Thursday , May 24 2018
Home / اداریہ / راہول ‘ تاج پوشی اور ذمہ داریاں

راہول ‘ تاج پوشی اور ذمہ داریاں

ایک طویل وقت کی قیاس آرائیوں اور مختلف گوشوں کی خواہش کے مطابق بالآخر راہول گاندھی کو کانگریس پارٹی کی صدارت سونپ دی گئی ۔ راہول گاندھی اس عہدہ پر اپنی والدہ کے جانشین ہونگے جو 19 سال کے طویل عرصہ تک اس عہدہ پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے زوال سے عروج دیکھا اور پھر عروج سے ایسے زوال کا سامنا کر رہی ہے جس کی ماضی میں شائد ہی کوئی مثال مل سکے ۔ سونیا گاندھی کے 19 سالہ طویل دور صدارت میںکانگریس کو 10 سال تک مرکز میں اقتدار حاصل رہا تھا ۔ اب کانگریس اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ ایسے وقت میں راہول گاندھی نے پارٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہے اور یہ انتہائی مشکل اور چیلنج سے بھرپور ذمہ داری ہے ۔ راہول گاندھی کے سامنے سب سے اولین ذمہ داری پارٹی کی صفوں کو متحد کرنا اور مستحکم کرنا ہے ۔ کانگریس کارکنوں کے حوصلے پست ہیں۔ انہیں بی جے پی کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی جن جن ریاستوں میں حالیہ وقتوں میں انتخابات ہوئے ہیں وہاں کانگریس کو اپنے کارکنوں اور کیڈر میں جوش و جذبہ پیدا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ کئی مقامات پر حالانکہ عوام نے کانگریس کی تائید بھی کی ہے لیکن بی جے پی کی جارحانہ پالیسیوں اور مہم کی وجہ سے کانگریس کو ملنے والی اس تائید کو موثر ڈھنگ سے پیش نہیں کیا جاسکا ۔ اس کی وجہ کارکنوں اور کیڈر میں جوش و خروش کا فقدان ہے ۔ ملک کی تقریبا تمام بڑی ریاستوں میں کانگریس اقتدار ختم ہوچکا ہے ‘ مرکز میں کانگریس کو مسلمہ اپوزیشن کا موقف تک حاصل نہیں ہے اور جہاں کہیں پارٹی کو کوئی کامیابی ملنے کی امید ہوتی ہے وہاں مختلف حربوں اور ہتھکنڈوں سے اسے ناکام کردیا جاتا ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو شائد کانگریس کو اپنی 132 سال کی تاریخ میں کبھی درپیش نہیں ہوئی تھی ۔ جہاں کانگریس کو ناکامیاں ہوئی ہیں وہاں پارٹی کو کیڈر کے حوصلوں کا مسئلہ درپیش رہا ہے ۔ یہ کیڈر اب عوام کے درمیان جانے سے بھی گریزاں ہے اور اس کی قیمت پارٹی کو چکانی پڑ رہی ہے ۔ یہ صورتحال کسی ایک ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ سارے ملک میں یہی مسئلہ ہے ۔
راہول گاندھی کے سامنے ایک اور ذمہ داری ایسے قائدین کو تیار کرنے کی بھی ہے جو ان کے منصوبوں کے مطابق نوجوان ہوں اور انہیں عوام میں مقبولیت بھی حاصل ہو ۔ پارٹی کے کئی سینئر قائدین ایسے ہیں جو پارٹی میں نئی جان ڈالنے کی راہ میں عملا رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ کانگریس معمر قائدین کی پارٹی کہلاتی رہی ہے ۔ اس میں نئی اختراعی سوچ اور پالیسیوں سے ہمیشہ گریز ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ پارٹی سے دور ہوچلا ہے ۔ راہول گاندھی کو اس مسئلہ کو بھی ایسے انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ جہاں معمر اور سینئر قائدین کو بغاوت کرنے سے روکنا ضروری ہے وہیں نوجوان قائدین کو عوام میں پیش کرتے ہوئے ان کی مقبولیت کو بڑھانا اور پھر اس سے استفادہ کرنا بھی ضروری ہے ۔ اس کیلئے ایسی حکمت عملی ہونی چاہئے کہ پارٹی کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا کہیں الٹا اثر نہ ہوجائے ۔ راہول گاندھی کے ساتھ حالانکہ جیوتر آدتیہ سندھیا ‘ سچن پائلٹ ‘ ملند دیورا جیسے قائدین ہیں لیکن انہیں ابھی تک عوام میں اس حد تک مقبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے جہاں پارٹی ان پر اکتفا کرسکے ۔ اس کے علاوہ کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں کانگریس میں کوئی مقبول عام چہرہ ہی دکھائی نہیں دیتا ۔ وہی قدیم اور روایتی چہروں کو پیش کرتے ہوئے کانگریس اپنی تاریخ کے بد ترین وقت تک پہونچ چکی ہے ۔ یہاں سے اگر کانگریس کو اوپر اٹھنا ہے اور اپنی بقا کی لڑائی کو جیتنا ہے تو راہول گاندھی کو انقلابی اور اختراعی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی اور اس کے بغیر بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ۔
کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں کانگریس کا وجود ہی عملا ختم ہوتا جارہا ہے ۔ اترپردیش اس کی مثال ہے ۔ بہار میں حالانکہ پارٹی نے اتحادی سیاست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے موقف کو قدرے مستحکم کرلیا ہے لیکن سکیولر طاقتوں کے اتحاد کے نام پر کانگریس کو کئی ریاستوں میں خود اپنی شناخت سے محروم ہونا پڑا ہے ۔ جہاں کانگریس اپنی خود کی مستحکم شناخت رکھتی ہے وہاں اسے اتحادی جماعتوں کے نہ ملنے سے مسائل ہیں۔ اترپردیش ‘ بہار ‘ مغربی بنگال ‘ ٹاملناڈو ایسی ریاستیں ہیں جہاںکبھی کانگریس کا موقف مستحکم تھا لیکن آج وہاں پارٹی کے پاس کوئی ایک بھی عوامی لیڈر موجود نہیںہے ۔ راہول گاندھی حالانکہ 47 سال کی عمر میں کانگریس کے صدر تو بن گئے ہیں لیکن ان کے سامنے ایک طویل سفر ہے اور اس سفر کی ابتداء انہیں پارٹی کی صفوں کو مستحکم کرنے سے کرنی ہوگی ۔ جب تک پارٹی کی صفیں مستحکم نہیں ہونگی اس وقت تک عوام کو راغب کرنا آسان نہیں ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT