتم کمار ریڈی کا ادعا

 

حیدرآباد 20 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس قائدین نے ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے راج بھون سازشوں کے مرکز میں تبدیل ہوجانے کا الزام عائد کیا۔ تیسرے محاذ کی حصول تائید کیلئے کولکاتا پہونچنے والے کے سی آر کو ممتا بنرجی سے پھٹکار ملنے کا دعویٰ کیا۔ جمہوریت کے تحفظ کیلئے راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس امیدوار کی تائید کرنے کی تلگودیشم قیادت سے اپیل کی۔ اے آئی سی سی پلینری سیشن میں شرکت کرکے حیدرآباد واپس ہونے والے کانگریس قائدین نے آج قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی کی قیامگاہ پر ہنگامی اجلاس منعقد کرکے پارٹی کے دو ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخی، راجیہ سبھا کے انتخابات اور کانگریس کی مستقبل کی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں دو سابق اسپیکرس سریش ریڈی، این منوہر کے علاوہ ہائیکورٹ کے ایڈوکیٹ جندھیال روی شنکر کو خصوصی طور پر مدعو کیا ۔ ساتھ ہی اجلاس میں قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، سمپت کمار، رکن اسمبلی ریونت ریڈی کے علاوہ دیگر قائدین نے شرکت کی۔ سابق اسپیکرس سریش ریڈی اور این منوہر نے اسمبلی کے واقعہ پر اسپیکر کے رول اور دوسرے قاعدے قانون کے بارے میں تفصیلات پیش کی۔ہائیکورٹ کے وکیل جندھیال روی شنکر نے قانونی پہلوؤں اور ہائیکورٹ میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی سے واقف کرایا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ عوامی مسائل پر آواز اُٹھانا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔ کانگریس نے اپوزیشن کا تعمیری رول بخوبی نبھایا ہے۔ حکومت کی ناکامیاں، بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں آشکار ہونے کے خوف سے ٹی آر ایس حکومت نے منظم سازش کے تحت جہاں کانگریس کے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی ہے وہیں کانگریس کے تمام ارکان اسمبلی، ارکان کونسل کو بجٹ سیشن کے اختتام تک معطل کردیا۔ کانگریس کو قانون پر مکمل بھروسہ ہے۔ دو ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کے معاملہ میں ہائیکورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ تلنگانہ اسمبلی نے جو فیصلہ کیا ہے وہ یکطرفہ ہے۔ اس کی ملک بھر میں نظیر نہیں ملتی۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ صدرنشین تلنگانہ سوامی گوڑ کا کانگریس احترام کرتی ہے۔ حکومت سوامی گوڑ پر حملہ کی وجہ سے کانگریس ارکان کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کررہی ہے۔ کانگریس نے حملے کی ویڈیو فٹیج دینے کا اسپیکر سے مطالبہ کیا مگر ابھی تک ویڈیو فٹیج نہیں دیا گیا۔ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل نے صدرنشین کو مار لگنے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ عدلیہ پر کانگریس کو احترام ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی رکنیت سے محروم کانگریس کے دو ارکان اسمبلی بھی راجیہ سبھا کے انتخابات میں ووٹ دیں گے۔انھوں نے جمہوریت کے تحفظ کیلئے کانگریس امیدوار کی تائید کرنے کی تلگودیشم سے اپیل کی اور کہاکہ وہ اس مسئلہ پر تلگودیشم رکن اسمبلی ایس وینکٹ ویریا سے تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ کانگریس ٹکٹ پر کامیاب تمام ارکان اسمبلی کانگریس امیدوار کے حق میں ووٹ دیں گے۔ کانگریس وہپ جاری کریگی۔ کانگریس لیڈر ریونت ریڈی نے کہاکہ گورنر نرسمہن جانبداری سے کام کررہے ہیں۔ راج بھون سیاسی سازشوں کے مرکز میں تبدیل ہوگیا۔ گورنر کا خطبہ عوامی توقعات کے برعکس تھا جس پر کانگریس ارکان نے احتجاج کیا مگر قاعدے قانون کی خلاف ورزی کرکے کانگریس کے دو ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی گئی۔ مودی کے ایجنڈے پر عمل کرنے راج بھون کو استعمال کرنے میعاد کی تکمیل ہونے کے باوجود نرسمہن کو برقرار رکھنے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس کے سی آر اور مودی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیگی۔ سابق وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہاکہ مودی کی مدد کرنے ٹی آر ایس ایم پیز غیر ضروری لوک سبھا میں احتجاج کرکے تحریک عدم اعتماد کو موضوع بحث بننے سے روک رہے ہیں۔ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی بالواسطہ تائید کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس اور بی جے پی کے خلاف تیسرا محاذ بنانے کا جو اعلان کیا ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔ ترنمول کانگریس کی تائید حاصل کرنے کولکتہ پہونچنے والے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے زبردست دھکہ دیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی تائید کئے بغیر بی جے پی کی مخالفت کیسے ہوسکتی ہے؟کے سی آر سے استفسار کیا ہے۔ کومٹ ریڈی نے کہاکہ ایک طرف کے سی آر مودی کی تائید کررہے ہیں دوسری طرف تیسرے محاذ کی بات کررہے ہیں۔ مجاہدین تلنگانہ کے ارکان خاندان کو ٹکٹ دیا جاتا تو بہتر تھا تاہم چیف منسٹر نے اپنے رشتہ دار سنتوش کو راجیہ سبھا کا امیدوار بنایا ہے۔ انھوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ ممتا بنرجی کی سادگی کو اپنائیں جو عام زندگی گزار رہی ہیں جبکہ کے سی آر محل میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT