Friday , October 19 2018
Home / ہندوستان / راگھو بہل کی قیامگاہ و دفتر پر انکم ٹیکس کے دھاوے، راہول اور ایڈیٹرس گلڈ کا ردعمل

راگھو بہل کی قیامگاہ و دفتر پر انکم ٹیکس کے دھاوے، راہول اور ایڈیٹرس گلڈ کا ردعمل

نئی دہلی 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) محکمہ انکم ٹیکس نے ذرائع ابلاغ کی اہم شخصیت راگھو بہل کی قیامگاہ اور دفتر کی آج ایک مقدمے کے سلسلہ میں جو مبینہ طور پر ٹیکس کی ادائیگی سے گریز کا ہے، تلاشی لی۔ محکمہ انکم ٹیکس کے عملے نے کوئنٹ کے بانی کی رہائش گاہ واقع نوئیڈا پر علی الصبح دھاوا کیا اور دستاویزات و دیگر شواہد جو فرضی طویل مدتی سرمایہ فوائد کے بارے میں ہیں، دستاویزات تلاش کیں۔ یہ فائدہ مختلف استفادہ کنندوں سے حاصل ہوا تھا۔ بہل کے علاوہ دیگر تین استفادہ کنندگان اور ماہرین فن جے لال وانی، انوپ جین اور ابھیمنیو کی عمارتوں پر بھی اسی کارروائی کے سلسلہ میں تلاشی مہم چلائی جارہی ہے۔ اُن کے کاروباری تعلقات بیرون ملک کمپنیوں سے ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ بہل جو اِس وقت ممبئی میں ہے، اُنھوں نے عظیم تفکر ظاہر کیا اور ایڈیٹرس گلڈ کے ساتھ تعلق خاطر ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ انکم ٹیکس کے کئی ملازمین اُن کی قیامگاہ اور کوئنٹ کے دفتر سروے کرنے کے لئے پہونچے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم مکمل طور پر ٹیکس ادا کرنے والی کمپنی ہیں اور تمام مناسب مالی دستاویزات تک رسائی فراہم کردی گئی۔ تاہم ابھی ابھی اُنھوں نے اپنے مکان کی تلاشی لینے والے عہدیدار مسٹر یادو سے بات چیت کی اور اُن سے پرزور درخواست کی کہ وہ دیگر میل یا دستاویزات ضبط نہ کریں جن میں انتہائی سنگین اور حساس صحافتی مواد ہوسکتا اُنھیں اپنے اسمارٹ فونس کا غلط استعمال کرتے ہوئے مواد کی غیر مجاز نقول بھی حاصل نہیں کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر وہ ایسا کریں تو وہ انتہائی مستحکم راستہ اپنائیں گے۔ وہ اپنے سرکاری ٹوئٹر پر تحریر کررہے تھے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ای جی اِس کی تائید کرے گی۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے بہل کی قیامگاہ اور دفتر پر محکمہ انکم ٹیکس کے دھاوے کا تذکرہ کرتے ہوئے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے کہاکہ ’’وہ (بی جے پی حکومت) دھاوے کرے گی، ہراساں کرے گی، حملے کرے گی اور دبائے گی۔ یہی اُن کا ایجنڈہ ہے۔ حکومت ذرائع ابلاغ کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ دریں اثناء نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے محکمہ انکم ٹیکس کی ذرائع ابلاغ کی بڑی شخصیت راگھو بہل کی قیامگاہ اور دفتر پر تلاشی مہم چلانے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاکہ اُس کے خیال میں یہ کارروائی مفادات حاصلہ پر مبنی ہے اور کہاکہ ایسی تلاشی مہمات اور سروے ذرائع ابلاغ کی اہمیت اور آزادی کو سنگین حد تک گھٹادیتے ہیں۔ حکومت کو ایسی کوششوں سے گریز کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT