Thursday , May 24 2018
Home / ہندوستان / ’’رام چبوترہ پر مندر کی تعمیر پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں ‘‘ : حاجی محبوب

’’رام چبوترہ پر مندر کی تعمیر پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں ‘‘ : حاجی محبوب

بابری مسجد پر بیرون عدالت تصفیہ سے تین مدعیان کا انکار ، صرف سپریم کورٹ فیصلہ قبول

ایودھیا ۔19 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مقدمہ کے مدعیان نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر بیرون عدالت تصفیہ قبول نہیں کریں گے ۔ مقامی مسلمانوں کے یہاں منعقدہ ایک اجتماع میں اس مقدمہ کے درخواست گذار حاجی محبوب ، اقبال انصاری ، اور محمد عمر بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان اس مسجد کو کسی دوسرے مقام پر منتقل نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو بطور تحفہ یہ اراضی دے سکتے ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کے صحن میں واقع رام چبوترہ پر ہندو اپنا رام مندر بناسکتے ہیں۔ اس قرارداد نے بابری مسجد ۔ رام مندر مقدمہ میں عدالت کے باہر کسی بھی تصفیہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہاکہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلہ کی پابندی کی جائے گی ۔ اس قرارداد پر دستخط کرنے والوں میں مقدمہ کے تین درخواست گذار بھی شامل تھے ۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اجلاس میں بریلوی ، دیوبندی اور شیعہ فرقوں کے مسلمانوں نے شرکت کی۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت منظور کی گئی جب آرٹ آف لیونگ کے بانی سری سری روی شنکر اور ایک مسلم عالم دین مولانا سلمان ندوی ایودھیا تنازعہ کا بیرون عدالت حل تلاش کرنے کی مساعی میں مصروف ہیں۔ مقدمہ کے مدعی حاجی محبوب نے کہاکہ ہندوؤں کی جانب سے رام چبوترہ پر رام مندر بنانے پر مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ انھوں نے کہاکہ ’’کسی مندر کو منہدم کرتے ہوئے بابری مسجد تعمیر نہیں کی گئی تھی ۔ 22 ڈسمبر 1949 ء سے پہلے تک مسلمان وہاں بپابندی نماز ادا کیا کرتے تھے ۔ 1949 ء سے قبل ہندو بھائیوں نے کبھی بھی اس مسجد پر دعویٰ نہیں کیا تھا ۔ انھوں نے مزید کہاکہ ’’1885 ء میں بابری مسجد کے باہر صحن میں ایک مقام کو رام چبوترہ کا نام دیا گیا تھا اور اس مقام کو رام جنم استھان ( مقام پیدائش ) سمجھا جانے لگا اور وہاں باضابطہ رام لالہ کی پوجا کی جانے لگی تھی ‘‘ ۔ حاجی محبوب نے کہا کہ ’’بابری مسجد کے بیرونی حصہ میں واقع رام چبوترہ پر ہندو بھائی اگر رام مندر بناتے ہیں تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ‘‘ ۔ اس دوران ایودھیا کے مشہور ہنومان گڑھی مندر کے صدر پجاری اور رام جنم بھومی مندر نرمان سمیتی ( ہندو مہاسبھا ) کے صدر نے مسلم عالم دین مولانا سلمان ندوی کی تائید کی ہے ۔ ایودھیا سدبھاؤنا سمیتی کے صدر امرناتھ مشرا نے الزام عائد کیا تھا کہ مولانا ندوی نے ایودھیا میں مندر کی تعمیر کی تائید کیلئے رقم دینے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وہ( مولانا ندوی ) تنازعہ کا شکار ہوگئے تھے ۔تاہم ہنومان گڑھی کے مہنت گیان داس نے کہا کہ مولانا ندوی کے خلاف الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ مہنت گیان داس نے الزام عائد کیا کہ ’’مشرا نے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مقدمہ بیان دینے کیلئے مجھے بھی پانچ کروڑ روپئے ادا کرنے کی پیشکش کی تھی جس کو میں نے ٹھکرادیا تھا‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT