Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / راشن دکانات کے غیر معینہ اوقات سے صارفین کو مشکلات

راشن دکانات کے غیر معینہ اوقات سے صارفین کو مشکلات

حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے راشن شاپس کے اوقات کار میں خدمات کی عدم انجام دہی سے عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے منظورہ ارزاں فروشی کی دکانات کی جانب سے وقت کی پابندی نہ کئے جانے کے سبب عوام میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں عوام کی قطاریں ار

حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے راشن شاپس کے اوقات کار میں خدمات کی عدم انجام دہی سے عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے منظورہ ارزاں فروشی کی دکانات کی جانب سے وقت کی پابندی نہ کئے جانے کے سبب عوام میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں عوام کی قطاریں ارزاں فروشی کی دکانوں پر نظر آتی ہیں لیکن کئی گھنٹے تک یہ دکانیں کھلتی ہی نہیں ہیں اور جب چند گھنٹوں کے لیے کھلتی ہیں تو درکار اشیاء نہ ہونے کے بہانے کئے جانے لگتے ہیں ۔ارزاں فروشی کی دکانات کے مالکین کا استدلال ہے کہ عوام ان فئیر پرائس شاپس کا بہت کم رخ کررہے ہیں ۔ اسی لیے دکانات بند رکھنی پڑ رہی ہیں جب کہ صارفین کا دعویٰ ہے کہ وہ جب کبھی دکان کا رخ کرتے ہیں اشیائے ضروریہ کی عدم موجودگی کا بہانہ کردیا جاتا ہے اور جب فروخت کی اشیاء پہنچنے کی اطلاع عام ہوتی ہے تو دکانوں پر آج بھی لوگ تیل ، شکر اور چاول کے لیے قطار در قطار کھڑے ہوتے ہیں اور گھنٹوں انتظار کے بعد ان کی باری آتی ہے ۔ پرانے شہر کے کئی ایسے علاقہ ہیں جہاں پر آج بھی فئیر پرائس شاپ پر قطاریں لگی ہوتی ہیں جہاں سے محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے راشن کارڈ گیرندوں کو اشیائے ضروریہ فروخت کی جاتی ہیں عوام کا یہ الزام ہے کہ فئیر پرائس شاپس مالکین کی من مانی کے سبب بیشتر لوگ رعایتی قیمتوں پر حاصل ہونے والے اناج سے محروم ہورہے ہیں لیکن فئیر پرائس شاپس کے مالکین بھی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے انہیں درکار اسٹاک روانہ کیا جارہا ہے ۔

لیکن اجناس کے معیاری نہ ہونے کے سبب صارفین راشن شاپ کا رخ بھی نہیں کررہے ہیں ۔ شہر کے بعض نواحی علاقوں میں عوام آج بھی کیروسین اور چاول کے حصول کے لیے قطاروں میں ٹھہرتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ صارفین کے بموجب ان کے اجناس جو حکومت کی جانب سے انہیں مہیا کروائے جارہے ہیں اور وہ اسے خریدتے ہیں وہ بھی حاصل کرنے کے لیے انہیں ارزاں فروشی کے دکانات کے مالکین کے احسان مند ہونا ہوتا ہے چونکہ بعض مقامات پر ارزاں فروشی کے دکانات مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی بمشکل ایک ہفتہ کھلی رہتی ہیں اور وہ بھی مخصوص اوقات میں لیکن ان اوقات میں عوام کی لمبی قطاریں دشواریوں کا سبب بنتی ہیں ۔ حکومت سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو راشن کارڈ پر جو اشیاء فراہم کررہی ہے اگرچہ اس میں بھی کٹوتی کیے جانے کی شکایات عام ہیں لیکن شہر کے نواحی علاقوں میں ہونے کے باعث ان غریب عوام کے مسائل پر کوئی توجہ مبذول نہیں کی جارہی ہے۔ ارزاں فروشی کی دکانات کے مالکین نے بتایا کہ شہر کے گنجان آبادی والے علاقوں میں اب فئیر پرائس شاپ یا کیروسین شاپ کا کلچر ہی ختم ہوتاجارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT