Tuesday , December 18 2018

رافیل معاملت کے جواب میں جیٹلی نے پارلیمنٹ کو گمراہ کیا:کانگریس

یو پی اے دور کی طے شدہ معاملت سے دوگنی قیمت پر طیارے خریدنے کی وجوہات جاننا عوام کا حق ، کھرگے کی بحث
نئی دہلی، 9فروری (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھرگے نے ماضی کے وزرائے دفاع کے ذریعہ دفاعی سودوں کی اطلاع نہیں دینے سے متعلق وزیر فینانس ارون جیٹلی کے بیان کو پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے والا قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے ایک دفاعی سودے کی پوری معلومات پارلیمنٹ کو دی تھی۔کھرگے نے یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطہ میں نامہ نگاروں سے کہا کہ جیٹلی نے عام بجٹ پر منعقدہ مباحث کے دوران لوک سبھا میں دئے گئے جواب میں یہ کہہ کر ایوان کو گمراہ کیا ہے کہ سابق وزرائے دفاع پرنب مکرجی اور انٹونی نے دفاعی سودوں کے بارے میں پارلیمنٹ کو اطلاع دینے سے انکار کردیا تھا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ انٹونی نے 4 مارچ 2013کو میراج معاملت کی پوری تفصیلات پارلیمنٹ کو دی تھی۔کھرگے نے بتایا کہ صدر کانگریس راہول گاندھی نے رافیل سودے پر بحث کے لئے ضابطہ 352کے تحت نوٹس دی ہے ۔ پارٹی بجٹ اجلاس کے اگلے مرحلے میں اس پر بحث کرانے کا مطالبہ کرے گی۔ بحث میں اس معاملت کی تمام تفصیلات سامنے آجائے گی۔کھرگے نے کہا کہ جب ایک پرائیوٹ بزنس مین کو رافیل معاملت کی پوری جانکاری ہوسکتی ہے تو ملک کے 130کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے والی پارلیمنٹ کو اس کی تفصیل کیوں نہیں بتائی جاسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک قومی سلامتی کا سوال ہے تو کانگرس رافیل جنگی طیاروں کی ضرب لگانے کی صلاحیت یا بناوٹ وغیرہ کی تفصیل کا مطالبہ نہیں کررہی ہے بلکہ حکومت سے صرف یہ پوچھ رہی ہے کہ جب یو پی اے حکومت کے دور میں رافیل جنگی طیاروں کا سودا 526کروڑ روپے میں ہوا تھا تو مودی حکومت نے اس سے دوگنا سے بھی زیادہ قیمت پر یہ سودا کیوں کیا۔ آخر حکومت اس کی قیمت بتانے سے کیو ں گھبرا رہی ہے ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے سوال کیا کہ حکومت نے ان طیاروں کی تیاری کا کام ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ کے بجائے ایک پرائیوٹ کمپنی کو کیوں کر دیا؟دریں اثناء کانگریس نے کمیونکیشن انچارج رندیپ سرجیوالا کے ذریعہ رافیل معاملت کے بارے میں اپنی مہم میں شدت پیدا کرتے ہوئے حکومت کے سامنے کئی سوال کھڑے کئے ہیں اور پوچھا ہے کہ ہر لڑاکا طیارے کی قیمت خرید کا انکشاف کیا جائے اور وہ تفصیلات بھی بتائی جائیں کہ یہ معاہدہ کس طرح طے پایا۔ سرجیوالا نے حکومت کو دوغلے پن اور قومی مفادات کو قربان کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ اُنھوں نے سابقہ یو پی اے حکومت کے دور کی مثالوں کا حوالہ دیا جب ہر دفاعی معاملت کی تفصیلات عوام پر ظاہر کی گئیں اور پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ اُنھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہاکہ مودی حکومت غلطیاں کررہی ہے، حقائق چھپا رہی ہے، دوغلے پن میں ملوث ہورہی ہے، قومی مفاد کو قربان کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کے بارے میں جواب دینے سے انکار کررہی ہے، لیکن ہندوستان اِس حکومت سے بدستور سوال کرتا رہے گا اور اُنھیں جواب دینا پڑے گا۔ اُنھوں نے سوال اُٹھایا کہ رافیل معاملت پر پی ایم اور دیگر وزراء قیمت خرید کو کیوں چھپارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT