Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ ، شہری ماؤازم پر تنقید، سبری مالا تنازعہ کا تذکرہ

رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ ، شہری ماؤازم پر تنقید، سبری مالا تنازعہ کا تذکرہ

دسہرے کے موقع پر آر ایس ایس کے کارکنوں سے سرسنچالک موہن بھاگوت کا خطاب، کیلاش ستیارتھی مہمان خصوصی
ناگپور (مہاراشٹرا) 18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت نے آج مطالبہ کیاکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون سازی کی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ ’’عزت نفس‘‘ کے لئے ضروری ہے اور اِس طرح ’’خیرسگالی اور یکجہتی کا ماحول‘‘ پیدا ہوگا۔ اپنے روایتی دسہرہ خطاب میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹرس پر موہن بھاگوت نے آر ایس ایس کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے جاریہ سبری مالا تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ روایت کی نوعیت اور اس کی بنیاد کو پیش نظر رکھنے سے قاصر رہا ہے جس کے نتیجہ میں سماج میں ’’انتشار‘‘ پیدا ہوگیا۔ اپنی 80 منٹ طویل تقریر میں بھاگوت نے دیگر مختلف مسائل جیسے شہری ماؤازم اور ملک کی سرحدات کو مستحکم بنانے کی ضرورت کا تذکرہ کیا۔ سماجی کارکن نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی اِس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ موہن بھاگوت نے کہاکہ سنگھ کروڑوں افراد کے جذبات سے وابستہ ہے جنھوں نے ایک شاندار رام مندر لارڈ رام کے مقام پیدائش پر تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے جس سے قوم اور قوم کے افسانوی کردار جنھوں نے دھرم کو سرفراز کیا تھا، تجسیم ہوتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مندر کی تعمیر عزت نفس کے نقطۂ نظر سے بھی ضروری ہے۔ اِس سے ایک ایسے ماحول کی راہ ہموار ہوگی جو ملک میں خیرسگالی اور یکجہتی کے جذبات پیدا کرے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ جنم بھومی کا ہنوز تعین نہیں ہوسکا۔ حالانکہ مندر کی تعمیر کی مختلف کارروائیاں جاری ہیں۔ لیکن اِس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ (ایودھیا میں) یہاں پر ایک مندر تھا اور کسی کو بھی اِس کی جانچ سے دلچسپی نہیں ہے کہ سماج کے صبر کا بلاوجہ امتحان لے۔ اُنھوں نے کہاکہ ایودھیا مقدمہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیردوران ہے اور 27 اکٹوبر کو آئندہ سماعت مقرر ہے۔ لیکن چند عناصر سپریم کورٹ کے فیصلے کو روکنے کے لئے گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں اور مختلف نئی مداخلتیں عدلیہ کی کارروائی میں کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے جس میں بنیاد پرست عناصر اور طاقتیں رکاوٹیں کھڑا کررہی ہیں جو فرقہ وارانہ سیاست اور مفادات حاصلہ کے لئے کام کرتی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ایسے نظام کے علاوہ اراضی کے بارے میں فیصلہ سنادیا جانا چاہئے اور حکومت کو عظیم الشان مندر کی تعمیر کے لئے ضروری اور مناسب قانون سازی کرنی چاہئے۔ سبری مالا تنازعہ پر اُنھوں نے کہاکہ صرف ہندو سماج کو بار بار منتشر کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے۔ اُن کے عقائد کی علامات پر حملے کئے جاتے ہیں۔ غالباً عوام کی ذہنیت کو آزمانے کے لئے لیکن اس کے نتیجہ میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ ماؤازم پر تنقید کرتے ہوئے بھاگوت نے کہاکہ شہری نکسلائٹس قوم دشمن ہیں اور اُن کی قیادت کے اندھے پیروکار موجود ہیں جو صرف اُن کے وفادار ہیں۔ کئی کارکنوں کے گرفتار کئے جانے کا واضح طور پر حوالہ دیتے ہوئے اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ یہ شہری ماؤازم ہے اور اِس کی تشہیر سماج کو منتشر کردیتی ہے۔

سبری مالا تشدد کیلئے آر ایس ایس پر الزام
تھرواننتاپورم 18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سبری مالا مندر میں خاتون بھکتوں کے داخلہ کی مخالفت اور بعدازاں جھڑپوں کے لئے چیف منسٹر کیرالا نے آر ایس ایس پر الزام عائد کیاکہ وہ بھگوان ایپا کے مندر کو دہشت پھیلانے کے لئے استعمال کررہی ہے تاہم بی جے پی نے اِس کی مخالفت کی اور کہاکہ سی پی آئی (ایم) زیرقیادت ایل ڈی ایف حکومت بھگوان ایپا مندر کی شبیہ مسخ کرنے کی کوشش کررہی ہے اور وہی اِس مندر کے بارے میں کشیدگی پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔ بھکتوں کو ایپا مندر کی سمت پیشرفت کرنے سے روکنے اور اُنھیں واپس کردینے سے دہشت گردی پیدا ہوتی ہے اور سنگھ پریوار سبری مالا تشدد کے لئے ذمہ دار ہے۔
چیف منسٹر پی وجین نے دعویٰ کیاکہ دائیں بازو کی طاقتیں ہمیشہ نظم و ضبط میں خلل اندازی کرتی ہیں۔ سبری ملال مندر کی بھکتوں کے لئے منفرد نوعیت ہے چاہے اُن کی ذات نسل اور مذہب کچھ بھی کیوں نہ ہو وہ یہاں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بھگوا گروپ کی کوشش ہے کہ اِس بنیادی مساوات کو ختم کیا جائے اور پہاڑی مندر اور موجودہ ترقیاتی کاموں کو اِس تحریک کی نذر کردیا جائے۔ آر ایس ایس بھگوا ایپا کے مندر کو تباہ کردینا اور دہشت بے لگام کردینا چاہتی ہے۔ چیف منسٹر نے الزام عائد کیاکہ سنگھ پریوار کی طاقتوں کا بنیادی مقصد اعلیٰ ذات کے غلبے کو قائم کرنا اور دیگر تمام طبقات کی اِس مندر سے دلچسپی کو ختم کردینا ہے۔ آر ایس ایس بھگوان ایپا کے مندر کے بہانے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اُنھوں نے واضح کردیا کہ حکومت مندر کو ’’فسادات کا علاقہ‘‘ بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ایسی کسی کوشش کی عوام خود مخالفت کریں گے۔ مقدس پہاڑیوں کو جانے والے عقیدتمند اِسے ناکام بنادیں گے۔ سبری مالا کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر پی ایس سری دھرن پلے نے مطالبہ کیاکہ اُن حالات کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں جن کی بناء تشدد کا آغاز ہوا تھا اور پولیس نے احتجاجیوں پر نلک کل میں لاٹھی چارج کیا تھا۔ احتجاجی ریاستی حکومت کے سپریم کورٹ کے حکمنامے پر عمل آوری کی مخالفت کررہے ہیں۔ پلے نے کہاکہ پولیس دانستہ طور پر اُنھیں اشتعال دلارہی ہے تاکہ وہ سبری مالا کو نذر آتش کردیں اور اِسے جنگ کے علاقہ میں تبدیل کردیں۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ پولیس ارکان عملہ نے عارضی پناہ گاہ تباہ کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT