Tuesday , December 12 2017
Home / مضامین / راج ناتھ جی اکبر اگر ’’اعظم‘‘ ہیں تو رانا پرتاپ بھی ’’مہا (ن)‘‘ ہیں

راج ناتھ جی اکبر اگر ’’اعظم‘‘ ہیں تو رانا پرتاپ بھی ’’مہا (ن)‘‘ ہیں

واجد خان

قارئین ، زیر نظر مضمون تاریخی نوعیت کا نہیں ہے اور نہ ہی راقم الحروف کوئی مورخ یا تاریخ داں ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ گوگل کھنگالنا شروع کردیں۔ اس عاجز نے اپنی شخصی معلومات کی بنیاد پر یہ مضمون تحریر کیا ہے جس سے نہ کسی کی خوشامد مقصود ہے اور نہ دلآزاری ۔ اگر کوئی نکتہ Track سے ہٹ کر ہے تو پیشگی طور پر معذرت خواہ ہوں۔
ہندوستان کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے 9 مئی کو جئے پور میں اپنی ایک تقریر کے دوران کچھ عجیب سا مطالبہ کردیا (ویسے جب سے بی جے پی مرکز میں برسر اقتدار آئی ہے ، ملک میں عجیب عجیب واقعات ہی رونما ہورہے ہیں) کہ راجپوت حکمراں رانا پرتاپ سنگھ کو مغل شہنشاہ اکبر کی طرح اعظم کہے جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، البتہ رانا پرتاپ کو وہ مان سمان نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے ۔ راقم الحروف کو رانا پرتاپ کی شجاعت اور طرز حکمرانی سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ وہ ایک بہادر راجپوت حکمراں تھے جو راجپوتوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے ۔ 1572 تا 1597 رانا پرتاپ میواڑ کے حکمراں رہے جو اُدے سنگھ اور مہارانی جئے ونتی بائی کے فرزند تھے اور میواڑ کے 54 ویں حکمراںتھے۔ کہتے ہیں کہ ادے سنگھ کے 33 بچے تھے جن میں رانا پرتاپ سب سے بڑے تھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رانا پرتاپ کے دو بھائی شکتی سنگھ اور جگمل اکبر اعظم سے جا ملے تھے۔ بہرحال 1576 کی ہلدی گھاٹی کی جنگ اور اپنے بہادر گھوڑے چیتک کے لئے رانا پرتاپ بھی ایک تاریخی حکمراں رہے ۔ جنگ میں ان کے گھوڑے نے ایک بار ان کی جان بھی بچائی تھی۔ رانا پرتاپ کی گیارہ بیویاں تھیں جن میں سے وہ صرف دو بیویوں کو بہت زیادہ چاہتے تھے ۔ میدان جنگ میں وہ دشمنوں کے دانت کھٹے کردیتے تھے ۔ اس لئے انہیں رانا پرتاپ کی بجائے مہارانا پرتاپ کہا جانے لگا۔ راج ناتھ سنگھ جی ، ’’مہا‘‘ ہندی کا لفظ ہے جس کے معنی مہان یعنی عظیم یا اعظم کے ہی ہوتے ہیں۔ اگر اکبر کو مہا جلال الدین کہاجا ئے یا رانا پرتاپ کو رانا پرتاپ اعظم کہا جائے تو کیا اس سے تاریخی حقائق بدل جائیں گے؟ رانا پرتاپ کی عظمت کا اعتراف تو ’’مہا‘‘ کا سابقہ جوڑ کر ہی کرلیا گیا ہے جیسا کہ اکبر کے بعد اعظم کالاحقہ جوڑ کر اکبر کی عظمت کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ یہ بات بھی مدنظر رہے کہ یونان کے بادشاہ سکندر کو بھی سکندر اعظم اور ہندوستان کے ہی ایک اور زبردست حکمراں اشوک کو بھی اشوک اعظم ہی کہا جاتا ہے ۔ اشوک اعظم نے کالنگا کی جنگ میں انسانی جانوں کے اتلاف کو دیکھ کر جنگ و جدال سے توبہ کرلی تھی اور بدھ مت اختیار کرتے ہوئے اس کی تبلیغ میں مابقی زندگی گزاردی ۔ اکبراعظم نے راجپوتوں سے بہتر تعلقات کیلئے جودھا بائی سے شادی کی۔ اب یہ الگ قصہ ہے کہ راجپوتوں کا ایک طبقہ جودھا بائی کے وجود سے ہی انکار کرتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایران کی مریم زمانی تھی ۔ اکبر اعظم کو ’’اعظم‘‘ اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے دور میں ہندو اور مسلمانوں میں کوئی تفریق نہیں تھی ۔ بڑے بڑے ہندو دانشور ان کے دربار میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے ۔ اکبر کے نورتن بھی مشہور ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنگوں پر روانہ ہوتے وقت جہاں ایک مولوی ان کے بازو پر امام ضامن باندھتا تھا ، وہیں ہندو پنڈت بھی ان کی آرتی اتار کر پیشانی پر تلک لگاکر کامیابی کی دعا کرتا تھا ۔ فتوحات کے علاوہ تعمیرات نے بھی اکبر کو اکبر اعظم بنایا ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مہارانا پرتاپ کی حکمرانی صرف ایک ریاست تک محدود تھی جبکہ اکبر اعظم پورے ہندوستان کے شہنشاہ تھے جیسا کہ آج کے دور میں وزیراعظم کا رتبہ مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے عظیم تر ہوتا ہے ۔ شیواجی کو بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کہا جاتا ہے ۔ اس پر ملک کے کسی بھی طبقہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ راج ناتھ سنگھ جی سے یہی کہنا ہے کہ ملک کے عوام کو یہ مت کھاؤ ، وہ مت کھاؤ ، یہ مت پہنو ، وہ مت پہنو، شادی شدہ زندگی ہم جیسے کہیں ویسے گزارو، اِس طرح طلاق مت دو ، اُس طرح طلاق مت دو وغیرہ کا سبق سکھانے سے بہتر ہے کہ اپنی حکمرانی کے طرز کو بہتر بنائیں تاکہ عوام آپ کے گرویدہ ہوجائیں۔ ملک کی کئی نامور ہستیوں کو ان کے متعلقہ شعبہ میں کارہائے نمایاں انجام دینے پر پدم شری ، پدم بھوشن ، پدم و بھوشن اور یہاں تک کہ بھارت رتن کے ایوارڈ سے بھی نوازا جاتا ہے جن میں سیاستداں ، فلم اداکار ، کھلاڑی ، ادیب ،شاعر ، مصور ، گلوکار وغیرہ سب ہی شامل ہیں ۔ تاہم ایوارڈ ملنے کے بعد جب انہیں مخاطب کرنے کیلئے ایوارڈ کا سابقہ (Prefix) استعمال نہیں کیا جاتا تو انہیں (ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو) کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ مثلاً ارے بھائی بھارت رتن فلاں فلاں ، ارے بھائی پدم شری فلاں فلاں کہہ کر نہیں پکارا جاتا بلکہ عام طور پر جو ان کا نام ہوتا ہے وہی کہا جاتا ہے ۔ البتہ کچھ خاص موقعوں پر جب کسی شخصیت کے کارناموں کا ذکر کیا جاتا ہے تو انہیں ملنے والے ایوارڈس ، انعامات اور تہنیتوں کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ دلیپ کمار کو برسوں قبل پدم شری سے نوازا جاچکا ہے لیکن راقم الحروف نے دلیپ کمار سے متعلق کسی بھی خبر یا اطلاع یا اشتہار میں ان کے نام سے پہلے پدم شری کا Prefix  نہیں دیکھا ۔ بس صرف دلیپ کمار لکھا جاتا ہے ۔ رانا پرتاپ کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں ، اسی لئے تو انہیں ’’مہا‘‘ کا Prefix ملا ہے جو اکبر کے اعظم والے Suffix کے مماثل ہے ۔ ذرا سوچئے برسوں سے ہم مہارانا پرتاپ ہی لکھتے اور سنتے آئے ہیں اور اگر راج ناتھ سنگھ جی کے مطالبہ پر رانا پرتاپ اعظم لکھنے اور کہنے لگیں تو کیا اس سے تاریخ بدل جائے گی ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ وزیر موصوف نے اشوک اعظم کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں کیا ۔ کچھ خطابات سرکاری نوعیت کے ہوتے ہیں اور کچھ عوامی محبت کا نتیجہ ۔ جیسے سائرہ بانو کو بیوٹی کوئین کہاجاتا تھا اور ہیما مالنی کو ڈریم گرل ، دلیپ کمار کو شہنشاہ جذبات تو دھرمیندر کو ہی مین کہا جاتا تھا ۔ آنجہانی اندرا گاندھی کو ہندوستانی سیاست کا ’’مرد‘‘ کہا جاتا تھا مگر یہ تمام خطابات ہمیشہ ان کے ناموں کے ساتھ نہیں جوڑے گئے جبکہ مہارانا پرتاپ میں ’’مہا‘‘ اور اکبر اعظم میں اعظم ان کے ناموں کا حصہ بن چکا ہے ۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سید احمد خان کو جب سر کا خطاب ملا تو سر سید کہلانے لگے۔ اسی طرح نذیر احمد کو لوگ ڈپٹی نذیر احمد کی حیثیت سے زیادہ جانتے ہیں۔ آخر میں وزیر موصوف سے میں یہی خواہش کروں گا کہ وہ تاریخ میں پانچ سو سال پیچھے جانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس سے پہلے بھی پانچ سو سال پیچھے جاکر بابری مسجد ، رام جنم بھومی کے تنازعہ کو جنم دیا گیا ۔ ملک اب ایک اور فرقہ وارانہ فسادات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آپ سب کی تعریف کیجئے ۔ اس کو یہ نہیں ملا اس کو وہ نہیں ملا۔ ایسی شکایتیں نہ کیجئے ۔ ذرا یہ بھی سوچئے کہ بی جے پی کے اقتدار میں اب تک مسلمانوں کو کیا ملا ؟
[email protected]

TOPPOPULARRECENT