Wednesday , December 19 2018

راہول گاندھی کا دورۂ تلنگانہ، خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان سے ملاقات کرینگے

ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پی سی سی ملو بٹی وکرامارک کی پریس کانفرنس

ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پی سی سی ملو بٹی وکرامارک کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /23 اپریل (سیاست نیوز) ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ راہول گاندھی نے تلنگانہ کا دورہ اور خودکشی کرنے والے کسانوں کے ارکان خاندان سے ملاقات کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دس ماہ کے دوران تلنگانہ میں برقی قلت اور دیگر مسائل سے دوچار 939 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ دہلی میں 19 اپریل کو کسانوں کی ریلی کامیاب ہونے کے بعد تلنگانہ کے کانگریس قائدین نے راہول گاندھی سے ملاقات کی اور تلنگانہ کے کسانوں کے مسائل سے انھیں واقف کرایا، جس پر انھوں نے تشویش ظاہر کی اور کہا کہ وہ خودکشی کرنے والے کسانوں کے ارکان خاندان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے تلنگانہ پردیش کانگریس کو ان کے دورہ کی حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیا۔ مسٹر وکرامارک نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے آئندہ پندرہ سال تک تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے ادعا کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاید کے سی آر کو ہندوستانی جمہوریت پر یقین نہیں ہے، جب کہ ہندوستان سے خاندانی راج کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقتدار حاصل ہوتے ہی کے سی آر اور ان کا خاندان مغرور ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹی آر ایس حکومت اندرون ایک سال عوامی اعتماد سے محروم ہو گئی ہے۔ انھوں نے کسانوں کو اسرائیل روانہ کرنے کے نام پر ٹی آر ایس ارکان اسمبلی، ریاستی وزیر کے فرزند اور او ایس ڈی کو روانہ کرنے کے احکامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب کے سی آر کے فارم میں تیار ہونے والی کاشت سے ہر چھ ماہ میں دس کروڑ روپئے کا فائدہ ہو رہا ہے تو کسانوں کو اسرائیل روانہ کرنا فضول ہے، انھیں کے سی آر کے فارم ہاؤس میں تربیت دینی چاہئے۔ ملو بٹی وکرامارک نے ان کے اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کے درمیان اختلافات کی تردید کی اور کہا کہ کوئی بھی فیصلہ ہم دونوں مشاورت سے کرتے ہیں۔ تلنگانہ کانگریس کی نئی عاملہ کی تشکیل سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے، جب کہ کانگریس ہائی کمان نے بھی نئی کمیٹی کی تشکیل کے لئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کمیٹی میں نوجوانوں کو اہمیت دی جائے گی، مگر سینئر قائدین کو نظرانداز بھی نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان سے مشاورت کرکے ہر فیصلہ میں انھیں حصہ دار بنایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT