Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / رام مندر کے مسئلہ سے پھر فائدہ اٹھانے سنگھ پریوار کی کوشش

رام مندر کے مسئلہ سے پھر فائدہ اٹھانے سنگھ پریوار کی کوشش

فیض محمد اصغر
ملک میں حالات دن بہ دن خراب ہوتے جارہے ہیں  ۔ اچھے دنوں کا خواب دکھا کر اقتدار حاصل کرنے والے نریندر مودی کی حکومت میں عوام ہنوز اچھے دنوں کا انتظار کررہے ہیں لیکن اچھے دنوں کے دور تک نشان بھی نظر نہیں آرہے ہیں ۔
ہاں ہر طرف بے چینی ، فرقہ پرستی ، غربت ، مہنگائی اور عوامی ناراضگی دکھائی دے رہی ہے ۔ مثال کے طور پر نریندر مودی جی کے اقتدار پر فائز ہونے کے بعد سے ہر قسم کی برائی اور ناپسندیدہ کاموں میں اضافہ ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ برائیاں اور ناپسندیدہ کام مودی جی کی حکومت کے ترجیحی پراجکٹس میں غالباً شامل ہیں ۔ مرکز میں بی جے پی کو اقتدار سنبھالے زائد از 18 ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے اس دوران عام ہندوستانی شہری کو کیا ملا ؟ اگر یہ سوال کسی عام ہندوستانی مرد یا خاتون سے دریافت کیا جائے تو صرف یہی کہے گا کہ ان 20 ماہ میں ملک فرقہ پرستی کی آگ میں جل رہا ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات کے ہر روز اوسط تین واقعات پیش آرہے ہیں ۔ دارالحکومت دہلی سے لیکر ہریانہ تک خواتین محفوظ نہیں ، کمسن لڑکیوں کا اغوا اور ان کی اجتماعی عصمت ریزی کے واقعات اس قدر عام ہوچکے ہیں کہ اب خواتین اور لڑکیوں کا تنہا سفر کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔ اس دوران ہندوستان کی تہذیبی روایات کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔ مختلف افواہیں پھیلا کر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے دانشور ، ادباء ، شعراء اور مصنفین کی آواز ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کی جارہی ہے ۔ ہندوستان کی رواداری کو شدید نقصان پہنچایا گیا اس کا ثبوت وہ 39  دانشور ، شعراء اور مصنفین ہیں جنھوں نے باوقار ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کردیئے ۔ یہ انکشاف پارلیمنٹ میں خود وزیر ثقافت مہیش شرما نے کیا ہے ۔ مودی نے عہدہ وزارت عظمی پر فائز ہوتے ہی خاتمہ غربت کا اعلان کیا تھا لیکن موجودہ حالات میں غربت  دور کرنا کجا بلکہ غریبوں کی پلیٹ سے دال تک چھین لی گئی ۔ سبزیوں کی قیمت میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ متوسط ہندوستانی بھی سبزیاں خریدنے کے بارے میں لاکھ مرتبہ سوچنے پر مجبور ہے ۔ حالیہ عرصہ کے دوران غربت ، فرقہ پرستی ، عدم رواداری کی طرح بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا لیکن صحت عامہ کے شعبہ کو بھی نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ غرض ہندوستانیوں کے اہم مسئلہ پر توجہ دینے کی بجائے مودی حکومت کے وزراء ، ارکان پارلیمان اور بی جے پی کی فرقہ پرست تنظیم آر ایس ایس میں بلا شک و شبہ عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے میں مصروف ہیں ۔ پسماندہ طبقات سے ان کے تحفظات چھین لینے کے خواہاں آر ایس ایس سربراہ جو خود کو اور اپنی تنظیم کو قوم پرست قرار دیتے ہیں حکومت کو عوامی بہبود کے اقدامات کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے اپنی تنظیم کو قوم پرست قرار دیتے ہیں حکومت کو عوامی بہبود کے اقدامات کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے ہندوستانی معاشرہ سے کہہ رہے ہیں کہ شہید بابری مسجد پر رام مندر تعمیر کرنے کیلئے تیاری کریں ۔
ان کے خیال میں گجرات کی سومناتھ مندر کی طرح ایودھیا ایک عظیم الشان رام مندر تعمیر کیلئے عوام کو تیار رہنا چاہئے ۔ موہن بھاگوت کا یہ بیان دراصل بی جے پی کی انتخابی شکستوں کے پیش نظر سامنے آیا ہے کیونکہ آج بی جے پی جس مقام پر  ہے اس کیلئے رام مندر کا مسئلہ بڑا مددگار ثابت ہوا تھا ۔ بھاگوت دراصل رام مندر کی تعمیر کی باتیں کرتے ہوئے نہ صرف عوام کی توجہ ملک کے سلگتے مسائل سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ ہندوتوا کے حامیوں کو مزید بیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں ،وہ رام مندر مسئلہ کو بی جے پی کیلئے سیاسی آکسیجن بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ دوسری طرف موہن بھاگوت اور بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے بہت سچ کہا کہ اس آر ایس ایس اور بی جے پی رام مندر کو زندہ رکھ کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی خواہاں ہے ۔ نتیش کے مطابق بی جے پی اور آر ایس ایس بھگوان رام کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے بی جے پی کے رکن ہوں !
موہن بھاگوت اپنی موت سے قبل رام مندر دیکھنے کے خواہاں ہیں اور حسن اتفاق سے جس نے بھی یہ خواہش کی وہ موت کی آغوش میں پہنچ گیا ۔ وی ایچ پی کے انٹرنیشنل صدر اشوک سنگھل کی بھی خواہش تھی کہ اپنی زندگی میں رام مندر دیکھ لیں ۔ لیکن انھوں نے پرلطف زندگی دیکھی اور نہ ہی رام مندر کی تعمیر سے متعلق ان کی خواہش پوری ہوئی ۔ کاش موہن بھاگوت ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر دیکھنے کی بجائے اپنی زندگی میں ایک ایسا ہندوستان دیکھنے کی خواہش کرتے جہاں مذہب اور ذات پات کا کوئی امتیاز نہ ہو ، فرقہ پرستی کی بجائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا بول بالا اور امن و سکون ہو جہاں مائیں ، بہو ، بیٹیاں محفوظ رہیں ۔ ملک کی 60 فیصد آبادی کو ضرورت سے فارغ ہونے کے لئے جھاڑیوں ، پہاڑوں، میدانوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ جہاں لڑکیوں کی پیدائش کو مبارک سمجھا جائے ۔ جہاں ترقی ہی ترقی و خوشحالی ہو ۔ کاش موہن بھاگوت اور آر ایس اور بی جے پی قائدین کے خیالات تبدیل ہوتے جہاں ترقی ہی ترقی و خوشحالی ہی خوشحالی ہو ۔ کاش موہن بھاگوت اور آر ایس ایس اور بی جے پی کے قائدین کے خیالات تبدیل ہوتے تو کتنا بہتر ہوتا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT