Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / راہول گاندھی کو پارلیمنٹ میں ثبوت پیش کرنے کا چیلنج

راہول گاندھی کو پارلیمنٹ میں ثبوت پیش کرنے کا چیلنج

حکومت اور پی ایم او کو مورد الزام قرار دینے پر شدید ردعمل، ایوان کی کارروائی متاثر نہ کرنے بی جے پی وزراء کا زور
نئی دہلی 9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج راہول گاندھی کو جوابی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں چیلنج کیاکہ نیشنل ہیرالڈ مسئلہ پر ایوان کا وقت ضائع کرنے کی بجائے وہ حکومت اور پی ایم او کے خلاف عائد کردہ الزامات کا پارلیمنٹ میں ثبوت پیش کرے۔ پارلیمنٹ میں آج بھی سیاسی و خاندانی انتقام کا الزام عائد کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی نے کارروائی کو معطل کردیا تھا۔ آج جیسے ہی نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے یہ الزام عائد کیاکہ نیشنل ہیرالڈ مقدمہ صد فیصد سیاسی انتقام ہے جو پی ایم او کے ذریعہ لیا جارہا ہے، مرکزی وزیر راجیو پرتاب روڈی نے فوری اٹھ کر کہاکہ راہول کے پاس یہ حوصلہ نہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بات کریں۔ وہ (راہول گاندھی) ایوان کی کارروائی کو متاثر کرنے کی اصل وجہ بن رہے ہیں۔ عدالت نے ان کے اور سونیا گاندھی کے خلاف ازخود کارروائی کی ہے اور وہ الزامات عائد کرنے کے بعد ہیرو بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ اُن میں یہ حوصلہ نہیں کہ ایوان کے اندر آئیں اور وہ بات کہیں جو میڈیا سے ایوان کے باہر کہی جارہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ راہول گاندھی کو اگر حوصلہ ہے اور وہ فی الواقعی دیانتدار ہیں تو انھیں پارلیمنٹ میں آکر عدلیہ کے خلاف انھوں نے جو بیان دیا اُس کا ثبوت دینا چاہئے۔ انھوں نے حکومت اور پی ایم او کو مورد الزام قرار دیا ہے لیکن اس کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ انھیں چاہئے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں ایوان میں اس کا ثبوت بھی پیش کریں۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ عدالت میں اس مسئلہ کا تصفیہ کرلیں کیوں کہ حکومت اور پارلیمنٹ اس معاملہ میں کچھ نہیں کرسکتی۔ انھوں نے پارلیمنٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نیشنل ہیرالڈ مقدمہ سے حکومت یا ایوان کا راست یا بالواسطہ تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک عدالتی فیصلہ ہے اور پارلیمنٹ کا وقت ضائع کرنا جمہوریت کے لئے بہتر نہیں ہے۔ وہ کانگریس پارٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ عدالت میں اس معاملہ کی یکسوئی کرلیں اور پارلیمنٹ کی کارروائی کو متاثر نہ کریں۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے حکومت پر انتقامی سیاست کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر راجیہ وردھن راتھوڑ نے کہاکہ کانگریس پارٹی عدلیہ پر تنقید کررہی ہے جبکہ یہ معاملہ عدالت ہی میں زیردوران ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ کونسی پارٹی گزشتہ کئی سال سے انتقامی سیاست پر عمل پیرا رہی ہے اور اگر اب کانگریس انتقامی سیاست کی بات کرتی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ وہ عدلیہ کو مورد الزام قرار دے رہی ہے۔ کانگریس قائدین بشمول صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی کو دہلی کی عدالت نے سمن جاری کرتے ہوئے 19 ڈسمبر کو حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے نیشنل ہیرالڈ اخبار کے فنڈس میں بیجا تصرف اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کرتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ راتھوڑ نے کہاکہ ہر شہری کو کسی پر بھی الزام عائد کرنے کا حق ہے لیکن یہ الزام صحیح یا غلط ہے اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ کوئی بی جے پی رکن ہونے کی وجہ سے اس حق سے محروم نہیں ہوجاتا۔

TOPPOPULARRECENT