Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / رام مندر کیلئے قانون سازی اور ہندوؤں کو روزگار

رام مندر کیلئے قانون سازی اور ہندوؤں کو روزگار

اندور ۔ 5 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام) : سینئیر وی ایچ پی لیڈر پراوین توگاڑیہ نے سیاسی جماعتوں بالخصوص بی جے پی سے ان کے انتخابی منشور میں ہندو طبقہ کے لیے کئی رعایتوں اور اسکیمات کا مطالبہ کیا ۔ اس کے علاوہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے قانون سازی کا وعدہ کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی منشور میں دس ک

اندور ۔ 5 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام) : سینئیر وی ایچ پی لیڈر پراوین توگاڑیہ نے سیاسی جماعتوں بالخصوص بی جے پی سے ان کے انتخابی منشور میں ہندو طبقہ کے لیے کئی رعایتوں اور اسکیمات کا مطالبہ کیا ۔ اس کے علاوہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے قانون سازی کا وعدہ کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی منشور میں دس کروڑ غریب ہندو طلباء کو فیس ری ایمبرسمنٹ کا وعدہ کرنا چاہئے ۔ ہندو نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے اور چار لاکھ سے زائد کشمیری ہندوؤں کا تحفظ کیا جائے جو پناہ گزیں کیمپس میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون سازی کا وعدہ کرنا چاہئے ۔ اس کے علاوہ گاؤکشی اور مذہبی تبدیلی پر امتناع عائد کیا جائے ، دستور کی دفعہ 370 کو حذف اور یکسال سیول کوڈ کے نفاذ کا وعدہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں بی جے پی وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی سے کافی امیدیں وابستہ ہیں ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی کی جانب سے شاہی امام جامع مسجد کی تائید حاصل کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر توگاڑیہ نے کہا کہ جمہوریت میں ہر شخص کو ووٹ حاصل کرنے کا حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کو بھی چاہئے کہ ایسی پارٹی کو ووٹ دیں جو ان کے حقوق کی نگران ہو ۔۔

گاندھی نگر سے منتقلی کا کبھی نہیں سوچا: اڈوانی
احمدآباد ، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سینئر بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی نے آج کہا کہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا کہ اپنی روایتی لوک سبھا نشست گاندھی نگر سے انتخاب نہیں لڑیں گے اور گجرات سے اپنی دیرینہ وابستگی کی یاد تازہ کی۔ انھوں نے آج پارٹی کے وزارت عظمیٰ امیدوار اور چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کے ہمراہ پہنچ کر گاندھی نگر نشست کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔
انھوں نے یہ بات کہتے ہوئے تردید کی کہ اُس حلقہ کے بارے میں کوئی تنازعہ رہا جہاں سے وہ الیکشن لڑنے کے خواہاں رہے۔ ایسی اطلاعات آئی تھیں کہ سابق نائب وزیراعظم نے اپنا حلقہ گاندھی نگر سے بھوپال منتقل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا

لیکن بعدازاں آر ایس ایس اور پارٹی کی مداخلت کے پیش نظر دارالحکومت گجرات سے ہی چناؤ لڑنے پر عملاً مجبور کردیئے گئے۔ پانچ مرتبہ کے ایم پی انھوں نے آج پارٹی کے وزارت عظمیٰ امیدوار اور چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کے ہمراہ پہنچ کر گاندھی نگر نشست کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے، کہا کہ گاندھی نگر سے چناؤ لڑنا ’’قطعی شادمانی‘‘ ہے اور اس ریاست سے اپنی برسہا برس کی وابستگی پر روشنی ڈالی۔ ’’گاندھی نگر اور گجرات کے ساتھ میرے تعلقات یہاں سے میرے چناؤ لڑنے سے شروع نہیں ہوئے۔ ان کی شروعات بدبختانہ واقعہ سے ہوئی جو ہندوستان کی آزادی کے ساتھ آیا،‘‘ 86 سالہ اڈوانی نے یہ بات کہتے ہوئے تقسیم ہند کا حوالہ دیا جس کے بعد وہ اور اُن کی فیملی پاکستان سے ہندوستان منتقل ہوئے۔ انھوں نے کہا، ’’میرے والد آدیپور (علاقہ کچھ کی ٹاؤن شپ جہاں اڈوانی

اور اُن کی فیملی تقسیم ہند کے بعد منتقل ہوئی) میں مختصر مدت کیلئے رہے۔ پھر وہ کاشی (بنارس یا موجودہ وارانسی) منتقل ہوئے، جہاں میری دادی اپنے آخری ایام گزارنا چاہتی تھیں۔ ’’وہ وہاں 3-4 سال رہے اور پھر آدیپور منتقل ہوگئے۔ یہ میری اور میری فیملی کی گجرات سے وابستگی کا پس منظر ہے‘‘۔ اڈوانی نے مودی کی قابل اڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ستائش کی۔ انھوں نے گاندھی نگر میں میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’مودی پی ایم بن جائیں گے‘‘۔ تاہم انھوں نے کہا، ’’میں کوئی تقابل نہیں کروں گا، بلاشبہ اٹل جی سے نہیں۔ اٹل جی اپنے آپ میں ایک مثال رہے۔ پارٹی کے بڑے نظریہ ساز دین دیال اپادھیائے تھے اور اس پر حکمرانی میں عمل درآمد کرنے والے شخص اٹل جی رہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT