Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / راملو کی قیادت میں تشکیل کردہ بی سی کمیشن سے قانونی مسائل ممکن

راملو کی قیادت میں تشکیل کردہ بی سی کمیشن سے قانونی مسائل ممکن

چیف منسٹر کے سی آر کی توہم پرستی سے سرکاری خزانہ پر بوجھ ، محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے سماجی جہد کار راملو کی قیادت میں تشکیل دیئے گئے بی سی کمیشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانونی مسائل پیدا ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ۔ تو ہم پرستی کا شکار ہو کر سرکاری رہائش گاہ کی تعمیر کے لیے سرکاری خزانے کو لٹانے کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا ۔ 25 اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کو 50 فیصد سے زائد کامیابی ملنے پر قائد اپوزیشن کے عہدے سے مستعفی ہوجانے کا اعلان کیا ۔ آج اسمبلی کے کمیٹی ہال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لیے چیف منسٹر سنجیدہ نہیں ہے ۔ مسلمانوں کی تعلیمی معاشی سماجی حالت پر سابق کمیٹیوں اور کمیشنوں کی کئی رپورٹس موجود ہونے سے اس سے استفادہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے بجائے سدھیر کمیشن تشکیل دیتے ہوئے قیمتی ڈھائی سال ضائع کیے گئے ۔ کابینہ میں بی سی کمیشن تشکیل دینے کو منظوری دینے کے بعد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں بی سی کمیشن تشکیل دینے کے بجائے آرڈیننس جاری کرتے ہوئے پہلے قوانین میں ترمیم کی گئی پھر سماجی جہدکار اور مصنف راملو کی صدارت میں بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے چیف منسٹر پھر ایکبار مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے ۔ ماضی میں ریٹائرڈ جسٹس پٹو سوامی کمیشن جسٹس مرلیدھر کمیشن اور جسٹس ڈی سبرامنیم کمیشن تشکیل دیتے ہوئے تمام قانونی اختیار کے ساتھ بی سی کمیشن تشکیل دیے گئے تھے ۔ بی سی کمیشن کا صدر نشین ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو نامزد کیا جاتا ہے تو انہیں قانون کی باریک سے باریک نکات اور دستور کے تمام پہلووں پر عبور ہوتا ہے اگر ان کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کو عدلیہ میں چیلنج کیا جاتا ہے تو مقدمہ کی سماعت کرنے والے ججس کے پیانل کو بھی احساس رہتا ہے کہ اس رپورٹ کو ایک ریٹائرڈ جج نے تیار کیا ہے ۔ ہمارے سامنے جسٹس سدرشن ریڈی پیانل ، جسٹس بلال نازکی پیانل اور جسٹس انیل دھاوے کے فیصلے موجود ہیں ۔ انہیں نظر انداز کر کے چیف منسٹر نے ایک سماجی جہدکار کی قیادت میں بی سی کمیشن تشکیل دیا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ صرف مسلمانوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے ۔ اس کی قیمت چیف منسٹر کے سی آر کو چکانی پڑے گی ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے توہم پرستی کا شکار ہوکر سرکاری خزانے کو لٹانے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں ہی 10 کروڑ روپئے کے مصارف سے چیف منسٹر کی سرکاری قیام گاہ تعمیر کی گئی تھی ۔ کے سی آر نے مزید 10 ایکڑ اراضی پر 35 کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے سرکاری قیام گاہ تعمیر کیا ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے غریب عوام کو وعدے کے مطابق 2 لاکھ ڈبل بیڈ روم فلیٹس فراہم کرنے کے بعد ہی نئی سرکاری قیام گاہ میں منتقل ہونے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا ۔ توہم پرستی میں ہی سکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کو انہدام کرتے ہوئے اس کی جگہ 350 کروڑ روپئے کے مصارف سے نئی عمارت تعمیر کرنے کا الزام عائد کیا ۔ چیف منسٹر کے سروے کو بوگس قرار دیتے ہوئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کے 25 حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے کا چیلنج کیا ۔ ٹی آر ایس کے ارکان 50 فیصد سے زائد حلقوں پر کامیاب ہوتے ہیں تو قائد اپوزیشن کے عہدے سے مستعفی ہوجانے ۱کا اعلان کیا ۔ سرکاری دواخانوں کی کارکردگی پر ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ کویتا کی جانب سے کیے گئے ریمارکس کو حکومت کے لیے تشویشناک قرار دیا ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے 100 دن کا پلان نا بننے کا دعویٰ کرتے ہوئے 100 کروڑ روپئے کا اسکام ہونے کا الزام عائد کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT