Tuesday , December 11 2018

رام مندر کیلئے پوری زمین لے کر رہیں گے ، اس جگہ نماز ناقابل قبول

AYODHYA, NOV 25 (UNI):- People participating at a `Dharam Sabha’, organised by the Vishwa Hindu Parishad to push for the construction of the Ram temple, in Ayodhya, Sunday. UNI PHOTO-58U

اراضی کے ٹکڑے ہرگز ہونے نہیں دیں گے ، بھکتوںکا عہد‘ ہزارہا افراد کا ایودھیا میں اجتماع

ایودھیا ۔ /25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) رام مندر کے لئے پوری زمین لے کر رہیں گے ۔ ہم ایودھیا میں اراضی کے ٹکڑے ہرگز ہونے نہیں دیں گے کے عہد کے ساتھ لاکھوں رام بھکتوں نے وی ایچ پی کی دھرم سبھا میں شرکت کی ۔ وی ایچ پی کے سینئر لیڈر چمپت رائے نے اعلان کیا کہ رام مندر کی تعمیر کے لئے متنازعہ اراضی کو تقسیم کرنے کا فارمولہ ناقابل قبول ہے اور نہ ہی اس جگہ پر جس کو قبضہ کیا گیا تھا نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ لاکھوں بھکتوں نے وی ایچ پی کے دھرم سبھا میں شرکت کی ۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وی ایچ پی کے انٹرنیشنل جنرل سکریٹری چمپت رائے نے کہا کہ رام مندر کا معاملہ ہمارے دل کے اندر پیوست ہوچکا ہے ۔ پولیس ہمارے ساتھ ہے ۔ چمپت رائے نے اگرچیکہ اراضی کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ کا کوئی حوالہ نہیں دیا ۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے ایودھیا میں متنازعہ اراضی کے تعلق سے اکثریتی فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ایودھیا اراضی کو 3 حصوں میں ہندوؤں ، مسلمانوں اور اس جگہ کو جہاں رام کا عارضی مندر ہے ہندوؤں سے تعلق رکھتی ہے تقسیم کیا جائے ۔ ایک علحدہ فیصلہ میں جسٹس ایس یو خاں اور سدھیر اگروال نے کہا تھا کہ بابری مسجد کے 3 گنبدوں کے وسط میں واقع علاقہ جہاں رام کی مورتی ہے ہندوؤں سے تعلق رکھتی ہے ۔ وی ایچ پی لیڈر چمپت رائے نے مزید کہا کہ رام مندر کی تعمیر میں تاخیر اچھی علامت نہیں ہے ۔ اتوار کی صبح قطار بنائے لاکھوں افراد رام مندر کی تعمیر کیلئے زور دیتے ہوئے دھرم سبھا میں شرکت کررہے تھے ۔ 1992 ء میں کارسیوا کے بعد سے ایودھیا رام بھکتوں کا یہ سب سے بڑا ہجوم تھا ۔ وی ایچ پی نے دعویٰ کیا کہ اس جلسہ سے سنتوں اور پنڈتوں کے بشمول تقریباً 3 لاکھ افراد شریک تھے ۔ یہ جلسہ متنازعہ رام جنم بھومی نیاس کی جانب سے چلائے جارہے ورکشاپ سے تھوڑی ہی دور منعقد ہوا ۔ اس کثیر اجتماع کی وجہ سے مقامی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ۔ یہ دھرم سبھا 10 ویں صدی کی بابری مسجد کے انہدام کی 26 ویں برسی سے صرف دو ہفتے قبل ہی منعقد کی گئی ۔ وی ایچ پی نے اس دھرم سبھا میں مسلمانوں سے کہا کہ وہ رام مندر کے لئے یہ اراضی حوالے کردیں ۔ قبضہ کرکے بابری مسجد بنانے کے مقام پر ہم نماز پڑھنے کو قبول نہیں کریں گے ۔ وی ایچ پی نے ایودھیا کے علاوہ کاشی ، متھرا اور دیگر مندروں کے تعلق سے بھی آرڈیننس لانے کے لئے بی جے پی پر زور دیا ۔ وشواہندو پریشد کی دھرم سبھا نے رام مندر کی تعمیر کے لئے ایک قرارداد منظور کی لیکن حکومت سے آرڈیننس لانے کے لئے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا اور نہ کوئی مہلت دی گئی ۔ اس مقام پر سکیورٹی کے ساتھ انٹلیجنس ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو تعینات کیا گیا تھا ۔ آر ایس ایس کے کرشنا گوپال نے کہا کہ ہندو چاہتے ہیں کہ ایودھیا کے ساتھ کاشی و متھرا مندروں کو بھی حوالہ کیا جائے ۔

رام مندر کی تعمیر کا آئندہ سال اعلان
ایودھیا ۔ /25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا میں وشواہندو پریشد کی جانب سے منعقدہ دھرم سبھا میں نرموہی اکھاڑہ کے رام جی داس نے کہا کہ مرکزی سینئر وزیر نے مجھے تیقن دیا ہے کہ /11 ڈسمبر کے بعد ضابطہ اخلاق کا اطلاق ختم ہوجائے گا اور وزیراعظم مودی رام مندر کی تعمیر کے تعلق سے کوئی فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پریاگ راج (الہ آباد) میں آئندہ سال کمبھ میلہ کے دوران بابری مسجد کی تعمیر کی تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے گا ۔ دھرم سبھا سے خطاب کرتے ہوئے رام بھدراچاریہ نے کہا کہ اب چند دن کی ہی بات ہے رام مندر کی تعمیر یقینی ہے اس لئے آپ تمام سے درخواست ہے کہ صبر سے کام لیں ۔

TOPPOPULARRECENT