Thursday , January 17 2019

رافیل کرپشن اور کاویری مسئلہ پر احتجاج ‘ پارلیمنٹ دوبارہ ہنگامہ کی نذر

تلگودیشم رکن کا ریاست کو خصوصی موقف کے مسئلہ پر احتجاج ۔ کام کاج معمول کے مطابق چلانے اسپیکر کی اپیلیں بے اثر

نئی دہلی 13 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) رافیل معاملت، را م مندراور ٹاملناڈو میں کاویری ڈیلٹا کے کسانوں کی امداد کے مسائل پر ہنگامہ کی وجہ سے مسلسل دوسرے دن بھی پارلیمنٹ میں آج کوئی کام کاج نہیں ہوسکا اور دونوں ایوان میں کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی۔لوک سبھا میں کانگریس نے رافیل، شیوسینا نے رام مندر، اے آئی اے ڈی ایم کے نے کسانوں کے مسائل کو اٹھاتے ہوے ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے وقفہ صفر میں دو مرتبہ ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی اور پھر 12بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو دس منٹ کے اندر ہی دن بھر کیلئے ایوان ملتوی کردیا گیا۔ راجیہ سبھا میں صبح کارروائی شروع ہوتے ہی انا ڈی ایم کے نے کاویری ندی پر باندھ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کسانوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انا ڈی ایم کے کے علاوہ ڈی ایم کے کے ممبران بھی راجیہ سبھا کے چیرمین کے سامنے آگئے اور ہنگامہ کرنے لگے جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی۔قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے رافیل معاملت میں مبینہ کرپشن اور کاویری آبی تنازعہ پر احتجاج کی وجہ سے لوک سبھا کو آج دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ اپوزیشن ارکان کے علاوہ بی جے پی کی حلیف جماعت شیوسینا نے بھی ایوان میں احتجاج میں حصہ لیا اور اس نے ایودھیا میں رام مندر کیلئے قانون سازی کا مطالبہ کیا ۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیوسینا کے لیڈر آنند راو اڈسول نے کہا کہ بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل ہوئی ہے لیکن وہ ہندوتوا کو فراموش کرگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے مابین ہندوتوا ہی واحد وجہ تھی جس کی وجہ سے اتحاد ہوا تھا ۔ بی جے پی کی رکن میناکشی لیکھی نے شناسائی رکھنے والے افراد کی جانب سے خواتین کی عصمت ریزی کا مسئلہ اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ ان معاملات کی تیز رفتار تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ ایوان میں صرف اڈسول اور میناکشی لیکھی ہی اظہار خیال کرسکیں جبکہ انا ڈی ایم کے ‘ تلگودیشم پارٹی اور کانگریس کے ارکان نے اپنے اپنے مطالبات کی تائید میں نعرے لگائے ۔ ایوان میں احتجاج جاری رہنے کے دوران اسپیکر سمترا مہاجن نے ارکان سے کہا کہ وہ ایوان کی کارروائی چلنے دیں لیکن ان کی اپیلیں بے اثر ثابت ہوئیں۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا ۔ یہ یاد دہانی کرواتے ہوئے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کیلئے اب وقت بہت کم رہ گیا ہے اسپیکر نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا حامل وقت ہے اور ارکان کو چاہئے کہ وہ اس وقت کو عوام سے متعلق مسائل اٹھانے کیلئے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا تمام ریاستوں اور علاقوں کی ہے اور ہر ایک کو اپنے مسائل اٹھانے کا مساوی موقع ملنا چاہئے ۔ تاہم اپوزیشن ارکان ان سے مطمئن نہیں ہوئے اور وہ احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہونچ گئے ۔ وہاں جاری گڑبڑ اور احتجاج کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا۔تلگودیشم کے رکن وینکٹشور راو ( بابو ) نے ایوان کے وسط میں ایک نئے رکن کے حلف لینے کیلئے لگائے گئے مائیک کا استعمال کیا اور آندھرا پردیش کیلئے خصوصی موقف کے مطالبہ کا پوسٹر دکھایا ۔ سرمائی اجلاس سے پہلے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی۔ بعد کے دو دنوں میں بھی پارلیمنٹ میں کوئی کام کاج نہیں ہوا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT