رام مندر کیلئے آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا

ایودھیا مسئلہ پر عدالت کا حتمی فیصلہ قبول ، 3 طلاق پر پارلیمنٹ میں قانون بنانے کی مخالفت

لکھنؤ ۔ /16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے آج کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے مرکز کی جانب سے اگر آرڈیننس لایا گیا تو اسے عدالت میں چیالنج کیا جائے گا ۔ راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو منظور کرلیا جاتا ہے تو اسے بھی عدالت میں چیالنج کیا جائے گا ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں بورڈ نے مرکز پر زور دیا کہ وہ ایودھیا مسئلہ سے متعلق اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنے کو یقینی بنائے ۔ بورڈ نے سپریم کورٹ پر بھی زور دیا کہ وہ رام مندر پر کئے جانے والے ایسے ریمارکس کا ازخود سختی سے نوٹ لے ۔ بورڈ کے سکریٹری ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ رام مندر یا طلاق ثلاثہ پر آرڈیننس لایا جاتا ہے تو اسے چیالنج کیا جائے گا ۔ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سینئر رکن قاسم رسول الیاس نے کہا کہ مرکزی حکومت کی مدت 6 ماہ رہ گئی ہے ۔ اس دوران اگر مرکز نے کسی قسم کا قانون بنایا تو اسے سپریم کورٹ میں چیالنج کیا جائے گا ۔ مسلم سماج سے مشاورت کے بغیر اس آرڈیننس کو تیار کیا گیا ہے ۔ ہم سیکولر پارٹیوں پر زور دیں گے کہ وہ پارلیمنٹ میں اسے منظور ہونے نہ دیں ۔ رام مندر کیلئے قانون بنانے انتہاپسند ہندو تنظیمیں اشتعال انگیزبیانات دے رہی ہیں۔ حکومت ان بیانات پر روک لگائے

اور سپریم کورٹ کو بھی از خوداس کا نوٹس لینا چاہئیے ۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ہوئے اجلاس کے بعد قاسم رسول نے کہا کہ بورڈ کا واضح موقف یہی ہے کہ وہ بابری مسجد معاملہ میں عدالت کے حق کے فیصلہ کو قبول کرے گا ۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق رائے ہوا کہ زہریلے بیانات دیئے جانے والی تنظیموں کے خلاف آواز اٹھائی جائے ۔ بورڈ کے سینئر رکن ظفر یاب جیلانی نے مزید کہا کہ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے کی صورت میں کوئی آرڈیننس نہیں لایا جاسکتا ۔ سیکولرازم ہی دستور کی بنیاد ہے ۔ اگر حکومت آرڈیننس یا قانون بناتی ہے تو وہ دستور کے مغائر ہوگا ۔ قاسم رسول الیاس نے کہا کہ بورڈ کے اجلاس میں دارالقضاۃ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ اس سال ملک میں 14 نئے دارالقضاۃ قائم کئے گئے ہیں ۔ جاریہ ماہ کے آخر تک مزید مقامات پر دارالقضاۃ قائم کئے جائیں گے ۔ جس میں جائیداد ، وراثت اور طلاق جیسے شرعی مسائل سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کمیٹی کی جانب سے جائزہ لیا جائے گا ۔ بورڈ کی تفہیم شریعت کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی ۔ ملک کے مختلف بڑے اور چھوٹے شہروں میں شرعی امور سے متعلق بیداری پیدا کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT