Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / رام مندر معاملہ میں بی جے پی ناکام، اویسی برادرس کو بی جے پی کا مالی تعاون

رام مندر معاملہ میں بی جے پی ناکام، اویسی برادرس کو بی جے پی کا مالی تعاون

نریندر مودی کے کرشمہ کی بجائے کرتوتوں سے عوام بدظن اور بی جے پی کی حمایت پر پچھتاوا

ممبئی ۔ 11 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرنے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر اعتماد شکنی کا الزام عائد کیا اور شیوسینا کو للکارا کہ ہمت ہے تو بی جے پی کی زیر قیادت حکومت سے باہر نکل جائیں کیونکہ اقتدار میں ادھو ٹھاکرے کی زیر قیادت پارٹی کو مستحقہ مقام نہیں دیا گیا ہے ۔ اگرچیکہ وزیراعظم مسلسل بیرونی دورے کر رہے ہیں لیکن اندرون ملک اچھے دن ابھی تک نہیں آئے ہیں جس کا عوام شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ شیواجی پارک میں گوڈی پاڈوا (مراہٹی سال نو) کے موقع پر ایک ریالی کو مخاطب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے وزیراعظم پر طنزیہ تیروں سے حملہ کئے اور کہا کہ تم نے بلیک منی واپس لانے کا وعدہ کیا تھا ۔ کہاں ہے یہ وجئے مالیا کروڑہا روپئے لیکر ملک سے فرار ہوگیا اور اب جیویلرس یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ایک ہی بھول اور کنول کا پھول (بی جے پی کو ووٹ دیکر سب سے بڑی غلطی کی گئی ہے) انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل نریندر مودی نے جیویلرس کیلئے سخت قواعد و ضوابط کی مخالفت کی تھی لیکن وزیراعظم بنتے ہی اس پر عمل پیرا ہوگئے ۔ راج ٹھاکرے نے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے کبھی نریندر مودی کو امید کی کرن قرار دیا تھا لیکن اب ان کے تیور دیکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوگئے۔ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بھی وزیراعظم کے خلاف لب کشائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نریندر مودی کے قول اور فعل میں تضاد آگیا ہے جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے 100 دنوں میں کرشمہ دکھایا جائے گا ۔ یہ کرشمے کہاں گئے ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ قوم پرستی جیسے حساس موضوع پر آر ایس ایس سے مدد حاصل کی جارہی ہے ۔ کیا آر ایس ایس قوم پرستی کے سرٹیفکٹ تقسیم کرے گی ؟ ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ نعرہ پر جاریہ تنازعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ایم این ایس سربراہ نے کہا کہ رام مندر کا مسئلہ عدالت میں معرض التواء ہے گو کہ عدالت سے صدر بی جے پی امیت شاہ کو الزامات سے بری کردیا لیکن رام مندر مسئلہ کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ اویسی برادرس (اسد اویسی۔ اکبر اویسی) پر تنقید کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے الزام عائد کیا کہ انہیں بی جے پی کی جانب سے مالی تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔ اگر وہ مہاراشٹرا میں داخل ہوں گے تو میں ان کے گلے پر چاقو رکھوں گا۔ انہوں نے اسد اویسی کے اس ریمارک کو چیلنج کیا ہے اگر ان کے گلے پر چاقو بھی رکھ دی جائے تو بھارت ماتا کی جئے ، کہنے سے انکار کریں گے۔ شیوسینا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہاکہ بی جے پی کی جانب سے خاطر خواہ اہمیت نہ دیئے جانے کے باوجود شیوسینا ہنوز اقتدار سے کیوں چمٹے ہوئے ہے۔ جیٹا پور نیوکلیئر پلانٹ کے خلاف شیوسینا کی احتجاجی تحریک کہاں گئی۔ اقتدار میں رہنے کے باوجود شیوسینا، ایم این ایس سے خوفزدہ ہے۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈنویس کا مذاق اڑاتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہاکہ انہوں نے بے موقع اور بے محل ’’بھارت ماتا کی جئے‘ کا نعرہ بلند کیا ہے جبکہ انہیں چیف منسٹر کے عہدہ سے ہٹانے والا کوئی نہیں ہے۔ قبل ازیں فڈنویس یہ ریمارک کیا تھاکہ چیف منسٹر کا عہدہ چھوڑ دیں گے لیکن بھارت ماتا کی جئے نعرہ بلند کرنے سے باز نہیں آئیں گے ۔ راج ٹھاکرے نے فڈنویس کے رویہ کو کلاس مانیٹر جیسا قرار دیا اور خودکشی سے قبل کسانوں کے تحریر کردہ پیامات بھی پڑھ کر سنائے جس میں یہ شکایت کی گئی ہے کہ حکومت نے علاقہ مراہٹواڑہ کے کسانوں اور نوجوانوں کو یکسر نظر انداز کردیا ہے جس پر انہوں نے یہ سوال کیا کہ بی جے پی اور کانگریس حکومت میں کیا فرق رہ گیا؟

TOPPOPULARRECENT