Tuesday , December 18 2018

راشن کارڈ گیرندوں کے اشیاء کے عدم حصول پر حکومت کو 490 کروڑ کا فائدہ

اسکیمات سے راشن کارڈ کو مربوط کرنے کا وعدہ، عمل ندارد، محکمہ سیول سپلائز خسارہ کا شکار

حیدرآباد۔31ڈسمبر(سیاست نیوز) راشن کارڈ کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی فلاح و بہبود کی اسکیمات سے غیر مربوط کرنے کی صور ت میں محکمہ سیول سپلائز کو 400 کروڑ تک کی بچت ہوگی اور اخراجات میں کمی واقع ہوگی۔ ریاست تلنگانہ میں 15 فیصد راشن کارڈ گیرندے ایسے ہیں جو راشن کی دکانات سے سربراہ کی جانے والی اشیائے خورد و نوش نہیں حاصل کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس راشن کارڈ کی موجودگی کے سبب محکمہ سیول سپلائز کے بجٹ میں تخفیف کرنا حکومت کے لئے مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آروگیہ شری‘ کے علاوہ دیگر فلاحی اسکیمات کیلئے راشن کارڈ کے لزوم کے سبب عوام کو جاری کئے گئے راشن کارڈس کی تنسیخ نہیں کی جا رہی ہے حکومت کی جانب سے راشن نہ لینے والے راشن کارڈ کی تنسیخ کرتے ہوئے اس کی جگہ آدھار یا دیگر شناختی کارڈ کے ذریعہ فلاحی اسکیمات کو مربوط کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں محکمہ سیول سپلائز پر عائد ہونے والے بوجھ میں کمی آئے گی۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست میں ایسے 85.36 راشن کارڈ گیرندوں کی شناخت کی گئی ہے جو کہ راشن کی دکانات سے سربراہ کئے جانے والے اشیاء خرید ہی نہیں رہے ہیں ۔ اس نشاندہی کے بعد محکمہ سیول سپلائز کو 490کروڑ کا فائدہ ہوا ہے وار سال 2017-18کے دوران توقع کی جا رہی ہے کہ 828کروڑ کی بچت ممکن بنائی جا سکے گی۔ محکمہ کے ذرائع کے مطابق ریاست میں 50سے 55فیصد ایسے کارڈ گیرندے ہیں جو راشن شاپس کی جانب سے سربراہ کئے جانے والے اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جبکہ 30تا35 فیصد افراد ایسے ہیں جو راشن کی دکان کے ذریعہ سربراہ کئے جانے والے 1روپیہ کیلو چاول کی خریدی کرتے ہیں لیکن اس چاول کو دیہی علاقو ںمیں 12گنا زیادہ قیمت میں فروخت کردیا جاتا ہے جو کہ کالا بازاری کے ذریعہ دوبارہ بازار میں پہنچ رہا ہے۔ ریاستی وزیر فینانس و سیول سپلائز مسٹر ای راجندر نے اعلان کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی دیگر اسکیمات سے راشن کارڈ کو غیر مربوط کیا جائے گا تاکہ راشن کارڈ کا مقصد صرف راشن کی سربراہی تک محدود ہوجائے اور جنہیں سبسیڈی والے راشن کی ضرورت ہے ان کے کارڈ ہی باقی رکھے جائیں۔ وزیر کے اس اعلان کے باوجود اب تک اس سلسلہ میں کوئی سرکاری احکامات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کے سبب محکمہ سیول سپلائز کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT