Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / راشٹرپتی بھون اور پارلیمنٹ بھی غلامی کی علامتیں

راشٹرپتی بھون اور پارلیمنٹ بھی غلامی کی علامتیں

تاج محل پر سنگیت سوم کے ریمارکس پر اعظم خاں کا تبصرہ
رامپور 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اعظم خاں نے کہا ہے کہ راشٹرپتی بھون، پارلیمنٹ ہاؤز اور لال قلعہ کو بھی منہدم کردیا جانا چاہئے کیوں کہ تاج محل کی طرح یہ تمام تاریخی عمارتیں بھی ’’غلامی کی علامتیں‘‘ ہیں۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی سنگیت سوم کی طرف سے ہندوستانی ورثے میں تاج محل کو جگہ دینے پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ مغل شہنشاہوں کا نام مٹانے کے لئے تاریخ دوبارہ لکھی جائے گی۔ سنگیت سوم کے ان ریمارکس کے جواب میں اعظم خاں نے اپنے تبصرہ میں مزید کہاکہ ’’ہمیشہ ہی یہ میرا نظریہ رہا ہے کہ غلامی کی علامات مٹادی جائیں، لیکن صرف تاج محل ہی کیوں؟ پارلیمنٹ، راشٹرپتی بھون، قطب مینار اور لال قلعہ کیوں نہیں؟ یہ تمام ہی غلامی کی علامتیں ہیں‘‘۔ اعظم خاں نے مزید کہاکہ بی جے پی اور سوم اگر تاج محل کو ہندوستانی ورثہ کی حیثیت سے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر بی جے پی کے اس رکن اسمبلی (سنگیت سوم) کو وزیراعظم اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ان یادگاروں کے انہدام کے لئے آگے آنا چاہئے۔ اعظم خاں نے بی جے پی قائدین پر اپنے قول کی پابندی نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT