Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / رام مندر مسئلہ کو آر ایس ایس نے فراموش نہیں کیا ، سپریم کورٹ میں عاجلانہ سماعت پر زور

رام مندر مسئلہ کو آر ایس ایس نے فراموش نہیں کیا ، سپریم کورٹ میں عاجلانہ سماعت پر زور

ناگپور ۔ /15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس نے آج کہا ہے کہ ایودھیا میں ایک بڑی رام مندر کی تعمیر کے عہد کو اس نے فراموش نہیں کیا ہے اور سپریم کورٹ میں مقدمہ کی کارروائی تیز کرنے پر زور دیا ۔ آر ایس ایس جنرل سکریٹری سریش بھیاجی جوشی نے کہا کہ ہم نے رام مندر کا مسئلہ ترک نہیں کیا ہے ۔ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد جو ہندوؤں کے حق میں ہے ، یہ معا

ناگپور ۔ /15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس نے آج کہا ہے کہ ایودھیا میں ایک بڑی رام مندر کی تعمیر کے عہد کو اس نے فراموش نہیں کیا ہے اور سپریم کورٹ میں مقدمہ کی کارروائی تیز کرنے پر زور دیا ۔ آر ایس ایس جنرل سکریٹری سریش بھیاجی جوشی نے کہا کہ ہم نے رام مندر کا مسئلہ ترک نہیں کیا ہے ۔ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد جو ہندوؤں کے حق میں ہے ، یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیردوران ہے ۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ کی رفتار انتہائی سست ہے اور اس میں تیزی لانی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ احساس ہے کہ اس مسئلہ پر فی الحال احتجاج شروع کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آگے کیا ہوگا ۔ ہم نے اس مسئلہ کو ترک نہیں کیا ہے ۔ سریش بھیاجی جوشی آج آر ایس ایس کے فیصلہ سازیاؤں کے سہ روزہ اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس سے مخاطب تھے ۔ انہوں نے پاکستان جیسے ممالک سے فرار ہوکر یہاں پناہ لینے والے شہریوں کو ہندوستانی شہریت دیئے جانے کی وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی سرزمین سے فرار ہونے والے ہندوؤں کیلئے کوئی اور زمین نہیں ہے ۔ کوئی ہندو جسے بیرونی سرزمین پر ناانصافی و ظلم کا سامنا ہو انہیں قبول کرنا ہمارے سماج اور حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ حکومت کو ایسے معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے

۔ ہزاروں ہندو خاندان جو پاکستان سے فرار ہوکر یہاں کئی ریاستوں بشمول گجرات میں آباد ہیں ، وہ ہندوستانی شہریت کے خواہاں ہیں ۔ جوشی نے کہا کہ آر ایس ایس ’’گاؤونش‘‘ کے تحفظ کیلئے پابند عہد ہے اور بعض بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں گاؤ ذبیحہ پر امتناع کیلئے صرف قوانین نافذ کرنے کافی نہیں ۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ گاؤ ذبیحہ کے خلاف قوانین پر موثر عمل آوری ہو ۔ صرف قانون بنانا کافی نہیں ۔ ہریانہ میں بی جے پی حکومت نے حال ہی میں بڑے گوشت کی کسی بھی شکل میں فروخت پر امتناع عائد کردیا ہے اور بی جے پی زیراقتدار مہاراشٹرا کی طرز پر گاؤ ذبیحہ کی صورت میں دس سال قید بامشقت کی تجویز پیش کی ہے ۔ جوشی نے مغربی بنگال میں 71 سالہ راہبہ کی مبینہ طور پر اجتماعی عصمت ریزی کی سخت مذمت کی ۔ انہوں نے بعض عناصر کی ان واقعات کے ذریعہ دو فرقوں کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کی کوششوں کو بھی نامناسب قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ عصمت ریزی ہماری روایات کے خلاف ہے ۔ کوئی بھی ذمہ دار معاشرہ ایسے واقعات کی مذمت کرتا ہے ۔ ایسے واقعات کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے دو فرقوں میں کشیدگی پیدا نہیں کرنی چاہئیے ۔ جب انہوں نے پوچھا گیا کہ کیا آر ایس ایس اپنی ملحقہ تنظیموں کو روکنے کیلئے مداخلت کرے گی ۔

کیونکہ ان کے متنازعہ ریمارکس اور پروگرامس جیسے ’’گھرواپسی‘‘ کی وجہ مودی حکومت کو پشیمانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ انہوں نے کہا ہماری نظر میں حکومت کے لئے ایسا کوئی سنگین مسئلہ اٹھ کھڑا نہیں ہوا ہے کیونکہ ہندو توا کے بارے میں کچھ باتیں کہی گئی ہیں ۔ انہوں نے سنگھ کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ہندو توا زندگی گزارنے کا ایک راستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے مخصوص طریقہ عبادت اختیار کرنے پر آر ایس ایس کو اعتراض نہیں لیکن جب دیرینہ اقدار پر سمجھوتہ ہوجائے تو سماج کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے ۔ جوشی نے بی جے پی اور پی ڈی پی کے مابین کشیدہ روابط کے متعلق سے سوال کا جواب نہیں دیا ۔ بی جے پی زیرقیادت گوا حکومت کی جانب سے /2 اکٹوبر کو گاندھی جینتی کی تعطیل حذف کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ کیا ہے وہ نہیں جانتے ۔

TOPPOPULARRECENT