Sunday , November 19 2017
Home / سیاسیات / رام ناتھ کووند بہار اور آچاریہ دیو ورت ہماچل پردیش کے گورنر

رام ناتھ کووند بہار اور آچاریہ دیو ورت ہماچل پردیش کے گورنر

نئی دہلی 8 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) سینئر بی جے پی لیڈر رام ناتھ کووند کو آج بہار کا اور ماہر تعلیم سمجھے جانے والے اچاریہ دیو ورت کو ہماچل پردیش کا گورنر نامزد کردیا گیا ۔ واضح رہے کہ بہار میں جاریہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ 69 سالہ رام ناتھ کووند 1994 سے 2006 کے درمیان دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق اتر پردیش میں کانپور سے ہے ۔ ان کا تقرر ایسے وقت میں کیا گیا ہے جبکہ بہار میں چند ماہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ مغربی بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی اب تک بہار کی اضافی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے ۔ رام ناتھ کووند پیشہ سے وکیل تھے اور وہ بی جے پی شیلڈولڈ کاسٹ مورچہ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ماہر تعلیم اچاریہ دیو ورت ہریانہ کے کروکشیتر میں گروکل کے ذریعہ عصری اور روایتی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ ادارہ آریہ پرتی ندھی سبھا کے تحت چلایا جاتا ہے ۔ 56 ساہ دیو ورت 1981 میں گروکل میں پرنسپل کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ راشٹرپتی بھون سے جاری کردہ اعلامیہ میں ان تقررات کا اعلان کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جب سے یہ دونوں گورنرس کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اسی تاریخ سے اس اعلامیہ پر عمل ہوگا ۔ راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ اب تک ہماچل پردیش کی اضافی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے ۔ رام ناتھ کووند کا تقرر سیاسی اعتبار سے اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے ۔

 

گورنر کے تقرر پر مجھ سے
مشاورت نہیں کی گئی : نتیش کمار
نئی دہلی۔ 8 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گورنر بہار کی حیثیت سے بی جے پی لیڈر رام ناتھ کویند کے تقرر کے لئے مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس کی اطلاع میڈیا کے ذریعہ ہی ملی ہے۔ اب تک یہی نظیر قائم تھی کہ مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے ریاستی حکومت اور اس کے چیف منسٹر سے بات چیت و صلاح و مشورہ کرکے گورنر کا تقرر عمل میں لایا جاتا تھا، اس مرتبہ کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ مجھے گورنر کے تقرر کی اطلاع اخبارات کے ذریعہ معلوم ہوئی ہے۔ بی جے پی نے نتیش کمار کے اعتراض کو نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ گورنرس کا تقرر صدر جمہوریہ کی جانب سے ہوتا ہے اورکسی کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے ۔ پارٹی نے کہا کہ وہ نتیش کمار کے اعتراض کی وجہ سے سمجھنے سے قاصر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT