Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / راشن شاپ ڈیلرس کی ہڑتال کو روکنے ڈیلرس کے کمیشن میں اضافہ ممکن

راشن شاپ ڈیلرس کی ہڑتال کو روکنے ڈیلرس کے کمیشن میں اضافہ ممکن

حکومت سے کسی بھی وقت اعلان متوقع ، محکمہ سیول سپلائز کے رویہ پر ڈیلرس کی ناراضگی
حیدرآباد۔یکم۔جنوری(سیا ست نیوز) حکومت راشن شاپ ڈیلر س کی جانب سے مجوزہ ہڑتال کو روکنے کیلئے انہیں فراہم کئے جانے والے کمیشن میں اضافہ کے متعلق فیصلہ کرسکتی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ ماہ کے دوران حکومت کی جانب سے کسی بھی وقت اس سلسلہ میں اعلان کیا جاسکتا ہے ۔راشن شاپ ڈیلرس کی جانب سے عرصہ دراز سے اس بات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں فراہم کئے جانے والے کمیشن میں فوری اضافہ کیا جائے اور راشن شاپ ڈیلرس کی جانب سے کمیشن میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا جاچکا ہے اورسال 2018کے دوران کمیشن میں اضافہ نہ کئے جانے کی صورت میں احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔راشن شاپ ڈیلرس کا کہناہے کہ انہیں ایک کیلو چاول کی فروخت پر صرف 20پیسہ کمیشن دیا جا رہا ہے جبکہ نیشنل فوڈ سیکیوریٹی ایکٹ کے مطابق انہیں 70پیسے کمیشن دیا جانا چاہئے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیاجاتا رہاہے ۔ریاست میں زائد از 25ہزار راشن شاپ ڈیلرس ہیں جنہوں نے حکومت کی اس پالیسی کے خلاف احتجاج کی شروعات کا اعلان کیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے E-Pos نظام متعارف کرواتے ہوئے سالانہ 825کروڑ روپئے بچانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن اس کے بعد بھی راشن شاپ ڈیلر س کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہے۔اس کے علاوہ راشن شاپ ڈیلر س کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے ان راشن شاپ ڈیلرس کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے جو اسٹاک رکھنے میں ناکام ہوتے ہیں لیکن ان کے اسٹاک رکھنے کے عوض انہیں کمیشن کیا حاصل ہو رہاہے اس کا محکمہ کی جانب سے جائزہ نہیں لیا جا رہاہے۔محکمہ کے اعلی عہدیداروں کا کہناہے کہ اگر راشن شاپ ڈیلر س کے کمیشن میں اضافہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں محکمہ پر کوئی بوجھ عائد نہیں ہوگا بلکہ اگر نیشنل فوڈ سیکیوریٹی ایکٹ کے مطابق بھی کمیشن کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صور ت میں 105 کروڑ روپئے تک درکار ہوں گے ۔جس میں ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کا بھی حصہ ہوگا جس کے ذریعہ راشن شاپ ڈیلرس کے کمیشن میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ جاریہ ماہ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT