رافیل پر حکومت سے راہول معافی مانگیں، پارلیمنٹ میں ہنگامہ

کانگریس کارافیل طیارہ سودے کی جانچ جے پی سی سے دوبارہ کرانے کا مطالبہ

نئی دہلی۔14 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) رافیل جٹ معاملت کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے کلین چٹ ملنے پر بلند حوصلہ حکومت نے آج پارلیمنٹ میں اپوزیشن پر جوابی حملہ چھیڑتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی سے قوم کو ’’گمراہ‘‘ کرنے پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ دونوں ایوان کو اس مسئلہ پر سرکاری اور اپوزیشن کی بینچوں کے درمیان بحث و تکرار کے دوران دن بھر کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر پارلیمانی امور نریندر سنگھ تومر نے جٹ معاملت کے بارے میں فضل عدالت کے فیصلے کے پیش نظر کانگریس اور راہول گاندھی سے معذرت خواہی چاہی۔ دونوں فریقوں کے درمیان نعرے بازی کو دیکھتے ہوئے ایوان کو وقفہ سوالات کے دوران تقریباً 40 منٹ ملتوی رکھا گیا۔ دوپہر میں ایوان کے دوبارہ اجتماع پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مطالبہ کیاکہ راہول گاندھی کو اس معاملہ میں ایوان میں معافی مانگنا چاہئے۔ راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر اور وزیر فینانس ارون جیٹلی کو یہ کہتے سنا گیا کہ اپوزیشن جٹ معاملت پر مباحث کا مطالبہ کرتی آئی ہے، لہٰذا وقفہ سوالات کو اس مسئلہ کی خاطر معطل کردیا جانا چاہئے۔ راجیہ سبھا میں بھی پرشور احتجاج کے درمیان ایوان ملتوی کیا گیا۔ قبل ازیں لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے آج پھر رافیل طیارہ سودا گھپلے کی جانچ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی(جے پی سی)سے کرانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جانچ سے ہی جنگی طیارے کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہونے سے متعلق حقائق اور سچ سے پردہ اٹھ سکے گا۔ کھڑگے نے طیارہ سودے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ احادثے میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ ان کی پارٹی آج لوک سبھا میں رافیل طیارہ سودے کا معاملہ اٹھانا چاہتی تھی اور اس گھوٹالے کی تفصیلی جانچ جی پی سی سے کرانے کا مطالبہ کرنا چاہتی تھی تاکہ سچ سے باہر آسکے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے لوک سبھامیں رافیل طیارہ سودے کا معاملہ اٹھانا چاہتی تھی اور اس گھپلے کی تفصیلی جانچ جی پی سی سے کرانے کا مطالبہ کرنا چاہتی تھی تاکی سچ باہر آسکے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اراکین نے لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کی کوشش کی لیکن اسی دوران وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سپریم کورٹ کے اس سلسلے میں آئے فیصلے پر بیان دے دیا۔ انہوں نے راج ناتھ سنگھ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ک ان کی بنیادی لڑائی طیارے کے سودے کے سلسلے میں ہے۔ترقی پسند اتحادی حکومت کے دوران ایک طیارے کی قیمت 620کروڑ روپے طے کی گئی تھی جبکہ مودی حکومت میں اسی طیارے کی خرید 1670کروڑ روپے میں کی گئی ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ طیارے کی قیمت میں تین گنا کا اضافہ کیسے ہوا اور یہ پیسے کس کی جیب میں گئے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے طیارے کی قیمت کے سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے اور کہا ہے کہ طیارے کی قیمت کا معاملہ اس کے دائرے میں نہیں آتا۔

TOPPOPULARRECENT