راشن کے چاول کی ری سائیکلنگ کرنے والوں پر گہری نظر

متحدہ ضلع کریم نگر، سرسلہ، جگتیال ، اور پداپلی میں کاروبار عروج پر

کریم نگر۔ 22 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) فیر پرائس شاپس کے ذریعہ غریبوں کو رعایتی قیمت پر سربراہ کئے جانے والے چاول خرید کر انہیں ری سائیکلنگ یعنی باریک کرکے زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کا کاروبار کرنے والے رائس ملرس پر پی ڈی ایکٹ کا استعمال کئے جانے کیلئے منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ متحدہ ضلع کریم نگر میں تاحال اسپیشل ٹاسک فورس ٹیم مسلسل ایک ماہ سے تنقیح کرتی چلی آرہی ہے۔ شمالی تلنگانہ اضلاع سے راشن کے چاول حاصل کرلئے جاکر ری سائیکلنگ کرکے دیگر ریاستوں کو روانہ کیا جارہا ہے۔ اس میں اہم حصہ جگتیال کے ہنومان سائی ٹریڈرس کا مالک کونڈا لکشمن پر پچھلے دن پی ڈی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ سیول سپلائیز محکمہ کمشنر سی وی آنند نے بتایا کہ کریم نگر، سرسلہ پداپلی ضلع میں کسم ملنگ چاول کی بدعنوانیاں، راشن چاول کی ری سائیکلنگ پر ٹاسک فورس ٹیموں کی جانب سے مسلسل تنقیح کی جانے کی وجہ سے غیرمجاز کاروبار میں ملوث بیوپاریوں میں سنسنی پھیل چکی ہے۔ اس طرح کے کاروبار کے تعلق سے ملی رپورٹ پر سیول سپلائیز کمشنر سی وی آنند نے جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ متحدہ ضلع میں کریم نگر، سرسلہ، جگتیال، پداپلی میں یہ کاروبار زوروں پر ہے۔ ٹاسک فورس ٹیم تنقیح جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ یہی چاول ، رائس ملرس سیول سپلائز کو فروخت کررہے ہیں۔ سرسلہ ضلع میں غیرمعیاری چاول سیول سپلائز کو سربراہ کئے جانے پر شور شرابہ ہوچکا ہے۔ حکومت کے قاعدے کے مطابق 10% سے زائد چاول میں کنکی نہ ہو، مگر چاول میں 35% کنکی پائی جارہی ہے۔ تنقیح کئے جانے پر پتہ چلاکہ ایک لاری میں 400 تا 500 تھیلے چاول بھیج کر اس میں نصف چاول ری سائیکلنگ ملائے جارہے ہیں۔ اے سی کے نمبر 131، 136، 137، 147، 153، 165 میں 1080 تھیلے اسی طرح پکڑے گئے۔ اسی طرح سرسلہ میں 11 ہزار تھیلوں میں 35% ٹوٹے ہوئے کنکی دار چاول پائے گئے۔ اس طرح بدعنوانیاں عام ہوچکی ہیں۔ راشن سے سربراہ کئے جانے والے چاول کو تبدیل کرکے گوداموں میں محفوظ کئے جانے کی خبر پر اب گوداموں پر بھی دھاوے شروع کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT