Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / ’’ راہول کی قیادت میں کانگریس تلنگانہ میں تاریخی کامیابی حاصل کریگی ‘‘

’’ راہول کی قیادت میں کانگریس تلنگانہ میں تاریخی کامیابی حاصل کریگی ‘‘

الیکشن 2019 : کے سی آر خاندان بمقابلہ تلنگانہ عوام !
60 سالہ جدوجہد کے بعد تلنگانہ کی تشکیل، نوجوان روزگار سے محروم، صرف کے سی آر خاندان کے ارکان کو اہم عہدے، ٹی آر ایس تمام وعدوں کی تکمیل میں ناکام

حیدرآباد۔/20ڈسمبر، ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہا کہ 2019 کے انتخابات ارکان خاندان کے سی آر بمقابلہ تلنگانہ عوام کے درمیان ہوں گے اور کانگریس پارٹی راہول گاندھی کی قیادت میں تاریخی کامیابی درج کرے گی۔ جڑچرلہ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر انچارج سکریٹری اے آئی سی سی آر سی کنٹیا، سابق وزیر ایس جئے پال ریڈی، قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر، ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ملو بٹی وکرامارک، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ، کانگریس کے ارکان اسمبلی ڈی کے ارونا، جی چنا ریڈی، سمیت کمار، ریونت ریڈی، ومشی ریڈی جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین صدر کانگریس ضلع محبوب نگر عبداللہ کوتوال کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ 60 سالہ جدوجہد کے بعد علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پائی ہے۔ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار نہیں ملا تاہم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے ارکان خاندان کو روزگار مل گیا ہے۔ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں جتنے بھی وعدے کئے گئے ان میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا مگر اس کی جھوٹی تشہیر کرتے ہوئے حکومت عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کے سی آر نے 2014 کے عام انتخابات میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے سماج کے تمام مذاہب اور طبقات کیلئے کوئی نہ کوئی وعدے کرتے ہوئے ان کی تائید حاصل کی ہے۔ حکومت تشکیل دینے کے بعد وعدوں کو فراموش کرتے ہوئے خاندان کے مفادات کو ترجیح دی ہے جس کی انہیں2019 کے عام انتخابات میں قیمت چکانی پڑے گی۔ جن طبقات نے ٹی آر ایس کو اقتدار سونپا ہے وہی طبقات ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے میں اہم رول ادا کریں گے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں ہوگا بلکہ کے سی آر خاندان اور تلنگانہ عوام کے درمیان ہوگا۔ جو لوگ تلنگانہ سے محبت کریں گے وہ کانگریس کو ووٹ دیں گے اور جو لوگ کے سی آر کی ڈکٹیٹر شپ کی تائید کریں گے وہ ٹی آر ایس کو ووٹ دیں گے۔ کانگریس پارٹی نے 1989 اور 2004 میں جو مظاہرہ کیا تھا وہ مظاہرہ پھر ایک بار 2019 میں دہراتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ انچارج اے آئی سی سی سکریٹری تلنگانہ کانگریس امور آر سی کنٹیا نے ٹی آر ایس ہٹاؤ اور تلنگانہ بچاؤ کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کے ارکان خاندان کو فائدہ پہنچانے کیلئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل نہیں دی گئی بلکہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے ، تمام طبقات سے انصاف کرنے کیلئے سونیا گاندھی نے تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر خاندان راج کی اُلٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ مرکز میں بی جے پی اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس بہت جلد زوال پذیر ہوگی اور ملک بھر میں کانگریس کا احیاء ہوگا۔ بی جے پی کی فرقہ پرستی اور ٹی آر ایس کی موقع پرستی سے عوام عاجز آچکے ہیں۔ دونوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے انتخابات کا بڑی بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی نے کہا کہ راہول گاندھی کی قیادت میں نئے سیاسی دور کا احیاء ہوگیا ہے۔ گجرات میں راہول گاندھی نے زہر کا جواب محبت سے دیتے ہوئے نریندر مودی کو چاروں خانے چت کردیئے ہیں گجرات میں کانگریس کے شاندار مظاہرے سے سارے ملک میں کانگریس کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔2019 کے انتخابات میں کانگریس پارٹی تلنگانہ میں حکومت تشکیل دے گی۔

TOPPOPULARRECENT