Tuesday , November 21 2017
Home / اداریہ / راہول گاندھی اور کانگریس

راہول گاندھی اور کانگریس

بہت آسان ہے تشخیص اب امراضِ موذی کی
مگر پہچاننا مشکل ہے اپنے دوست دشمن کو
راہول گاندھی اور کانگریس
کانگریس کیلئے اس ملک میںاب راستے تو بہت ہیں مگر منزل کوئی نہیں دکھائی دیتی۔ پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی کو صدر کا عہدہ سنبھالنے کیلئے کانگریس کے سینئر گوشوں سے بھی زور دیا جارہا ہے۔ ہندوستان کی تیزی سے بدلنے والی سیاسی کیفیت کے درمیان کانگریس کا موقف افسوسناک حد تک کمزور ہوچکا ہے۔ ملک کو فرقہ پرستوں کے حوالے کرنے میں اس کا جو رول رہا ہے اس سے ہر سیکولر شہری واقف ہے۔ آخر کب تک کوئی زوال پذیر پارٹی اور کمزور ماحول میں اس کا ساتھ دے گا۔ پارٹی کی قیادت ہی اپنی ساکھ مضبوط بنانے سے بے خبر ہو تو آگے بڑھو کا نعرہ لگانے والوں کی کوشش رائیگاں ہوجائے گی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ویرپا موئیلی نے راہول گاندھی کو صدر کانگریس بنانے کی وکالت کرتے ہوئے انہیں کھیل کا رخ بدلنے والا کھلاڑی قرار دیا ہے۔ راہول گاندھی سیاسی میدان کے ایسے ناکام کھلاڑی ہیں جن کے بارے میں عوام نے اپنی رائے قائم کرلی ہے۔ اب انہیں کھیل کا رخ بدلنے والا سیاسی کھلاڑی قرار دیا جاتا ہے تو یہ مزاحیہ انداز میں کہی جانے والی بات سمجھی جائے گی۔ کانگریس کا داخلی نظام درہم برہم ہے۔ تنظیمی سطح پر پارٹی بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکی ہے۔ اس کو مستحکم و مضبوط بنانے کیلئے راہول گاندھی میں تنظیمی صلاحیتیں ہیں۔ اس پر کوئی یقین نہیں ہے۔ کل تک کانگریس قیادت کو دودھ میں دھلے صاف ستھرے سیاسی ماحول نصیب تھا اور سیاسی نظام کیلئے اس نے کام کیا تھا مگر اس کی خرابیوں نے صاف ستھرے سیاسی ماحول کو مکدر کردیا تھا۔ اسی ماحول میں وہ گم ہوکر رہ گئی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ممکن نہیں کہ کانگریس کا احیاء ہوسکتا ہے۔ راہول گاندھی نے پارٹی کی پرانی طاقت کو بحال کرنے بیرونی دورے شروع کئے ہیں۔ ملک کے اندر پارٹی کی کمر اور ساکھ کو درست کرنے کے بجائے وہ خارجی طور پر یعنی عالمی فورم میں کانگریس کی پہچان مٹنے سے بچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران کانگریس کو غیرمقیم ہندوستانیوں سے قریب کرنے کی کوشش کی کیونکہ بی جے پی نے بیرون ہند اپنے حامیوں میں اضافہ کرلیا ہے۔ این آر آئیز کی بڑی تعداد بی جے پی کی حامی ہے۔ ان کے درمیان پہنچ کر راہول گاندھی نے کانگریس کی بیرون ملک شناخت کو درست کرنے کی کوشش کی۔ بیرونی ملکوں میں مقیم ہندوستانیوں کو پارٹی کے قریب لانے انہیں درست بنانے اور بیرونی دنیا کے بااثر عوام کا دل جیتنے کی انہوں نے جو حکمت عملی تیارکی ہے، اس میں کامیابی ملنا غیریقینی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں انہوں نے طلباء سے خطاب کیا تھا۔ سلیکان ویلی بھی گئے اور امریکی کانگریس کے قائدین اور تھنک ٹینکس بھی بات چیت کی۔ اس طرح کی مساعی کے ذریعہ وہ یہ پیام دینا چاہتے تھے کہ انکی پارٹی کی سیاسی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے وہ عالمی سطح پر ایک بااثر آزادانہ اظہارخیال کی حامل شخصیت ہیں لیکن ان کے تعلق سے خود پارٹی کے بعض قائدین کی حقیقت بیانی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہندوستان میں ملک کی قیادت کیلئے ابھی تیار نہیں ہیں۔ ان کے حامی پارٹی قائدین جیسے سابق چیف منسٹر ترون گوگوئی کو راہول گاندھی میں کئی خوبیاں نظر آرہی ہیں۔ نہرو گاندھی خاندان کے قریب رہ کر کام کرنے والے ترون گوگوئی نے آخر راہول گاندھی کو ملک کی قیادت کرنے والی اہل شخصیت کے طور پر کیا نظر آیا یہ وہی بہتر جانتے ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں راہول گاندھی کی تقریر کو لیکر ہندوستان کی قیادت کی اہلیت تک کافی فرق پایا جاتا ہے۔ صرف لفظوں سے کھیل کر تقریر کرنے سے کوئی گرتی ہوئی ساکھ کو مضبوط بناکر قیادت کی ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا۔ البتہ کانگریس ان کے دورہ امریکہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ سال 2019ء کے عام انتخابات میں انہیں وزارت عظمیٰ کا امیدوار بناکر پیش کرے گی کو اس کا راست فائدہ بی جے پی کی موجودہ قیادت کو ہوگا۔ ملک کی موجودہ سیاسی سوچ سے عوام کو باہر نکالنے کیلئے ایک نئی سوچ اور نئی امیدوں کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی نسل کے رائے دہندوں کو ترقی کی سمت لے جانے کیلئے ٹھوس پالیسیوں اور منصوبوں اور روزگار پر مبنی اسکیمات پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بی جے پی کی پانچ سالہ ناکام کارکردگی سے عوام کو باخبر کرانے میں کانگریس کامیاب نہیں ہوگی تو اسے عام انتخابات میں کامیابی کا خواب دیکھنا چھوڑنا ہوگا۔ اس وقت ملک کے عوام کی بڑی آزمائش ہے اور راہول گاندھی کیلئے امتحان ہے۔ کانگریس کی قیادت کرتے ہوئے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا خواب دیکھنے کے ساتھ سیاسی تدبر، فراست اور حکمت عملی اختیار کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ اب تک کی ان کی سیاسی کاوشوں سے پتہ چل چکا ہیکہ وہ ہر ریاست میں اپنی انتخابی مہم میں ناکام ہوئے ہیں اور بی جے پی کے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنے ہیں آئندہ ان کی انتخابی حکمت عملی بھی اسی ڈگر پر رہے گی تو وہ ہندوستان کے اندر فرقہ پرستوں کو مزید مضبوط ہونے کا موقع دیں گے۔
ملک کی دفاعی طاقت اور ناتجربہ کار قیادت
ملک کے تینوں خدمات کی دفاعی طاقت کے بارے میں اب تک کوئی شک و شبہ پایا نہیں جاتا تھا لیکن جب سے نریندر مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت نے سرحدی تنازعات کے درمیان وزارت دفاع کیلئے ایک ناتجربہ کار خاتون کو ذمہ داری دی ہے تو اس پر بعض مخصوص گوشوں سے تنقید بھی کی جارہی ہیں۔ نئی وزیردفاع نرملا سیتارامن کی ناتجربہ کاری کے بارے میں فکرمند ہونے والوں کو یہ بات ضرور یاد رہنی چاہئے کہ اے کے انٹونی اور منوہر پاریکر اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربات کے باوجود دفاعی امور کی انجام دہی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے سیاسی نظام کی بدبختی یہی ہیکہ یہاں پر کسی بھی وزیر سے اس کے قلمدان کے مطابق قابل اور علم و فہم کا حامل ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ صرف قسمت سے ایک اچھا وزیر ہی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا ہے اور اس کا بہترین نظم و نسق ہی اس کی وزارت کے تحت انجام دیئے جانے والے کاموں سے عوام کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ حکومت کے اندر جو بھی اتھاریٹی ہوتی ہے وہ خودمختار بن کر فیصلے کرتی ہے اس طرح بعض فیصلے تباہ کن بھی ہوتے ہیں۔ نرملا سیتارامن کل تک بی جے پی کی ترجمان تھیں۔ آج وہ ملک کی دفاعی طاقت کی سربراہ ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ان پر حد سے زیادہ بھروسہ کرکے ملک کی دفاعی طاقت ان کے حوالے کردی ہے۔ 3,60,000 کروڑ روپئے بجٹ کی حامل دفاعی وزارت کے اندر انہیں کافی اہم اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ سرحدی کشیدگی اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ تنازعات کے درمیان ملک کے تینوں خدمات کی سربراہی کرنے کیلئے مؤثر رول ادا کرنے اور کامیاب پالیسیوں کو وضع کرنے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT