Monday , May 28 2018
Home / مضامین / راہول گاندھی اب ’’پپو‘‘ نہیں رہے

راہول گاندھی اب ’’پپو‘‘ نہیں رہے

 

گبر سنگھ ٹیکس،فیر اینڈ لولی اسکیم
وہ بھی انسان ہیں مودی نہیں
کانگریس لیڈر کے دلچسپ ریمارکس

نعیم وجاہت
ملک کی سب سے قدیم 132 سالہ قومی پارٹی کانگریس میں ایک نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔راجیو و سونیا گاندھی کے اکلوتے فرزند 47 سالہ راہول گاندھی پارٹی کے 68 ویں صدر بننے کیلئے صرف ضوابط کی کارروائی باقی رہ گئی ہے۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے سے قبل راہول گاندھی نے ورثے میں ملی خاندانی تربیت اور اخلاقیات کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر قائدین سے آشیرواد حاصل کرتے ہوئے یہ تاثر پیش کردیا کہ وہ ہمیشہ سینئر قائدین کا احترام کریں گے۔ راہول گاندھی کی نئی سیاسی اننگز سے پارٹی کیڈر بالخصوص نوجوانوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ راہول گاندھی 2004 میں پہلی مرتبہ لوک سبھا کیلئے مقابلہ کرتے ہوئے سیاسی میدان میں سرگرم ہوئے اور اپنی 17سالہ سیاسی زندگی میں تین مرتبہ لوک سبھا کیلئے مقابلہ کرنے والے راہول نے کئی نشیب و فراز کا سامنا کیا مگر کبھی انہوں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ 2004 میں ہی کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے کو اقتدار حاصل ہوا ہے۔ اُس وقت سونیا گاندھی کو غیر ملکی قرار دیتے ہوئے بی جے پی نے وزیر اعظم کے عہدہ سے انہیں دور کردیا تھا۔ اُسوقت سونیا گاندھی اپنے فرزند کا نام وزارت عظمیٰ عہدہ کیلئے پیش کرسکتی تھیں لیکن سونیا گاندھی نے ایسی کوئی حماقت نہیں کی بلکہ ملک کے ماہر معاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنادیا۔ جب 2009 میں دوبارہ یو پی اے کو اقتدار حاصل ہوا تواُس وقت سونیا گاندھی کیلئے اپنے فرزند راہول کو وزیر اعظم بنانا اور یو پی اے کی حلیف جماعتوں کو راضی کرانا کوئی بڑی بات نہیں تھی، اُسوقت بھی سونیا گاندھی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ پر اپنا اعتماد پیش کیا اور راہول گاندھی نے بھی اپنی دعویداری پیش کرنے کی جرأت نہیں کی، یہاں تک کہ مرکزی کابینہ میں بھی شامل ہونا ضروری نہیں سمجھا بلکہ تنظیمی ذمہ داری نبھانے میں اپنی دلچسپی دکھائی۔2006 میں پہلی مرتبہ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور کانگریس کی طلباء تنظیم این ایس یو آئی کے علاوہ یوتھ کانگریس کے انچارج نامزد ہوئے۔ راہول گاندھی نے دونوں تنظیموں میں عہدوں پر قائدین کو نامزد کرنے کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس کیلئے تنظیمی انتخابات کروائے اور ملک کی مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کیلئے انتخابی مہم چلائی۔2009 کے لوک سبھا انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی ریاست اُتر پردیش جہاں 80 لوک سبھا حلقے ہیں وہاں 21 حلقوں پر کانگریس کے امیدواروں کو کامیاب بنانے میں راہول گاندھی نے اہم رول ادا کیا، اُسوقت یہ کانگریس کیلئے بہت بڑی کامیابی تصور کی جارہی تھی لیکن اس کے علاوہ راہول گاندھی کے حق میں کوئی دوسری بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ 2012 کے دوران اُتر پردیش کے 403 اسمبلی حلقوں میں کانگریس پارٹی صرف 28 حلقوں تک محدود ہوگئی۔

اس کے پانچ سال بعد منعقد ہوئے انتخابات میں کانگریس کو 21 حلقوں کا مزید نقصان ہوگیا۔ سونیا گاندھی کی ناسازی صحت کے باعث راہول گاندھی 2013 میں پارٹی کے نائب صدر منتخب ہوگئے تب تک ملک کی کئی ریاستوں میں زعفرانی جماعت نے اپنا سر اُبھار لیا تھا۔ 2014 میں بی جے پی کی جانب سے نریندر مودی کو پارٹی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کیلئے امیدوار نامزد کرنے کے بعد راہول گاندھی نے کانگریس کی انتخابی مہم کی باگ ڈور سنبھالی لیکن کانگریس کو تاریخ کی سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور کانگریس پارٹی لوک سبھا کے 44 حلقوں تک محدود ہوتے ہوئے اصل اپوزیشن کے موقف سے بھی محروم ہوگئی۔ بحیثیت صدر کانگریس راہول گاندھی کیلئے2019 کاالیکشن بہت بڑا چیلنج ہے ، خود اپنی اور پارٹی کی ناکامیوں سے انہوں نے کیا سیکھا ہے اب انہیں اپنی لاجواب خدمات اور بے تکان محنت سے ثبوت دینا پڑیگا۔ کانگریس پارٹی میں اکثر یہ سنا اور دیکھا گیا ہے کہ پارٹی کے سینئر اور جونیر قائدین میں تال میل اور رابطہ کا فقدان رہا ہے۔ جب کبھی پارٹی کو نقصان ہوا ہے تب برسر عام تو نہیں مگر بند کمروں کے اجلاس میں پارٹی کے سینئر قائدین نے راہول گاندھی اور ان کی ٹیم پر اُنگلیاں ضرور اُٹھائی ہیں۔ 10سالہ عرصے میں راہول گاندھی نے اپنی صلاحیت کا لوہا نہیں منوایا اور جب بھی انہوں نے کچھ کہا اس سے مخالفین کو ان پر اور کانگریس پارٹی پر تنقید کرنے کا موقع ہاتھ لگا ہے لیکن گزشتہ تین سال کے دوران راہول گاندھی میں کافی تبدیلیاں محسوس کی جارہی ہیں۔ تقاریر کے دوران اب ان کی زبان نہیں لڑکھڑا رہی ہے بلکہ وہ مخالفین پر بجلی بن کر ٹوٹ پڑ رہے ہیں۔ اس کا اندازہ شیوسینا کے سربراہ اُدیے ٹھاکرے کے اس طنزیہ ریمارک سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے اپنی حلیف جماعت بی جے پی کو چوکنا ہوجانے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی اب ’’ پپو ‘‘ نہیں رہے۔
کانگریس کے نوجوان قائد سیاست میں اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی ذہنی نشوونما کو اُبھارنے کے ساتھ ساتھ جسمانی نشوونما یعنی فٹنس پر بھی خاص توجہ دی ہے اورانہوں نے مارشل آرٹ میں بلاک بیلٹ حاصل کیا ہے۔ پارٹی کی صدارت قبول کرنے سے قبل راہول گاندھی نے اپنے لئے نوجوانوں پر مشتمل ایک ٹیم تیار کرلی ہے جو سوشیل میڈیا کے ذریعہ راہول گاندھی اور کانگریس کی امیج کو اُبھارنے میں کلیدی رول ادا کررہی ہے۔ کانگریس کے سوشیل میڈیا شعبہ کی ذمہ داری رمیا کو سونپ دی ہے ، قبل ازیں یہ ذمہ داری کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دپیندر سنگھ ہوڈا نبھاتے تھے۔

اس تبدیلی کے بعد رمیا نے 85 خواتین پر مشتمل ایک وار روم قائم کیا ہے۔ کانگریس کے اہم فیصلوں اور مخالفین کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے وار روم میں حکمت عملی تیار کی جارہی ہے جس کیلئے راہول گاندھی نے انہیں بااختیار بنایا ہے۔ راہول گاندھی کی یہ کوشش اب تک کامیاب رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے کالا دھن کو سفید کرنے کیلئے متعارف کی گئی اسکیم کو پارلیمنٹ میں راہول گاندھی نے ’’ فیئر اینڈ لولی ‘‘ اسکیم قرار دیتے ہوئے طنز کیا ہے اور انہوں نے جی ایس ٹی کو ’’ گبر سنگھ ٹیکس ‘‘ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک ٹیوٹ میں غلطی ہونے پر بی جے پی اس کا مضحکہ اڑا رہی تھی جس پر راہول گاندھی نے فوری اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر اعظم کے خلاف طنزیہ ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ ’’ وہ بھی انسان ہیں‘ مودی نہیں ‘‘ راہول گاندھی کی ٹیم میں رندیپ سرجیوالہ بھی ہیں وہ ہریانہ کے رکن اسمبلی ہیں اور اے آئی سی سی تشہیری کمیٹی کے انچارج بھی ہیں، راہول گاندھی سے قریبی روابط رکھنے والوں میں سرجیوالہ کا شمار ہوتا ہے۔ مہاراشٹرا سے کانگریس کے دو ارکان پارلیمنٹجن میں ایک راجیو ساتو راہول گاندھی کے بااعتماد قائدین میں شامل ہیں جنہیں ابھی تک لوک سبھا میں 11پرائیویٹ بلز پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ امریندر سنگھ راجہ جو پنجاب سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور یوتھ کانگریس صدرکی حیثیت سے انہوں نے مدھیہ پردیش کے ویاپم اسکام اور حصول اراضیات آرڈیننس کے خلاف زبردست جدوجہد کرتے ہوئے راہول گاندھی کا دل جیت لیا ہے۔ سچن پائیلٹ اس وقت راجستھان کانگریس کے صدر ہیں اور راہول گاندھی کی ٹیم کا ایک حصہ ہیں۔ جیوتی رادیتا سندھیا مدھیہ پردیش سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور لوک سبھا میں کانگریس کی آواز بن کر گرجتے ہیں اور وہ بھی راہول گاندھی کی ٹیم میں شامل ہیں۔ راہول گاندھی کی ٹیم کے ارکان میں صرف رندیپ سرجیوالہ ہی 50 سال کے ہیں باقی تمام ارکان 35تا46 سال کی درمیانی عمر کے ہیں۔ نوجوانوں کی یہ ٹیم کانگریس پارٹی میں نیا انقلاب برپا کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ وہ اپنے اغراض و مقاصد میں کہاں تک کامیاب ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
رمیا کو سوشیل میڈیا کی کمان سونپنے سے قبل اس شعبہ پر کانگریس کی گرفت بالکل کمزور تھی لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے اور اب معاملہ ’’ اٹیٹ فار ٹائیٹ ‘‘ یعنی ’’ جیسے کو تیسا ‘‘ تک پہنچ گیا ہے۔ صرف 2 ماہ میں راہول گاندھی کی ٹیوٹر پر فالوئنگ میں 13 لاکھ کا اضافہ ہوگیا ہے اور ان کے فالوورس کی تعداد 37 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ تمام ریاستوں کی پردیش کانگریس کمیٹیوں میں سوشیل میڈیا کے شعبہ کو مستحکم بنانے پر پارٹی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

نسلِ نو اقوام اور ممالک کا مستقبل ہوتی ہے جو ملک کی تعمیر و استحکام کے علاوہ قوموں کی حوصلہ افزائی کی اس وقت نقیب ثابت ہوسکتی ہے جن میں قائدانہ صلاحیتیں موجود ہوں۔ ہندوستان ایک ایسی زرخیز زمین ہے جہاں قائدنہ صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کو اپنے کمالات دکھانے کا موقع میسر آتا ہے۔ ملک کی آزادی کیلئے زندگیاں قربان کرنے والے گاندھی خاندان کے سپوت کا مقابلہ ایک چائے والے سے ہے لیکن اس میں بھی ایک مثبت پہلو نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، آزاد ہند کی 70 سالہ تاریخ میں گاندھی خاندان کے تین افراد نے قربانی دے کر ملک کے سیکولر ڈھانچے کو برقرار کھنے کی کوشش کی ہے جس کی دنیا کے کسی اور ملک میں نظیر نہیں ملتی۔ برطانیہ میں ملکہ ایلزیبتھ شاہی موجود ہے لیکن اس خاندان نے قربانیوں کی ایسی مثال پیش نہیں کی جو مثال گاندھی خاندان نے گزشتہ 7 دہوں میں پیش کی ہے۔ راہول گاندھی کیلئے کانگریس کی صدارت اورنگ زیب کو حاصل ہونے والا کوئی شاہی تخت نہیں ہے بلکہ اُن کانٹوں کا تاج ہے جس میں اُن کے اسلاف کا خون موجود ہے۔ یقیناً اندرا گاندھی، سنجے گاندھی اور راجیوگاندھی کے قاتلوں کو راہول گاندھی معاف کرسکتے ہیں مگر بابائے قوم گاندھی جی کے قاتل کے نظریات سے مقابلہ کرنا اور انہیں اقتدار سے بیدخل کرنا راہول گاندھی کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ سونیاگاندھی نے 19 سال کانگریس کی باگ ڈور سنبھالنے کے باوجود وزیر اعظم کے عہدہ کی قربانی دیتے ہوئے ملک کی وزارت ِعظمیٰ کے عہدہ عظمت کو برقرار رکھنے کی جو مثال پیش کی ہے دنیا بھر میں ایسی قربانی کی مثال نہیں ملتی۔ قوموں میں امیراور غریب کے درمیان تصادم و اختلاف ہمیشہ رہا ہے اور جب غربت چائے والے کو حکمراں بنادیتی ہے تو امجدؔ حیدرآبادی کی رباعی یاد آتی ہے:
کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے
تو مانند حباب اُبھر کراِتراتا ہے
ذرا سی بات پر کرتے ہیں فخرِ خصص
تِنکا تھوڑی سی ہوا سے بھی اُڑ جاتا ہے
راہول گاندھی کی صدارت ان تنکوں کو اُڑانے کیلئے شروع ہونے والی ہوائیں ہیں اور اس کی شروعات گجرات اسمبلی انتخابات میں کانگریس لہر کی پیش قیاسی سے ہوچکی ہے۔ گجرات انتخابات میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہویا نا ہے، راہول گاندھی کے 24 اکبر روڈ میں بحیثیت صدر داخلہ کی اطلاع نے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی آبائی ریاست گجرات کا رُخ کرنے پر مجبور کردیا ، اگر یہی لہر برقرار رہی اور حسب توقع راہول گاندھی ہندوستان کو اُس کا مستحقہ مقام دلانے کی جدوجہد میں لگے رہیں تو ایسی صورت میں پردھان سیوک کو کارسیوک کی حیثیت سے دوبارہ ہمالیہ کی گمنام گھائیوں میں زندگی گذارنی پڑسکتی ہے۔ گجرات انتخابات میں اقتدار کی لڑائی میں اگر کانگریس کو مستحکم کرنے اور نشستوں میں اضافہ کرنے میں مدد ملتی ہے تو یہ کانگریس کیلئے بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس کامیابی کا سہرا راہول گاندھی کو جائیگا کیونکہ گجرات کے انتخابات میں سونیا گاندھی نے کوئی مہم نہیں چلائی اور نہ ہی پرینکا گاندھی مہم کا حصہ رہیں بلکہ سیکولر طاقتوں کے ساتھ پچھڑے طبقات جو اپنی پسماندگی سے پریشان ہیں وہ سب راہول گاندھی کی طاقت بنے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT