Saturday , July 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / راستوں کے استعمال میں ملکی قوانین کی پاسداری

راستوں کے استعمال میں ملکی قوانین کی پاسداری

مولانا مفتی حافظ سید صادق محی الدین فہیم ؔ

مولانا مفتی حافظ سید صادق محی الدین فہیم ؔ
راستہ چلنے یا سڑکوں کو استعمال کرنے کے کچھ آداب و قوانین تو وہ ہیں جو اسلام نے بیان کئے ہیں، اور کچھ وہ قواعد وضوابط ہوتے ہیں جو ملکی کہلاتے ہیں، یعنی مختلف شہروں اور بستیوں میں حسب ضرورت قواعد مقرر کرلئے جاتے ہیں، جس سے مقصود راستہ چلنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا اور نقصان سے بچانا ہوتا ہے، ایسے قواعد و ضوابط جو انسانی سماج کو پیش نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں ان میں حالات کے بدلنے سے تبدیلی آسکتی ہے، اکثر شہروں میں کچھ نشانات راستوں میں بطورِ اشارہ لکھے جاتے ہیں، ان اشاروں کی مختلف مرادات ہوتی ہیں جس کو ٹریفک کا نظم چلانے والے متعین کرتے ہیں، ان سے واقفیت بھی راستہ چلنے میں ممد و معاون ہوتی ہے، جس سے راستہ چلنے والا خود ضرر سے محفوظ رہتا ہے، اور دوسروں کو بھی اس کی ذات سے کوئی نقصان نہیں پہونچتا۔اسی طرح اکثر شاہراہوں پر آنے اور جانے کے راستے الگ الگ متعین ہوتے ہیں، ان کی پابندی بھی حادثات کی روک تھام میں مدد گار ہوتی ہے، اکثر چوراہوں پر اشارے کیلئے سرخ اور ہری بتیاں جلائی جاتی ہیں، جس کو سگنلس کہا جاتا ہے، سرخ روشنی رکنے کے اشارے کے لئے رکھی گئی ہے، اور ہری روشنی اشارہ دیتی ہے کہ اب سرخ روشنی کی وجہ رکے ہوئے راہرو آگے بڑھ سکتے ہیں، بعض بڑے چوراہوں پر اس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، ان اشاروں کے مطابق سڑکوں پر اپنا سفر جاری رکھنے والے خود بھی حادثے سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں، اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

ہمارے شہروں میں عام طور پر موٹر سیکل کا رواج زیادہ ہے، کبھی کوئی حادثہ ہو جائے تو اور سواریوں کے مقابل اس سواری میں نقصان کے امکانات زیادہ رہتے ہیں، اس لئے ٹرافک کے انتظامات دیکھنے والے حکومت کے ذمہ دار سیکل موٹرTwo Whiller چلانے والوں کو ہیلمٹHelmet پہننے کا مشورہ دیتے ہیں ، ہیلمٹ کا استعمال اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو حفاظت کا وہ ایک بہت بڑا ہتھیار ہے، خدانخواستہ اگر سیکل موٹر چلانے والا کسی وجہ سے گرپڑے تو سر محفوظ رہ سکتا ہے، اور اس کو کوئی چوٹ نہیں آسکتی، دماغ ایک اللہ کی نعمت ہے جو سر کے ایک بڑے خول کے اندر محفوظ ہے، ہیلمٹ کا پہن لینا سر کو چوٹ لگنے سے بہت حد تک بچاتا ہے، جس سے دماغ پر کوئی ضرب نہیں پڑتی، اور وہ محفوظ رہتا ہے، وجہ یہ ہے کہ ہیلمٹ ایک مضبوط خول کی شکل میں سرپر بندھا ہوتا ہے، گرپڑنے سے جب کوئی شدید چوٹ پڑتی ہے تو وہ ہیلمٹ اس کو اپنے اوپر سہار لیتا ہے، اور اس کو سر تک پہونچنے سے محفوظ رکھتا ہے، اگر ہیلمٹ کا صحیح ڈھنگ سے استعمال کر لیا جائے توامکان ہے

کہ اس سے سرکو اسی فیصد تک حفاظت کی طمانیت حاصل ہو جاتی ہے، اور تقریباً نود فیصد سے زیادہ تک دماغ کی حفاظت کو بھی یہ ہیلمٹ ممکن بنا دیتا ہے، سر کی حفاظت اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس میں محفوظ دماغ کا ہماری زندگی میں بڑا رول ہے، وہ صحیح و سلامت ہو تو ایک زندہ انسان کی حرکت اور دوڑ دھوپ جاری رہ سکتی ہے، ہمارے سوچنے سمجھنے، سننے دیکھنے، اور انسانی جذبات کے احساس کرنے ، گفتگو و بات چیت، بروقت اعضائے انسانی کی حرکت اور قدرت کے بنائے ہوئے نظام کے تحت ان اعضاء کی حرکت سے انسانی ضرورتوں کی تکمیل وغیرہ سب کی درستگی و کار کردگی دماغ کی درستگی و کار کردگی پر موقوف ہے، دماغ کا وجود اور اس کی صحت و درستگی سارے اعضاء کی کارکردگی کی ضامن ہے، اسی طرح موٹر(CAR)Four whiller چلانے والوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ سیٹ بیلٹس کا استعمال کریں، سیٹ بیلٹس اگر باندھے جائیں تو حادثہ میں اس سے حفاظت کی بڑی حد تک طمانیت مل جاتی ہے، چونکہ یہ بیلٹ جسم کے مضبوط ترین حصوں کو جکڑے رکھتا ہے، جس کی وجہ نقصان و ضرر کا امکان کم ہو جاتا ہے، کسی شدید حادثہ کی وجہ جو بڑا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے وہ اس کی وجہ سے بہت حد تک ٹل سکتا ہے، اور اس میں اکثر اہم جسمانی حصے ضرر و نقصان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
گاڑی چلاتے ہوئے موبائیل فون کے استعمال کو بھی قانون منع کر تا ہے اور یہ قانون انسانوں کے فائدے کے لئے ہے، عام طور پر گاڑی چلاتے ہوئے فون کے استعمال سے کوئی حادثہ ہو سکتا ہے، جو کبھی جسم انسانی کے لئے سخت ضرر کا باعث بن سکتا ہے، تو کبھی یہ حادثہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، موبائیل فون کا استعمال آجکل زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، اس کا روااستعمال تو بڑی حد تک مفید سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس کا غیر ضروری اور نا روااستعمال بہت ہو رہا ہے، جس سے انسانوں کو اور بالخصوص نئی نسل کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے، اوقات کے ضیاع کے ساتھ انسانی و اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں، فون کے ناروا استعمال نے جہاں معاشرے کو بگاڑو فساد کے راستے پر ڈالا ہے، وہیں گاڑی چلاتے ہوئے فون کے استعمال کی وجہ کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں،

دانشمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ فون کا استعمال بقدرضرورت کیا جائے، اور ضرورت کے تحت ہی کیوں نہ ہو drivingکرتے ہوئے فون کے استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ فون پر بات کر نا اگر ناگزیر ہو تب تو گاڑی کو احتیاط کے ساتھ سڑک کے کسی کنارے روک کر فون پر بات کر لی جائے، عام طور پر اپنے آپ پر غیر ضروری اعتماد کر تے ہوئے گاڑی چلاتے ہوئے فون پر بات چیت کا بکثرت مشاہدہ ہے، جو اک طرح سے قانون کی سخت خلاف ورزی بھی ہے اور اپنی جان کو جوکھم میں ڈالنا بھی ہے، سنجیدگی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس قانون کی پوری پابندی کی جائے۔ایک قانونی پابندی یہ بھی ہے کہ گاڑی کو ایک مقررہ رفتار کے ساتھ چلایا جائے مختلف گزر گاہوں پرحکومت کی طرف سے بورڈ آویزاں ہو تے ہیںاور اس پر رفتار کی حد درج ہوتی ہیںظاہر ہے اسی رفتار سے گاڑی چلائی جائے، قواعد و قوانین کی پا بندی سے گریز کر تے ہوئے گاڑی چلاتے ہوئے فون پر بات چیت کر نا یا گاڑی کو مقررہ حد سے زیادہ تیز دوڑانابڑے خطرے کا باعث بن سکتا ہے، سرراہ ایک ہدایت لکھی ہوئی دیکھنے میں آئی جو سب کے لئے باعث توجہ ہے وہ یہ کہ ’’گاڑی چلاتے ہوئے اس بات کا لحاظ رکھیں کہ گھر والے آپ کے منتظر ہیں‘‘ اس ہدایت کا مطلب یہی ہے کہ گاڑی چلاتے ہوئے ہر طرح احتیاط روا رکھی جائے، قواعد و قوانین کی پابندی سے احتیاط کے تقاضے بڑی حد تک پورے ہو جا تے ہیں۔

انسان کے جسمانی اعضاء میں دماغ کا بڑا اہم رول ہے، اور اس کو بادشاہ کی حیثیت حاصل ہے ،اُس کی ہدایات پر ہی انسانی اعضاء حرکت کر تے ہیںاور اس سے انسانوں کی سب ضرورتیں پوری ہو تی ہیں، ایک نفسیاتی بات ہے کہ انسان بیک وقت ایک سے زائد کام انجام نہیں دے سکتا، انسانی دماغ جب کسی اور کام کی طرف مشغول ہو تو اس موقع پر جو کام ہو نے ہیں اُس میں رکاوٹ پیدا ہو، اس لئے ہو سکتا ہے کہ فون پر بات کر تے ہوئے دوسری طرف دماغی مشغولیت کی وجہ جہاں گاڑی کو بریک لگانا ہو یا سامنے والی گاڑی کے ساتھ فاصلہ برقرار رکھنا ہو یا اُس کی رفتار کو حسبِ ضرورت کم یا زیادہ کر نا ہواور یہ اُمور انجام نہ پا سکیں، جس کی وجہ حادثات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

انسانی زندگی اصول و ضوابط کی پابند ہے ، پابند زندگی میں انسان کے لئے راحت ہے آزاد طرز زندگی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے، زندگی کا کوئی گوشہ ہو اسلامی اصولوں کا یا کم از کم نظام قدرت کے فطری اصولوں کا پابند بنالیا جائے تو دنیاوی و اخروی بہت سی مصیبتوں سے انسانیت چھٹکارا پاسکتی ہے، ان اصول و قوانین اور اخلاقی و انسانی ضوابط کو فراموش کر کے آج انسانیت کرب و اضطراب میں ہے، زندگی کے سنہرے اصول بھلا کر زندگی گذارنے سے جہاں بہت سے نقصانات سے معاشرہ دوچار ہے وہیں راستوں، گذرگاہوں کے جو آداب و قوانین اسلام نے دئے ہیں اور شہری قوانین کی وجہ مقرر کئے گئے ہیں، ان سے غفلت و لا پرواہی اس وقت معاشرہ کے لئے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، اس لئے ملکوں اور شہروں میں ان کا خاص لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ انسانوں کے لئے راحت کی سبیل ہو سکے، اور پر سکون ماحول میں راستہ طئے کرتے ہوئے منزل تک باآسانی پہونچنا ممکن ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT