Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / رافیل سودے پر کانگریس قائدین کی سی اے جی سے ملاقات

رافیل سودے پر کانگریس قائدین کی سی اے جی سے ملاقات

عاجلانہ رپورٹ کا مطالبہ، ناقص معلومات والی کانگریس کے اطمینان کے لیے تحقیقات ناممکن: حکومت

نئی دہلی۔19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سینئر کانگریس قائدین کے ایک وفد نے رافیل لڑاکہ طیارہ سودے پر سی اے جی سے ملاقات کی اور آڈیٹر سے مطالبہ کیا کہ مبینہ بے قاعدگیوں کی رپورٹ جلد از جلد تیار کی جائے۔ کانگریس کے وفد نے ایک یادداشت سی اے جی کے سپرد کی اور کہا کہ اسے امید ہے کہ رافیل سودے کی رپورٹ برسر عام آجانے پر صداقت غالب آجائے گی۔ سینئر کانگریس قائد آنند شرما نے سی اے جی سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے حکومت کی رافیل سودے میں کوتاہیوں اور خامیوں کے بارے میں ایک تفصیلی یادداشت منسلکات کے ساتھ بے قاعدگیوں کے بارے میں پیش کی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ سی اے جی ایک رپورٹ جلد از جلد تیار کرے گی اور اسے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ کانگریس کے ترجمان اعلی رندیپ سرجے والا نے کہا کہ تمام حقائق اور ثبوت رافیل سودے کے بارے میں سی اے جی کو پیش کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سی اے جی کے سامنے وضاحت کی کہ کس طرح ہندوستان ایروناٹک لمیٹیڈ کو اس سودے سے استفادہ کرنے والوں کی فہرست سے حذف کردیا گیا اور اسے ایک خانگی کمپنی قرار دیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ سی اے جی اپنی رپورٹ جلد از جلد دے گی۔ سی اے جی نے ہم کو تیقن دیا ہے کہ وہ پہلے ہی سے اس سودے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور کانگریس توقع کرتی ہے کہ جب سودے کی رپورٹ عوام کے سامنے آئے گی تو حقیقی اسکام کا پتہ چل جائے گا اور صداقت غالب آجائے گی۔ کانگریس نے حکومت پر رافیل سودے کے لیے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کو ایک بڑا انتخابی مسئلہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے جو اہم ریاستوں میں جاریہ سال کے اواخر میں مقرر ہیں، اور 2019ء کے عام انتخابات میں بنائے گی۔ دریں اثناء مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے اس اطلاع کو مسترد کردیا کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی ناقص اطلاعات رکھنے والی اپوزیشن پارٹی کو مطمئن کرنے کے لیے قائم نہیں کی جاسکتی۔ یہ اپوزیشن پارٹی جھوٹی باتوں کا اعادہ کرتی رہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی کو کئی سوالوں کا جواب دینا ہے کیوں کہ انہوں نے سرکاری شعبہ کی ہندوستان ایروناٹک لمیٹیڈ کو جو فرانس کے ساتھ رافیل جیٹ طیاروں کے سلسلہ میں مسابقت کررہی تھی، مقابلہ سے خارج کردیا۔ حالانکہ وہ 8 سال کے لیے اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے واضح تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ جے پی سی یا سی اے جی کی تحقیقات ناقص معلومات رکھنے والے کسی قائد کی انا کو تسکین دینے کے لیے جو پریشان کن حد تک باقاعدگی کے بارے میں جھوٹی باتوں کو دہراتا رہتا ہے، قائم کی جاسکتی ہے۔ مرکزی وزیر قانون نے کہا کہ انٹونی وزیر دفاع تھے جبکہ فہرست سے ہذف کرنے کا قانون منظور کیا گیا تھا۔ نرملا سے صرف پر عمل کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT