Tuesday , November 13 2018
Home / Top Stories / رافیل مقدمہ : ڈسالٹ ایوی ایشن پر کپل سبل کا الزام

رافیل مقدمہ : ڈسالٹ ایوی ایشن پر کپل سبل کا الزام

چیف ایگزیکیٹیو آفیسر حقائق کی پردہ پوشی کی کوشش کررہے ہیں
لندن ۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس قائد اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے پارٹی کی ایوی ایشن کمپنی ڈسالٹ کے سی ای او پر الزام عائد کیا کہ وہ 2016ء کے 36 رافیل طیاروں کی ہندوستان کو فروخت کے معاہدہ 2016ء کے حقائق کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور کمپنی کو انتباہ دیا کہ ’’اس طرح وہ خود اپنے پھندے کی گرفت میں پھنس رہی ہے۔ ڈسالٹ ایوی ایشن سی ای او ٹریپیئر نے دانستہ طور پر اپنے حالیہ انٹرویو میں رافیل سودے کے حقائق کو پوشیدہ کرنے کی کوشش کی ہے اور کیچڑ اچھالنے میں مصروف رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ڈسالٹ کمپنی اپنے پھندے میں خود پھنس رہی ہے۔ کپل سبل نے منگل کی رات بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ڈسالٹ کو انتباہ دینا چاہتے ہیں کہ اگر وہ سودے کی پردہ پوشی کی کوشش جاری رکھے گی تو اتنی ہی زیادہ سنگین مشکل آئندہ دنوں میں اس کیلئے پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈسالٹ کے سی ای او سے خواہش کرتے ہیں کہ کیچڑ اچھالنا بند کردیں اور اعلیٰ ترین سطح پر اس سودے کے بارے میں تحقیقات کی جائیں کہ کیا اس معاملہ میں کسی قسم کی بدعنوانی شامل ہے۔ کانگریس پارٹی نے مودی حکومت کے خلاف اپنی مہم میں حالیہ ہفتوں میں رافیل سودے کے سلسلہ میں شدت پیدا کردی ہے۔ اس کے صدر راہول گاندھی نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت ڈسالٹ ایوی ایشن کی جانب سے مجبور کی گئی کہ ریلائنس کا دفاع کرے اور اس سودے میں اس کی شراکت داری کو پوشیدہ رکھے۔ تاہم بی جے پی اور ریلائنس ڈیفنس نے تمام الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کو مسترد کردیا ہے۔ ہندوستانی دفاعی خریداری کے قواعد کے مطابق غیرملکی کمپنیاں اسی وقت کنٹراکٹ کی حقدار ہوتی ہیں جبکہ وہ جملہ لاگت کا نصف سرمایہ کاری کی شکل میں ادا کریں۔ اس معاملہ میں تقریباً 8 ارب یوروز کا مشترکہ سودا ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ خریداری کے سلسلہ میں کیا گیا تھا۔ کپل سبل نے کہا کہ انہیں اس بات کی بھی فکر لاحق ہے کہ ’’معاشی شعبہ میں کیا ہورہا ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیکہ کیوں بینکس اپنے غیرپیداواری اثاثہ جات کو 2 یا 3 کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کررہے ہیں اور بولی دہندہ اداروں کی تائید کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کی کئی اشکال ہوتی ہیں۔ بعض پوشیدہ ہوتی ہیں اور بعض منظرعام پر آجاتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT