Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / راہول گاندھی نے 22 سال کا حساب مانگ کر بی جے پی قائدین کی نیندیں حرام کردی

راہول گاندھی نے 22 سال کا حساب مانگ کر بی جے پی قائدین کی نیندیں حرام کردی

حیدرآباد۔8ڈسمبر(سیاست نیوز) گجرات اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو نہلے پہ دہلا دیا ہے اور گجرات کے 22 سالہ دور اقتدار کا حساب مانگا ہے اور گجرات کے رائے دہندوں کو دعوت فکر دی ہے جس کے سبب بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین میں زبردست ہلچل پید ہوئی ہے کیونکہ 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس سے 60 سال کا حساب مانگتے ہوئے کانگریس کو عوامی کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا اور اس بات کا استفسار کیا جا رہا تھا کہ 60برسوں کے دوران کانگریس نے کیا کارنامہ انجام دیا لیکن اب کانگریس نے گجرات میں 22 برسوں کا حساب مانگتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ 22برسوں کا حساب دینا کوئی مشکل نہیں ہے اور ہندستان کی صرف ایک ریاست کا حساب پوچھا جا رہا ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی گجرات کو صنعتی ترقی ‘ تجارتی ترقی اور خواتین کیلئے محفوظ ریاست کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ گجرات نے ان امور میں ترقی کی ہے لیکن کانگریس کی جانب سے بی جے پی کے ان دعوؤں کی قلعی کھولنے کی ممکنہ کوشش کی گئی ہے اور رائے دہندوں کو اس سلسلہ میں سونچنے پر مجبور کیا جا چکا ہے ۔ رائے دہندے اب یہ سونچ رہے ہیں کہ اگر گجرات خواتین کیلئے محفوظ ہے تو ہراسانی کا شکار خواتین کو انصاف کے حصول کا فیصد 3 تک محدود کیوں ہے اور کیوں خواتین کو ہراساں کرنے والے ملزمین کو جلد از جلد سزائیں نہیں سنائی جاتی ؟ اسی طرح اگر گجرات خواتین کیلئے محفوظ ریاست ہے تو ملک کی 29 ریاستوں میں گجرات کو بردہ فروشی میں 5واں مقام کیوں حاصل ہے ؟ گجرات میں 22 سال کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کو خواتین کیلئے محفوظ بنانے کی سمت پیش رفت کی ہے اور آدھی رات کو بھی خواتین سڑک پر نکل سکتی ہیں تو پھر ایسڈ حملوں میں گجرات ملک کی سرفہرست ریاستو ںمیں 5واں مقام کیوں حاصل کئے ہوئے ہے؟اسی طرح کمسن لڑکیوں کی عصمت سے کھلواڑ کے معاملہ میں بھی گجرات ملک کی ریاستو ںمیں 10 ویں نمبر پر ہے۔ کانگریس کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان سوالات سے رائے عامہ تو ہموار ہو رہی ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی ان امور کو چھوڑ کر انتخابی عمل کے دوران قومی سیاست اور خاندانی سیاست کے علاوہ فرقہ وارانہ رنگت کے حامل مسائل کو چھیڑ رہی ہے۔ کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے استفسار کیا ہے کہ گجرات کے دو اہم شہر احمدآباد اور سورت میں کیوں ملک کے ان 10 سرفہرست شہروں میں شامل ہیں جہاں خواتین کے خلاف جرائم کی تعداد سب سے زیادہ ہے؟

کانگریس کے ان سوالات کے جواب بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین نہیں دے پا رہے ہیں اور اس بات کو رائے دہندے سمجھ رہے ہیں لیکن انہیں خائف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات کو خواتین کی ترقی کیلئے مثالی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گجرات ملک میں تعلیم نسواں کے معاملہ میں 20ویں نمبر پر اور2001تا2011 کی مردم شماری کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ گجرات میں تعلیم نسواں کے تناسب میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ 2001 میں لڑکیوں کی تعلیم کا تناسب 70.73 تھا جبکہ 2011 تک یہ گھٹتے ہوئے 57.8 فیصد رہ گیا ہے ۔ اسی طرح قومی سروے برائے اعلی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گجرات میں لڑکیوں کی تعلیم کا اوسط قومی اوسط سے بھی کم ہوچکا ہے قومی اوسط 23.5 ریکارڈ کیا جا رہاہے جبکہ گجرات میں 20.5 پر اندراج مفقود ہو چکا ہے۔گجرات میں خواتین کی صحت اور تحفظ کے علاوہ تعلیمی ترقی کے سلسلہ میں کئے جانے والے دعوؤں کے متعلق کانگریس کی ’’پول کھول‘‘ مہم سے بی جے پی کی نیندیں حرام ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین موجودہ حالات کا سامنا امتحان تحریر کرنے سے قبل امیدوار کی طرح کر رہے ہیں اور 22 سالہ تعلیم کے ایک امتحان کے طور پر 2017 گجرات اسمبلی انتخابات کو دیکھا جا رہاہے اور کہا جارہا ہے کہ ریاست گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار حاصل نہیں کرتی ہے تو ایسی صورت میں کانگریس 22 سال کے دوران کئے گئے سرکاری سرپرستی والے جرائم کو منظر عام پر لا دے گی جس کے نتیجہ میں 2019 کے عام انتخابات کے دوران اقتدار جانے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ 22 سال کے دوران گجرات میں تاجرین کی ترقی کا سہرا حکومت گجرات نے اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ہے اور گجرات کے تجارتی گھرانوں کی ترقی کو اپنی ترقی اور ریاست کی ترقی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعلق عوام میں یہ رائے عام ہوتی جا رہی ہے کہ امبانی اور اڈانی کی ترقی کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے نریندر مودی اسے گجرات کی ترقی قرار دے رہے ہیں اور آج بھی گجرات میں سڑکوں اور برقی کے مسائل کو مقامی مسائل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو بی جے پی کے 22سالہ دور حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

 

گجرات انتخابات کا پہلا مرحلہ
آج 89 حلقوں میں رائے دہی
احمدآباد ۔ 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے 182 رکنی اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کے تحت کل ہفتہ کو سوراشٹرا اور جنوبی گجرات کے 89 حلقوں میں رائے دہی ہوگی جہاں 977 امیدوار مقابلہ کررہے ہیں۔ ان انتخابات سے دو بڑی جماعتوں کے وعدے وابستہ ہیں۔ حکمراں بی جے پی لگاتار پانچویں میعاد کیلئے اقتدار پر واپسی کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اپوزیشن کانگریس اپنے انتخابی احیاء کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے لئے وقار کا مسئلہ سمجھے جانے والے ان انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلہ کے تحت 14 ڈسمبر کو شمالی اور وسطی گجرات کے 93 حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور 18 ڈسمبر کو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ نتائج کا اعلان ہوگا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں انتہائی تلخ و تند مہم جاری رہی۔ پہلے مرحلہ میں 2.12 کروڑ ووٹرس اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ پہلے مرحلہ کی انتخابی لڑائی میں چیف منسٹر وجئے روپانی (راجکوٹ ویسٹ)، کانگریس کے شکتی سنہہ گوہل (مانڈوی) اور پریش دھنانی (امریلی) جیسے چند اہم امیدوار میدان میں ہیں۔ ان انتخابات کو بالخصوص وزیراعظم مودی کے لئے وقار کا مسئلہ اور بہت جلد کانگریس کی صدارت پر فائز ہونے والے راہول گاندھی کے لئے تیزابی امتحان سمجھا جارہا ہے ۔
اور شاید یہی وجہ ہیکہ یہ دونوں قائدین انتھک مہم میں مصروف ہیں اور تلخ تنقیدوں کے تبادلوں پر مبنی دونوں قائدین کی یہ مہم دوسرے مرحلہ کے اختتام تک جاری رہے گی۔ کانگریس نے گذشتہ روز اپنے ایک سینئر لیڈر منی شنکرایئر کو معطل کردیا تھا جنہوں نے مودی کا حوالہ دیتے ہوئے ’’نیچ قسم کا آدمی‘‘ کا فقرہ استعمال کیا تھا، جس سے انتخابات سے ایک تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس مہم کے دوران مودی اور گاندھی نے ایک دوسرے کو کئی موقعوں پر تنقید کا نشانہ بنایا اور بعض صورتوں میں ان دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف شخصی ریمارکس بھی کئے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران موضوعات بھی بدلتے رہے بالخصوص ایودھیا ملکیت کا مقدمہ، کانگریس کی صدارت پر راہول گاندھی کی یقینی رسائی، مندروں میں ان (راہول) کی حاضری بھی ا مہم کے چند اہم موضوعات رہے۔ راہول گاندھی اس مرتبہ وزیراعظم نریندر مودی کو ان کی گھریلو میدان پر چیلنج پیش کرنے والے اہم قائد کی حیثیت سے ابھرے۔ سوراشٹرا اور جنوبی گجرات میں مودی نے 15 ریلیوں سے خطاب کیا۔ راہول ان علاقوں میں 7 دن گذارتے ہوئے کئی جلسوں سے خطاب کیا۔

 

ناشائستہ زبان کا استعمال، مودی سیاست چھوڑ دیں :کانگریس
نئی دہلی، 8 دسمبر(سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے سینئر لیڈر منی شنکر ایر کو پارٹی سے معطل کیے جانے کے بعد آج وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے رہنماؤں کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کرتے رہتے ہیں اور اگر ان میں کچھ بھی اخلاقی حس ہے تو اس کے لئے وہ خود سیاست سے ریٹائرمنٹ لے کر دکھائیں۔کانگریس کے ترجمان اجے کمار نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات پر کہا کہ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے وزیر اعظم کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر پارٹی کے سینئر لیڈر منی شنکر ایر کے خلاف کارروائی کرکے اسے معطل کر دیا ہے ۔
کیونکہ قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کرنے والوں کے لئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی، صدر بی جے پی امیت شاہ اور اس کے دیگر قائدین کانگریس اور اس کے لیڈروں کے خلاف مسلسل ناشائستہ زبان استعمال کر رہے ہیں۔ مودی کی شہ پاکر بی جے پی کے دیگر قائدین کے بول بھی ناگفتہ بہ حد تک بگڑے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT