راہول کے بیرونی نژاد موقف کو نشانہ بنانے پر بی ایس پی عہدیدار برطرف

دیگر پارٹیوں کی شخصیتوں کے تعلق سے اظہارِخیال بی ایس پی کا کلچر نہیں ، جئے پرکاش سنگھ کیخلاف تادیبی کارروائی کے بعد مایاوتی کا بیان

لکھنو ۔17 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے آج نومقررہ نائب صدر پارٹی جئے پرکاش سنگھ کو برطرف کردیا جبکہ ایک روز قبل آخرالذکر نے کہا تھا کہ صدر کانگریس راہول گاندھی کبھی بھی ہندوستانی سیاست میں کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ اُن کی ماں بیرونی نژاد ہیں۔ مایاوتی نے کہا کہ اُنھوں نے جئے پرکاش کے حریف سیاسی پارٹی کی قیادت کے خلاف شخصی تاثرات کو کافی سنجیدگی سے نوٹ کیا اور وہ اُنھیں فوری اثر کے ساتھ بہوجن سماج پارٹی کے قومی نائب صدر کی حیثیت سے ہٹارہی ہیں ۔ گزشتہ روز یہاں بی ایس پی ورکرس کی میٹنگ میں جئے پرکاش سنگھ نے کہا تھا کہ اگر راہول گاندھی اپنے والد (سابق وزیراعظم آنجہانی راجیوگاندھی ) کی مانند ہوتے تو کچھ اُمید رہتی ۔ تاہم اُنھوں نے اپنی ماں (سونیا گاندھی ) کے نقشِ قدم کی تقلید کی ہے جو بیرونی نژاد ہے اور اس لئے ہندوستانی سیاست میں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں ۔ جئے پرکاش کا تعلق مغربی اُترپردیش سے ہے اور اُنھیں بی ایس پی کا نائب صدر مئی میں مقرر کیا گیا تھا ۔ مایاوتی نے کہاکہ جئے پرکاش سنگھ کے ریمارکس اُن کی شخصی رائے کی عکاسی کرتے ہیں اور پارٹی کے کلچر کے مغائر ہیں ۔ ’’مجھے گزشتہ روز معلوم ہوا کہ اُنھوں(جئے پرکاش) نے حریف پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بیان دیا ہے اور اس طرح وہ بی ایس پی کی پالیسیوں سے انحراف کے مرتکب ہوئے ہیں ‘‘۔ خود کو جئے پرکاش کے تبصرے سے لاتعلق کرتے ہوئے مایاوتی نے نشاندہی کی کہ انھوں نے کئی باتیں بی ایس پی کے کلچر کے بالکلیہ خلاف کہے ہیں ۔ اس بات کو سنجیدگی سے نوٹ کرتے ہوئے اور پارٹی اور بی ایس پی کی تحریک کے مفاد میں ہماری پارٹی جئے پرکاش سنگھ کو فوری اثر کے ساتھ قومی نائب صدارت سے ہٹاتی ہے ۔ جئے پرکاش کو مایاوتی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بی ایس پی نیشنل کوآڈینیٹر کی حیثیت سے بھی ہٹادیا گیا ۔ پارٹی ورکرس ، عہدیداروں اور قائدین کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے مایاوتی نے کہاکہ ہر میٹنگ ، کیڈر کیمپ اور جلسہ عام میں کسی کو بھی پارٹی کے نظریہ ، پالیسیوں اور بی ایس پی تحریک کے متعلق اظہارِخیال نہیں کرنا چاہئے ۔ علاوہ ازیں دلت برادری اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیتوں کے اصولوں اور اُن کی جدوجہد پر بھی اظہارِخیال سے گریز کرنا چاہئے ۔ اور جو کچھ بھی کہا جائے اُس میں غیرمہذب زبان کا بالخصوص ممتاز شخصیتوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ۔ باالفاظ دیگر پارٹی ورکرس کو پارٹی کلچر سے انحراف نہیں کرنا چاہئے اور غیرضروری جارحانہ زبان کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے ۔ سابق چیف منسٹر اُترپردیش نے یہ بھی کہا کہ جب تک کسی ریاست میں پارٹی کی جانب سے انتخابی اتحاد کا اعلان نہیں کیا جاتا بی ایس پی ورکرس کو اس بارے میں تبصرہ نہیں کرنا چاہئے یعنی ورکرس کو چاہئے کہ ان اُمور کو پارٹی ہائی کمان پر چھوڑ دیں۔ بی ایس پی ورکرس کو پارٹی کے نظریہ ، اُصولوں اور تحریک کے تعلق سے ہر پروگرام میں شرکاء کو واقف کروانا مناسب بات ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT