Tuesday , September 25 2018
Home / سیاسیات / رام مندر مسئلہ پر بی جے پی حکومت کے رویہ سے سادھوسنت ناراض

رام مندر مسئلہ پر بی جے پی حکومت کے رویہ سے سادھوسنت ناراض

ایودھیا۔14مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بیان پر برہم سادھوؤں اور ہندو مذہبی رہنماؤں نے بی جے پی کو انتخابی وعدہ کی یاد دہانی کروائی اور کہا کہ وہ ان لوگوں سے ’’دغابازی‘‘ نہ کرے ‘ جنہوں نے اسے اقتدار پر لایا ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے حالیہ بیان میں رام مندر کی تعمیر کیلئے قانون سازی سے معذوری کا اظہار کیا تھا ۔ سا

ایودھیا۔14مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بیان پر برہم سادھوؤں اور ہندو مذہبی رہنماؤں نے بی جے پی کو انتخابی وعدہ کی یاد دہانی کروائی اور کہا کہ وہ ان لوگوں سے ’’دغابازی‘‘ نہ کرے ‘ جنہوں نے اسے اقتدار پر لایا ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے حالیہ بیان میں رام مندر کی تعمیر کیلئے قانون سازی سے معذوری کا اظہار کیا تھا ۔ سادھو سنت جو راج ناتھ سنگھ کے اس بیان پر ناراض ہیں ‘ کہا کہ انہیں یقین ہیکہ بی جے پی عوام کے ساتھ دغا بازی نہیں کرے گی ۔ انہوں نے انتخابی وعدہ کے مطابق قانون سازی کا مطالبہ کیا تاکہ رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوسکے ۔ رام جنم بھومی نیاس کے سینئر رکن اور سابق رکن پارلیمنٹ رام ولاس ویدانتی نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ نے مہاکمبھ 2013 میں بحیثیت صدر بی جے پی سنتوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر پارٹی اقتدار پر آئے تو قانون سازی کے ذریعہ مندر کو حقیقت میں بدل دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیئے ۔ راج ناتھ سنگھ کا یہ استدلال ہیکہ راجیہ سبھا میں پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہے ۔ ویدانتی نے کہا کہ اکٹوبر 2016 میں حکمراں جماعت کو راجیہ سبھا میں مستحکم موقف حاصل ہوجائے گا ۔ اس وقت تک مرکز کو چاہیئے کہ 67ایکڑ غیر متنازعہ اراضی رام جنم بھومی نیاس کے حوالے کرے

اور جہاں تک متنازعہ اراضی کا تعلق ہے 2016 میں حکومت قانون سازی کرسکتی ہے ۔ انہوں نے 2017 اترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل غیر متنازعہ علاقہ نیاس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ویدانتی نے خبردار کیا کہ اگر رام کے ’’ بھکتوں‘‘ کو دھوکہ دیا گیا اور مندر کیلئے راہ ہموار نہ کی گئی تو انہیں اچھی طرح جان لینا چاہیئے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا ۔ رام جنم بھومی مندر کے سادھو اچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ انہیں مرکز میں بی جے پی کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملنے کے بعد کافی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ایک سال سے جاری خاموشی اور ہندوؤں کی خواہش کو پورا کرنے کی سمت کوئی پیشرفت نہ ہونے پر ان سب کو بیحد مایوسی ہوئی جنہوں نے اس حکومت کیلئے ووٹ دیا تھا ۔ اب ذہن تبدیل ہورہا ہے اور یہ رائے پائی جاتی ہیکہ بی جے پی حکومت بھی اس مسئلہ پر دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح بات کررہی ہے ۔

پہلے یہ عذر پیش کیا گیا کہ بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہے اور اٹل بہاری واجپائی 13مختلف جماعتوں کی قیادت کررہے ہیں اب یہ کہا جارہا ہے کہ راجیہ سبھا میں پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کے بموجب مندر باہمی مذاکرات یا عدالتی فیصلہ کے ذریعہ تعمیر کیا جاسکتا ہے ۔ ایسے میں مرکز کا کوئی رول ہی نہیں رہ جاتا ۔ وی ایچ پی ترجمان شرد شرما نے کہاکہ راجیہ سبھا میں اکثریت کا فقدان کوئی عذر نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو لوک سبھا میں تو اکثریت حاصل ہے ۔ پہلے وہ لوک سبھا میں بل پیش کرے اور مباحث کے بعد اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ ایسے کئی بلز ہیں جنہیں شدید مخالفت کے باوجود منظور کردیا گیا ہے ۔ حکومت کو اس مسئلہ پر کم از کم سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ۔ رام جنم بھومی نیاس صدر مہنت نرتیہ گوپال داس نے بھی کہا کہ دستوری ڈھانچہ میںرہتے ہوئے وزیراعظم کو یہ مسئلہ حل کرنا چاہیئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT