Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / راکھئین میں جاری بحران سے انسانی حقوق کی سنگین صورتحال

راکھئین میں جاری بحران سے انسانی حقوق کی سنگین صورتحال

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو مائنمار میں بلا رکاوٹ رسائی دینے کا مطالبہ
جنیوا 19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق تحقیقات کنندگان نے راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کیخلاف سنگین مظالم اور بدترین بحران کی تحقیقات کیلئے مائنمار میں مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے حقائق کا پتہ چلانے والے کمیشن کے سربراہ مرزوقی دارعثمان نے انسانی حقوق کمیشن سے کہاکہ ’’مبینہ خلاف ورزیوں کے مقامات کو ہمیں اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہوگا‘‘ اور مطالبہ کیاکہ اس ملک میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق تحقیقات کنندگان کو مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔ مرزوقی نے کہاکہ ’’سنگین انسانی بحران جاری ہے جو فوری توجہ کا متقاضی بھی ہے‘‘۔ مائنمار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے انسانی حقوق کونسل نے مارچ میں یہ مشن تشکیل دیا تھا اور بالخصوص ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کیخلاف جرائم کے ارتکاب کی تحقیقات پر توجہ تھی۔ مائنمار کی سویلین رہنما آنگ سان سوچی اقوام متحدہ کی تحقیقات کی مذمت و مخالفت کرتے ہوئے ان تحقیقات کو بے سود قرار دی تھیں اور بارہا یہ واضح کرچکی تھیں کہ ان کی حکومت بین الاقوامی تحقیقاتی ادارہ سے تعاون نہیں کریگی لیکن راکھین میں فوج زیرقیادت ہولناک تشدد سے دہشت زدہ بین الاقوامی برادری کو خوش کرنے سوچی نے آج قوم سے خطاب میں بیرونی مبصرین کو اپنے ملک کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا بذات خود جائزہ لینے کی دعوت دی ہے لیکن ان کے خطاب کے چند گھنٹوں بعد ہی اقوام متحدہ میں مائنمار کے سفیر ہیٹن لن نے حقائق کا پتہ چلانے والے کمیشن کے قیام سے متعلق قرارداد سے سوچی کی بے تعلقی کے موقف کا اعادہ کیا۔ مرزوق دار عثمان نے بعض اطلاعات کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق مائنمار کے اکثریتی بدھسٹ ایک پروپگنڈہ مہم چلارہے ہیں جس میں روہنگیا مسلمانوں کا کیڑے مکوڑوںسے تقابل کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT