Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / راشن کارڈس کی برخاستگی سے عوام تشویش کا شکار

راشن کارڈس کی برخاستگی سے عوام تشویش کا شکار

سرکاری دفاتر پر بروکرس کا راج ، ضلع انتظامیہ کی تفصیلات ندارد

سرکاری دفاتر پر بروکرس کا راج ، ضلع انتظامیہ کی تفصیلات ندارد
حیدرآباد۔ 13 اکتوبر (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں راشن کارڈس کی برخاستگی اور فوڈ سکیورٹی کارڈس کے اعلان کے ساتھ ہی عوام میں نئی بے چینی کی لہر دوڑ چکی ہے۔ عوام کی جانب سے راشن کارڈ کی برخاستگی کے متعلق متعدد سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور حکومت کی جانب سے فوڈ سکیورٹی کارڈس کی اجرائی کے اعلان کے ساتھ ہی سرکاری دفاتر کے اطراف ڈیرہ ڈالے ہوئے درمیانی افراد سرگرم ہوچکے ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے فوڈ سکیورٹی کارڈس کی اجرائی کے متعلق یہ واضح کیا ہے کہ ان کارڈس کے حصول کیلئے شہریوں کو صرف سفید کاغذ پر درخواست تحریر کرتے ہوئے آدھار کارڈ کی نقل کے ساتھ راشن شاپ پر جمع کروانا ہوگا اور محکمہ مال و سیول سپلائیز کی جانب سے درخواستوں کی تنقیح کے بعد فوڈ سکیورٹی کارڈ کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست بھر میں سفید کارڈ کے متبادل کے طور پر فوڈ سکیورٹی کارڈس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن تاحال اس سلسلے میں رہنمایانہ خطوط کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ حکومت نے رہنمایانہ خطوط جاری کئے بغیر جو فیصلہ کیا ہے، اس سے عہدیدار خود مختلف سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہیں۔ ابتداء میں سرکاری طور پر اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت تلنگانہ کے ہر شہری کو راشن کارڈ کا متبادل کارڈ فراہم کرے گی جوکہ راشن کارڈ کے مقاصد کی تکمیل کرے گا، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ سفید اور گلابی راشن کارڈ کی تفریق ختم کرتے ہوئے یکساں راشن کارڈس کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی، لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ جو لوگ گلابی راشن کارڈس رکھتے ہیں، آیا وہ فوڈ سکیورٹی کارڈ کے حصول کے لئے درخواست کے ادخال کے اہل ہیں یا نہیں۔ اسی طرح اس بات کی بھی وضاحت موجود نہیں ہے کہ کس حد تک کی آمدنی والوں کیلئے فوڈ سکیورٹی کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ فوڈ سکیورٹی کارڈ کی اجرائی کے اعلان کے ساتھ ہی بیشتر راشن شاپس کے قریب عوام کا اژدھام دیکھا جارہا ہے جو درخواستیں داخل کرنے کے لئے پہنچ رہے ہیں لیکن ان درخواستوں کے ادخال کے لئے راشن شاپس کے اطراف درمیانی افراد کاؤنٹرس لگائے فارمس فروخت کررہے ہیں جبکہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ فوڈ سکیورٹی کارڈ کیلئے کوئی درخواست فارم ضروری نہیں ہے بلکہ درخواست گزار سادہ کاغذ پر درخواست تحریر کرتے ہوئے اپنا ایل پی جی گیاس کنکشن نمبر، آدھار نمبر کی تفصیلات کے ساتھ راشن شاپ پر جمع کرواسکتے ہیں۔ عہدیداروں کی جانب سے واضح طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت نے 20 اکتوبر درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ مقرر کی ہے لیکن تاحال رہنمایانہ خطوط کی اجرائی عمل میں نہیں آئی ہے اسی لئے اب تک یہ کہا جارہا ہے کہ شہریان تلنگانہ فوڈ سکیورٹی کارڈ کیلئے درخواست داخل کریں تاکہ مستقبل میں انہیں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ محکمہ مال کے عہدیداروں کے بموجب ایف ایس سی کارڈ کی اجرائی میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے کروائے گئے جامع سروے سے بھی مدد حاصل کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT