Tuesday , July 17 2018
Home / Top Stories / راہول گاندھی ملک کے سب سے بڑے ’’ پپو‘‘: کے ٹی آر

راہول گاندھی ملک کے سب سے بڑے ’’ پپو‘‘: کے ٹی آر

۔2019 کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی ناکامی پر سرگرم سیاست ترک کردینے کا اعادہ
حیدرآباد۔/7فبروری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و میونسپل کے ٹی راما راؤ نے صدر کانگریس راہول گاندھی کو ملک کے سب سے بڑے ’’ پپو ‘‘ قرار دیا جن کے تعلق سے ملک گیر سطح پر یہی رائے قائم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ارکان خاندان پر نکتہ چینی کررہی ہے۔ یہاں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اس بات کو دوبارہ دہرایا کہ اگر ٹی آر ایس حکومت 2019 کے عام انتخابات میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی تو وہ سرگرم سیاست ترک کردیں گے۔ ہم اپنی طاقت کا مظاہرہ آئندہ انتخابات میں کریں گے اور کانگریس کو پھر ایک بار دھول چٹادیں گے۔ وہ اپنی بات پر قائم ہیں کہ ان کی پارٹی کو اقتدار نہ ملنے کی صورت میں وہ سیاست چھوڑ دیںگے۔ وہ کانگریس کے تلنگانہ صدر اتم کمار ریڈی کے علاوہ کسی کا بھی چیلنج قبول کرنے تیار ہیں۔ اتم کمار کو بھی ان کا چیلنج قبول کرنا چاہیئے۔ اگر اتم کمار ایک مضبوط لیڈر ہیں تو میرا چیلنج قبول کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ ٹی آر ایس آئندہ انتخابات کا تنہا مقابلہ کرے گی۔ کسی بھی دوسری سیاسی پارٹی سے کوئی اتحاد نہیں کیا جائے گا۔عوام نے ٹی آر ایس حکومت پر کامل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور حکومت نے اپنے فلیگ شپ پروگراموں اور بہبودی اسکیمات کے ذریعہ عوام کا دل جیت لیا ہے۔ سوٹ اور بوٹ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کانگریس پر تنقید کی اور کہا کہ اے آئی سی سی صدر راہول گاندھی میں سیاسی شعور نہیں ہے۔ کانگریس نے اب تک جو کچھ بھی الزامات عائد کئے ہیں اس میں کوئی سچائی نہیں ہے یہ الزامات صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے عائد کئے گئے تھے۔ راہول کی نااہلیت کے باعث ہی کانگریس انتخابات جیتنے میں ناکام ہورہی ہے۔ خود راہول کے حلقہ لوک سبھا میں کانگریس بلدی انتخابات بھی نہیں جیت سکی۔ انہوں نے اتم کمار ریڈی کے اس دعویٰ کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ انتخابات میں کانگریس 70 نشستوں پر کامیاب ہوگی اور اقتدار حاصل کرے گی۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ان کی حکومت نے عوام کی بہتر خدمت کی ہے اس کے عوض ٹی آر ایس کو اس مرتبہ بھاری اکثریت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرتے ہوئے کامیابی ملے گی۔ انہوں نے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

TOPPOPULARRECENT