Wednesday , December 12 2018

راحت کاری اقدامات میں علحدگی پسندوں کی رکاوٹ نامناسب

نئی دہلی ۔ 17 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) لیڈر ڈی راجہ نے سیلاب سے متاثرہ جموں و کشمیر میں جاری فوج کے راحت کاری کاموں میں مبینہ طور پر علحدگی پسندوں کی رکاوٹوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل بالکل نامناسب ہے۔ ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب یہ اطلاعات ملی کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربر

نئی دہلی ۔ 17 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) لیڈر ڈی راجہ نے سیلاب سے متاثرہ جموں و کشمیر میں جاری فوج کے راحت کاری کاموں میں مبینہ طور پر علحدگی پسندوں کی رکاوٹوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل بالکل نامناسب ہے۔ ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب یہ اطلاعات ملی کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یسین ملک اور ان کے حامیوں نے سرینگر میں فوج کو مبینہ طور پر راحت کاری اقدامات سے روکنے کی کوشش کی ۔ ڈی راجہ نے کہا کہ فوج اور دیگر سیکوریٹی فورسس متاثر عوام کو بچانے اور انہیں راحت فراہم کرنے کا غیر معمولی کام انجام دے رہی ہے۔ ان کے اس کام کی ستائش کی جانی چاہئے اور اس کیلئے وہ قابل مبارکباد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام بھی مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں فوج کے ساتھ مل کر متاثرین کو راحت بہم پہنچانا چاہئے ۔ یہ ایک ایسا نازک وقت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں ، تمام جمہوری تحریکوں ، عوامی تنظیموں کو متحد ہوکر کام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے علحدگی پسند گروپس سے خواہش کی کہ وہ اس مسئلہ کو سیاسی شکل نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ ضرورت مند عوام کی مدد کا ہے۔ پیر کو میڈیا میں ایک ایسا ویڈیو پیش کیا گیا جس میں جے کے ایل ایف لیڈر یسین ملک نے مبینہ طور پر راحت کاری ورکرس کو یہ ہدایت دی کہ وہ اپنے طور پر امدادی اشیاء تقسیم نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقہ میں صرف جے کے ایل ایف کا حکم چلتا ہے ۔ جے کے ایل ایف سربراہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے ۔

چار بڑے برجس کی تعمیر
== سیلاب سے متاثرہ سرینگر اور جموں میں قومی شاہراہ بحال کرنے کے بعد فوج کے انجنیئرس جموں ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں چار بڑے بریجس کی تعمیر میں کامیاب رہے جس سے یہاں رہنے والے لاکھوں افراد کو کافی راحت ملی ہے۔ فوجی عہدیداروں کے مطابق ان بریجس کی تعمیر کے بعد دور دراز کے مقامات تک رسائی یقینی ہوگئی ہے اور وہاں متاثرہ عوام کی بازآبادکاری کی ممکن ہے۔ فوج سرینگر اور جموں ڈْویژن میں دو منزلہ برج کی تعمیر کیلئے بھی شب و روز سرگرم ہے۔

TOPPOPULARRECENT