Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / راستہ چلنے کے آداب

راستہ چلنے کے آداب

مولانا مفتی حافظ سید صادق محی الدین فہیم ؔ راستہ چلنے کے آداب

مولانا مفتی حافظ سید صادق محی الدین فہیم ؔ
راستہ چلنے کے آداب
اس کائیناتِ ارضی پر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام و حضرت حوا علیہ السلام کا ورود کیا ہوا کہ انسانی بستیاں بسنا شروع ہوگئیں، جنت سے اس زمین پر اتارے گئے تو یہی دو تھے، لیکن ان کی ذریت بڑھتے بڑھتے سارے کرہ ارض پر اپنا قبضہ جمالی ، اس کرہ ارض کے جمال اور اس کی ندرت میں جہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سجی سجائی کائنات کی نیرنگیاں اس کے حسن میں اضافہ کر رہی ہیں، وہیں انسانوں کے وجود نے بھی اس کرہ ارض کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔

انسان اس کرہ ارض کے باسی ہیں، اس میں رہنے بسنے والے سارے انسان آپس میں بھائی بھائی ہے، خواہ ان کا کوئی مذہب ہو، کسی علاقہ سے ان کا تعلق ہو، اور وہ کسی بھی خاندان و قبیلے سے اپنی نسبت رکھتے ہوں، اس لئے ایک کا درد دوسرے کا درد ہوتا ہے، ایک کا غم دوسرے کا غم بن جاتا ہے، ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی ہوتی ہے، انسانیت کے تقاضے جب پورے ہوتے ہیں، تو کسی سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہونچتی ان بستیوں میں کچھ بستیاں ایسی ہوتی ہیں جو بڑے بڑے شہر کہلاتے ہیں اور کچھ بستیاں چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں جو دیہات اور قصبے کہلاتے ہیں، بستیاں خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی اس میں رہنے بسنے والوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں، کسی اور کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں دوسروں کو دکھ دینے اور ایذا پہونچانے سے بچیں،کسی کو تکلیف دینا اور کسی کی دلآزاری کرنا اور ایذا پہونچانا جب گناہ عظیم ہے تو پھر انسانوں کا ناحق خون بہانا اور انسانی قیمتی جانوں کو بے دریغ ضائع کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا۔اس کو انسانوں نے فراموش کردیا ہے ،اور یہ غیر انسانی تماشہ سارے عالم میں جاری ہے ۔ اس وقت غزہ خون میں نہا رہا ہے ، مصر وشام میں بھی وقفہ وقفہ سے انسانی خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے ،افسوس تو یہ ہے کہ سارا عالم تماشہ دیکھ رہا ہے، پتہ نہیں انسانیت کہاں ہے ،اس وقت درندگی نے کرۂ ارض پرڈیرہ کیوں جمایا ہے آخر اس کے اسباب وعلل کیا ہیں اس پر عالمی سطح پر غور وخوص کی ضرورت ہے ، بلا لحاظ مذہب وملت انسانیت پر یقین رکھنے والوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔

بستیوں میں زندگی گذارنے کے کچھ اصول و قواعد ہوتے ہیں، جن کی وجہ ان میں رہنے والوں کو بڑی راحت ملتی ہے، ان بستیوں میں رہنے والوں کی جہاں اور بڑی ضرورتیں ہوتی ہیں انہیں میں ایک بہت بڑی ضرورت راستوں اور سڑکوں کی تعمیر ہے، جن کے ذریعہ بستیوں میں رہنے والے اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے اپنی منزل تک باآسانی پہونچ پاتے ہیں، انسانوں کے عبور و مرور کا سلسلہ ان راستوں میں جاری رہتا ہے، راستوں سے شہریوں کا اپنی ضروریات ہی کیلئے کیوں نہ ہو گذرنا جہاں ان کی ضرورتوںکو پوری کرتا اور ان کو منزل مقصود تک پہونچنے میں سہولت بہم پہونچاتا ہے وہیں بستیوں کی رونق میں اضافہ کرتا ہے، زندگی کے اور شعبوں میں جہاں زندگی گذارتے ہوئے قواعد و قوانین کی پابندی کرنے اور اس کے آداب کو ملحوظ رکھنے سے راحت ورحمت نصیب ہوتی ہے اور سکون کا ماحول بنتا ہے، وہیں بستی میں رہنے والوں کو یکسوئی حاصل ہوتی ،اور معاشرہ رحمت کا گہوارہ بنتا ہے۔ راستہ چلنا ایک انسانی ضرورت ہے، ظاہر ہے اس میں بھی قواعد و قوانین کی پابندی اور عبور و مرور کے آداب کی رعایت جہاں تسکین خاطر کا سامان بنتی ہے، بلکہ وہیں ماحول کو پرسکون رکھتی ہے۔

اسلام نے زندگی کے سارے شعبوں میں رہنمائی کی ہے، اس شعبہ میں بھی اس کی رہنمائی موجود ہے، راستہ چلنے والے نرم چال چلیں، اکڑ و غرور کی چال نا پسندیدہ اور انسانیت کے مغائر ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ زمین انسانی قدموں کے نیچے بطور فرش کے بچھا دی ہے، یہ خود زمین کی بڑی تواضع ہے، اب جو انسان اس پر چلے تو اس کو بھی متواضع ہونا چاہیئے، قرآن پاک میں اللہ کے نیک بندوں کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ رحمن وہ بندے جو اس کی بندگی میں سچے ہیں وہ زمین پر عاجزی و فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ اور جب بے علم و ناسمجھ لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتے ہوئے سلامتی کے ساتھ گذرجاتے ہیں۔(۲۵/۶۳) یعنی اللہ کے نیک اور سچے انسانوں کی پہچان یہی ہے کہ ان کی چال متواضعانہ ہوتی ہے، اثنائے راہ کبھی کسی بے علم اور نادان و ناسمجھ انسان سے سابقہ پڑ جاتا ہے تو وہ اس سے الجھتے نہیں بلکہ عمدہ تدبیراختیار کرکے بہتر اندازسے اپنے آپ کو ضرر سے بچا لیتے ہیں۔
زندگی کی اس شاہراہ پر احتیاط سے گذرنے والے انسانوں کو بشرط ایمان یہ سعادت نصیب ہو جاتی ہے کہ وہ انشاء اللہ اخروی شاہراہ پر بھی باآسانی گذر پائیں گے ۔ متواضعانہ چال ڈھال جہاں پسندیدہ ہے وہیں غرور و تکبر اللہ کو سخت ناپسند ہے، ارشاد ہے کہ تم زمین پر اکڑ کر مت چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی طولانی و درازی میں پہاڑوں کی بلندی کو سر کرسکتے ہو، (۱۷/۳۷)۔
اسلام نے راستوں کے بڑے آداب بتائے ہیں بلا وجہ راستہ گھیر لینا یا اس میں ایسی رکاوٹ پیدا کرنا کہ جس سے گذرنے والوں کو تکلیف ہو بلا وجہ راستوں کے کناروں پر بیٹھ کر راستوں کو تنگ کرنا، راستوں پر یا اس کے کناروں پر جہاں سے انسانوں کا گذر ہوتا ہے وہاں بول و براز کرنا درست نہیں ہے۔ راستوں میں چلتے ہوئے یا سر راہ کہیں بیٹھنا ضروری ہوگیا ہو تو نگاہوں کی حفاظت ضروری ہو جاتی ہے، یہ بھی کہ کسی کو ہمارے چلنے سے کوئی تکلیف نہ ہو، سلام بھی ایک حق ہے کہ چلتے پھرتے راستوں میں ضرور سلام کا اہتمام رکھیں ، ضرورت داعی ہو تو معروف کا حکم دینا اور منکرات سے روکنا بھی راستہ کا ایک حق ہے،(زجاجۃ المصابیح ۴/۷)۔

جناب محمد رضی الدین معظم
بچوں کی ضد و شرارت کا علاج
بچے جب بھی ضد اور شرارت کریں تو بیزار نہ ہوں اور نہ ہی ان پر سختی کریں، بلکہ درج ذیل اذکار پر عمل کریں، انشاء اللہ تعالیٰ فائدہ ہوگا۔
٭ کسی بھی وقت بچے کو گود میں لے کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بچے کی پیشانی پر اپنا داہنا (سیدھا) ہاتھ رکھ کر ’’یاشھید‘‘ گیارہ بار پڑھیں اور پھر بچے پر دم کریں۔
٭ خالی گلاس میں ’’یامقیت‘‘ ۲۱ بار پڑھ کر دم کریں اور پھر اس میں پانی ڈال کر پلائیں، انشاء اللہ تعالیٰ فائدہ ہوگا۔
٭ سورہ احقاف کی آیت ۱۵ ’’واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین‘‘ ہر نماز کے بعد گیارہ بار پڑھ کر ضد یا شرارت کرنے والے بچے کا نام لے کر دعا کریں، انشاء اللہ تعالیٰ کچھ ہی دنوں میں بچے کی ضد اور شرارت ختم ہو جائے گی۔

ظاہر ہے سڑکیں یا راستے انسانوں کی گذرگاہ ہوتے ہیں، جو ان کے عبور و مرور میں سہولت کی غرض سے بنائے جاتے ہیں، بسا اوقات راستے پر چلنے والا اپنی کسی شدید ضرورت کی بناء جلد از جلد راستہ طئے کرنے اور اپنی منزل تک بعجلت ممکنہ پہونچنے کی حاجت رکھتا ہے، کہیں کوئی مریض دواخانہ پہونچنے کا یا کوئی حاملہ کو جلد از جلد دواخانہ پہونچائے جانے کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے، یہ بھی کہ کسی کو سفر درپیش ہو اور وہ ٹرین، موٹر، یا ہوائی جہاز کے مقررہ وقت تک اس کو اپنی منزل تک پہونچ جانا ضروری ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے سماج کے بعض غیر ضروری رواجات کی بناء راستوں میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، کبھی جلسہ و جلوس کے عنوان سے اور کبھی ریالیوں کی وجہ سے راستے جام ہو جاتے ہیں، خوشی و غم کے بعض مواقع بھی بسا اوقات راستوں میں مصیبت کھڑی کر دیتے ہیں، خاص طور پر شادی بیاہ کے موقع پر بیانڈ باجہ، اور آتشبازی کے ساتھ راستوں میں کرتب بازی کے مظاہرے بڑی دیر تک راستوں کو روک دیتے ہیں، بہت ممکن ہے کہ ایک مریض دواخانہ پہونچنے سے پہلے راستے ہی میں دم توڑ دے، یا کسی حاملہ کا اثنائے راہ ہی حمل وضع ہو جائے اور اسے اس وقت وہ مطلوب راحت میسر نہ آسکے، جو قبل از قبل دواخانہ پہونچنے کی وجہ سے ممکن تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ ان رکاوٹوں کی وجہ سے ایک مسافر مقررہ وقت تک مطلوبہ مقام تک نہ پہونچ سکے، جس کی وجہ اس کی سواری وقت مقررہ پر منزل کی طرف چل پڑی ہو، خوشی کے مواقع پر راستوں میں ساز و آواز کے ساتھ آتشبازی کا مظاہرہ بجائے خود بڑا اسراف اور جرم و گناہ ہے، اس کی وجہ ماحول صوتی آلودگی کا شکار ہو جاتا ہے، اطراف و اکناف میں رہنے والے کتنے ہی انسان بے حال ہو جاتے ہیں، اور کتنے ہی مریضوں اور ضعیفوں کیلئے یہ مظاہرے سوہان روح ثابت ہوتے ہیں، طبی تحقیق کے مطابق اس کے مضر اثرات بچوں کے اعضاء ریئسہ پر مرتب ہوتے ہیں، بہت ممکن ہے کہ ان کی سماعت متاثر ہو ، یا دل و دماغ پر اس کے برے اثرات مرتب ہوں، اس کے ساتھ نوجوانوں کی کرتب بازی یہ بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ، اس کی وجہ جہاں راہگیروں کو دشواری ہوتی ہے وہیں ان نوجوانوں کی زندگی اور اس کے قیمتی لمحات دائو پر لگ جاتے ہیں، کون ہے جو ان نوجوانوں کو اچھے مقصد کی طرف بلا سکے، اور ان کی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع ہونے سے بچا سکے، جو توانائیاں ان کی ناپسندیدہ مظاہروں میں صرف ہو رہی ہیں وہی اگر کسی بامقصد کام میں لگ سکیں تو ملک و ملت کو اس کا کتنا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، اور ان لا یعنی امور میں جہاں ان کی زندگی تباہ ہو رہی ہے وہیں ان کے ماں باپ افراد خاندان کے لئے ان کے یہ اعمال رسوائی کا باعث بھی بن رہے ہیں اور ان کے لئے روحانی کوفت، دل شکستگی ذہنی کوفت و تکلیف کا ماحول بنا رہے ہیں، ملک و ملت کو جو امیدیں ان نوجوانوں سے وابستہ ہیں اس کا خون ہو رہاہے، ان ساری خرابیوں کے ساتھ ایک بہت بڑی خرابی جو خوشی و غم کے مواقع پر مظاہروں کے ذریعہ سے محسوس کی جارہی ہے، وہ ٹریفک کا شدید خلل ہے،آبادی کی کثرت اور سڑکوں کی عدم وسعت کی بناء ان مظاہروں نے مزید دل آزارانہ صورت حال پیدا کر دی ہے، لایعنی امور کی انجام دہی خود بہت بڑا جرم ہے، اس کے ساتھ راستوں میں لایعنی اعمال و اشغال اختیار کر کے راستوں میں رکاوٹ پیدا کرنا اس جرم کی شدت میں اور اضافہ کر دیتا ہے، شہروں میں رہنے بسنے والے انسان خواہ وہ کسی مذہب پر عمل پیرا ہوں ان سب کی ذمہ داری ہے کہ انسانی آداب و اخلاق کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے گذرگاہوں میں دشواری ہو اور راستہ چلنے والوں کیلئے مشکلات پیدا ہوں، ایمان والوں پر تو یہ ذمہ داری اور زیادہ بڑھ کر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کے منع کئے ہوئے طور طریق سے اپنے آپ کو باز رکھیں، راستوں میں کسی بھی عنوان سے کوئی رکاوٹ نہ پیدا کریں، راستہ چلنے کے جو اسلامی آداب وہ احکام ہیں اس کی ہمیشہ پاسداری کریں۔
۔۔۔
راستہ چلنے یا سڑکوں کو استعمال کرنے کے کچھ آداب و قوانین تو وہ ہیں جو اسلام نے بیان کئے ہیں، اور کچھ وہ ضوابط و قواعد ہوتے ہیں جو ملکی کہلاتے ہیں، یعنی مختلف شہروں اور بستیوں میں حسب ضرورت قواعد مقرر کرلئے جاتے ہیں، جس سے مقصود راستہ چلنے والوں کو تحفظ فرماہم کرنا اور نقصان سے بچانا ہوتا ہے، ایسے قواعد و ضوابط جو انسانی سماج کو پیش نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں ان میں حالات کے بدلنے سے تبدیلی آسکتی ہے، اکثر شہروں میں کچھ نشانات راستوں میں بطورِ اشارہ لکھے جاتے ہیں، ان اشاروں کی مختلف مرادات ہوتی ہیں جس کو ٹریفک کا نظم چلانے والے متعین کرتے ہیں، ان سے واقفیت بھی راستہ چلنے میں ممد و معاون ہوتی ہے، جس سے راستہ چلنے والا خود ضرر سے محفوظ رہتا ہے، اور دوسروں کو بھی اس کی ذات سے کوئی نقصان نہیں پہونچتا۔اسی طرح اکثر شاہراہوں پر آنے اور جانے کے راستے الگ الگ متعین ہوتے ہیں، ان کی پابندی بھی حادثات کی روک تھام میں مدد گار ہوتی ہے، اکثر چوراہوں پر اشارے کیلئے سرخ اور ہری بتیاں جلائی جاتی ہیں، جس کو سگنلس کہا جاتا ہے، سرخ روشنی رکنے کے اشارے کے لئے رکھی گئی ہے، اور ہری روشنی اشارہ دیتی ہے کہ اب سرخ روشنی کی وجہ رکے ہوئے راہرو آگے بڑھ سکتے ہیں، بعض بڑے چوراہوں پر اس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، ان اشاروں کے مطابق سڑکوں پر اپنا سفر جاری رکھنے والے خود بھی حادثے سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں، اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
ہمارے شہروں میں عام طور پر موٹر سیکل کا رواج زیادہ ہے، کبھی کوئی حادثہ ہو جائے تو اور سواریوں کے مقابل اس سواری میں نقصان کے امکانات زیادہ رہتے ہیں، اس لئے ٹرافک کے انتظامات دیکھنے والے حکومت کے ذمہ دار سیکل موٹرTwo Whiller چلانے والوں کو ہیلمٹHelmet پہننے کا مشورہ دیتے ہیں ، ہیلمٹ کا استعمال اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو حفاظت کا وہ ایک بہت بڑا ہتھیار ہے، خدانخواستہ اگر سیکل موٹر چلانے والا کسی وجہ سے گرپڑے تو سر محفوظ رہ سکتا ہے، اور اس کو کوئی چوٹ نہیں آسکتی، دماغ ایک اللہ کی نعمت ہے جو سر کے ایک بڑے خول کے اندر محفوظ ہے، ہیلمٹ کا پہن لینا سر کو چوٹ لگنے سے بہت حد تک بچاتا ہے، جس سے دماغ پر کوئی ضرب نہیں پڑتی، اور وہ محفوظ رہتا ہے، وجہ یہ ہے کہ ہیلمٹ ایک مضبوط خول کی شکل میں سرپر بندھا ہوتا ہے، گرپڑنے سے جب کوئی شدید چوٹ پڑتی ہے تو وہ ہیلمٹ اس کو اپنے اوپر سہار لیتا ہے، اور اس کو سر تک پہونچنے سے محفوظ رکھتا ہے، اگر ہیلمٹ کا صحیح ڈھنگ سے استعمال کر لیا جائے توامکان ہے کہ اس سے سرکو اسی فیصد تک حفاظت کی طمانیت حاصل ہو جاتی ہے، اور تقریباً نود فیصد سے زیادہ تک دماغ کی حفاظت کو بھی یہ ہیلمٹ ممکن بنا دیتا ہے، سر کی حفاظت اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس میں محفوظ دماغ کا ہماری زندگی میں بڑا رول ہے، وہ صحیح و سلامت ہو تو ایک زندہ انسان کی حرکت اور دوڑ دھوپ جاری رہ سکتی ہے، ہمارے سوچنے سمجھنے، سننے دیکھنے، اور انسانی جذبات کے احساس کرنے ، گفتگو و بات چیت، بروقت اعضائے انسانی کی حرکت اور قدرت کے بنائے ہوئے نظام کے تحت ان اعضاء کی حرکت سے انسانی ضرورتوں کی تکمیل وغیرہ سب کی درستگی و کار کردگی دماغ کی درستگی و کار کردگی پر موقوف ہے، دماغ کا وجود اور اس کی صحت و درستگی سارے اعضاء کی کارکردگی کی ضامن ہے، اسی طرح موٹر(CAR)Four whiller چلانے والوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ سیٹ بیلٹس کا استعمال کریں، سیٹ بیلٹس اگر باندھے جائیں تو حادثہ میں اس سے حفاظت کی بڑی حد تک طمانیت مل جاتی ہے، چونکہ یہ بیلٹ جسم کے مضبوط ترین حصوں کو جکڑے رکھتا ہے، جس کی وجہ نقصان و ضرر کا امکان کم ہو جاتا ہے، کسی شدید حادثہ کی وجہ جو بڑا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے وہ اس کی وجہ سے بہت حد تک ٹل سکتا ہے، اور اس میں اکثر اہم جسمانی حصے ضرر و نقصان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
انسانی زندگی اصول و ضوابط کی پابند ہے ، پابند زندگی میں انسان کے لئے راحت ہے آزاد طرز زندگی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے، زندگی کا کوئی گوشہ ہو اسلامی اصولوں کا یا کم از کم نظام قدرت کے فطری اصولوں کا پابند بنالیا جائے تو دنیاوی و اخروی بہت سی مصیبتوں سے انسانیت چھٹکارا پاسکتی ہے، ان اصول و قوانین اور اخلاقی و انسانی ضوابط کو فراموش کر کے آج انسانیت کرب و اضطراب میں ہے، زندگی کے سنہرے اصول بھلا کر زندگی گذارنے سے جہاں بہت سے نقصانات سے معاشرہ دوچار ہے وہیں راستوں، گذرگاہوں کے جو آداب و قوانین اسلام نے دئے ہیں اور شہری قوانین کی وجہ مقرر کئے گئے ہیں، ان سے غفلت و لا پرواہی اس وقت معاشرہ کے لئے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، اس لئے ملکوں اور شہروں میں ان کا خاص لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ انسانوں کے لئے راحت کی سبیل ہو سکے، اور پر سکون ماحول میں راستہ طئے کرتے ہوئے منزل تک باآسانی پہونچنا ممکن ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT