Wednesday , December 19 2018

رام مندر کی تعمیر کیلئے کارسیوکوں کی تیاری ، 10 ہزار کارکنوں میں ترشول تقسیم

ملک میں خوف و حراس کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ، گجرات مسلم کش فسادات کے احیاء کی سازش

لکھنؤ ۔ /18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) رام مندر ۔ بابری مسجد مسئلہ پر سپریم کورٹ میں مقدمہ زیردوراں ہے اس کے باوجود ہندوتوا طاقتیں رام مندر کی تعمیر کیلئے ملک میں خوف و ہراس کے ساتھ نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ سپریم کورٹ میں زیرالتواء بابری مسجد ایودھیا متنازعہ اراضی معاملے کی سماعت جاری ہے ۔ ایسے میں آر ایس ایس اور اس کی محاذی تنظیمیں بڑے پیمانے پر ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ وی ایچ پی کی یوتھ ونگ بجرنگ دل کی جانب سے کارسیوکوں میں ترشول تقسیم کئے جارہے ہیں ۔ اودھ علاقے کے تقریباً 10 ہزار کارکنوں میں ترشول تقسیم کئے گئے ہیں ۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی آر ایس ایس ، بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے کارکنوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت دی جارہی ہے ۔ ترشول ٹریننگ کے بارے میں وی ایچ پی کے سینئر لیڈر دیویندر مشرا نے کہا کہ 10 ہزار کارکنوں کی ایک ٹیم اس طرز پر تیار کی جارہی ہے کہ وہ کسی بھی جگہ فوراً پہونچ سکیں ۔ بجرنگ دل نے دارا سنگھ کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ پر ترشول ٹریننگ کا پروگرام خود ہی ختم کردیا تھا لیکن چوری چھپے یہ ٹریننگ جاری تھی ۔ بجرنگ دل ترشول کے ذریعہ ہندو دھرم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ایودھیا فیض آباد میں کارسیوکوں کی اس طرز پر ٹریننگ دی جارہی ہے کہ وہ رام مندر کی تعمیر کیلئے اسی طرح کا رول ادا کریں جس طرح انہوں نے بابری مسجد کے انہدام کیلئے کارروائی کی تھی ۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ترشول کی ٹریننگ کے پروگرام منعقد کئے جائیں گے اور ترشول تقسیم کئے جائیں گے ۔ لکھنؤ کے اطراف 12 اضلاع میں ایسے 25 مقامات کو منتخب کیا گیا ہے جہاں پر باقاعدہ نوجوانوں کو ترشول اور دیگر ہتھیار چلانے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ وی ایچ پی کی جانب سے /25 نومبر کو ہونے والی تقریب میں تقریباً ایک لاکھ افراد کی شرکت کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ اس میں رام مندر کی تعمیر کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا ۔ دہلی میں /9 ڈسمبر کو بھی ایک تقریب منعقد کی جائے گی جس میں ملک بھر سے نوجوانوں کو طلب کرکے ان میں رام مندر کی تعمیر کیلئے تحریک پیدا کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT