Monday , December 11 2017
Home / اداریہ / راہول گاندھی کی تنقیدیں

راہول گاندھی کی تنقیدیں

کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی بی جے پی حکمرانی کے خلاف تنقیدوں کا محاذ کھول دیا ہے ۔ ان کی تنقیدیں اور تبصرے مودی حکومت کی خرابیوں اور دھاندلیوں کے خلاف کئی سوال اُٹھاتے ہیں ۔ تازہ تنقیدی نشانہ ملک کے عوام کے سامنے غور طلب ہے ۔ بی جے پی صدر امیت شاہ کے فرزند جئے شاہ کی ایک کمپنی کی مالیاتی دھاندلیوں پر نئی ویب سائٹ ’’ وائر‘‘ کے انکشافات کے بعد راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی سے استفسار کیا کہ آیا وہ اس ملک کی دولت کے چوکیدار ہیں یا بھاگیدار ہیں کیوں کہ جئے شاہ کی کمپنی کی مالیاتی سرگرمیاں جو 2014 میں صرف 50 ہزار روپئے تھی اچانک بڑھ کر 80 کروڑ روپئے ہوگئیں ۔ امیت شاہ کے بیٹے کی اس کمپنی نے چند مہینوں میں ہی 16 ہزار گنا ترقی کی ۔ آیایہ ترقی اس ملک کی قسمت پر پیر رکھ کر کی گئی ہے ؟لیکن مودی جی خاموش ہیں ان کی یہ خاموشی معنی خیز ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کے چوکیدار نہیں بلکہ بی جے پی صدر امیت شاہ کے بیٹے کی بدعنوانیوں کے بھاگیدار ہیں ۔ راہول گاندھی کے تنقیدی سوالات موجودہ سیاسی حالات کا آئینہ ہیں ۔ گجرات میں آنے والے دو ماہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ یہاں کانگریس کی ساکھ کو مضبوط بنانے کے لیے پارٹی کے قائدین کے سامنے بی جے پی قائدین کی بدعنوانیوں کے تازہ واقعات ہاتھ آئے ہیں ۔ مگر اسی طرح کے واقعات سے کانگریس اپنے لیے کتنا سیاسی فائدہ حاصل کرسکے گی یہ کہنا مشکل ہے ۔ گجرات میں پٹے دار پٹیل برادری کی مخالف مودی لہر نے کانگریس کے حوصلے ضرور بلند کردئیے ہیں ۔ اس کے علاوہ امیت شاہ کے بیٹے کی کمپنی کا معاملہ بھی کانگریس کے لیے سیاسی گرما گرمی کا بہترین موقع ہے ۔ امیت شاہ سے گجرات کے عوام بلکہ ہندوستانی عوام یہ سوال کرسکتے ہیں کہ آخر ان کے بیٹے جئے کی کمپنی کے ٹرن اوور میں اچانک اتنا اضافہ کس طرح ہوا ۔ آج کے دور میں جہاں سوشیل میڈیا ، انٹرنیٹ ، فیس بک ، ٹوئیٹر اور دیگر ذرائع پورٹل کی شکل میں سرگرم ہیں ۔ سوشیل میڈیا کا سہارا لے کر بی جے پی اور اس کے اہم قائدین نے 2014ء کے انتخابات میں مہم چلائی تھی ۔ آج اسی سوشیل میڈیا کے ایک ویب سائٹ ’ وائر ‘ نے امیت شاہ کے بیٹے کی رقمی لین دین اور ہزاروں کروڑ روپئے کی معاملت کو بے نقاب کیا ہے ۔ بدعنوانیوں اور رشوت ستانی ، کالے دھن کو ختم کرنے کے نعرے کے ساتھ بی جے پی قیادت نے اقتدار حاصل کیا تھا لیکن 3 سال کے اندر ہی بی جے پی قائدین کے اطراف بدعنوانیوں کا حصار بلند ہوچکا ہے ۔ امیت شاہ نے نریندر مودی کے سیاسی سپہ سالار بن کر اپنے فرزند کی خاطر خواہ سرپرستی کی ہوگی جس کے نتیجہ میں ایک مردہ کمپنی جس کی جملہ ملکیت 50 ہزار روپئے تھی ۔ راتوں رات 80 کروڑ کی مالیاتی لین دین والی کمپنی بن جاتی ہے اس کمپنی کو جن ذرائع نے قرض دیا ہے ان کا بھی کچا چھٹا سامنے آچکا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے انتخابات میں بی جے پی کو شہرت پر لانے کے لیے سوشیل میڈیا کا استعمال کیا تھا لیکن اب یہی سوشیل میڈیا مودی حکومت کی خرابیوں اور بی جے پی قائدین کی دھاندلیوں کو بے نقاب کر کے عوام کو چوکس کردیا ہے ۔ اس انکشاف کا ملک بھر میں زبردست اثر پیدا ہورہا ہے ۔ جئے شاہ کے اس معاملہ پر صرف کانگریس نے احتجاج شروع کیا ہے ۔ دیگر اپوزیشن پارٹیوں ، خانگی تنظیموں اور این جی اوز کو کس اشارے کا انتظار ہے ۔ کیا وہ بی جے پی قیادت سے خوف زدہ ہیں ۔ راہول گاندھی کو بی جے پی قیادت کی بدعنوانی کا اہم موضوع ہاتھ آیا ہے ۔ اس لیے انہوں نے مودی سے سوال کیا کہ آیا وہ اس چوری میں بھاگیدار ہیں ؟ ایک چوکیدار کے سامنے چوری ہوئی ہے لیکن مودی خاموش ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ آیا مودی چوکیدار ہیں یا اس چوری کے بھاگیدار ہیں ۔ کانگریس کو مودی حکومت اور اس کے قائدین کے خلاف تحقیقات کرانے کے مطالبہ کے ساتھ اس مسئلہ کو عوام کے سامنے واضح طور پر پیش کرنا چاہئے کیوں کہ جس پورٹل نے اس معاملہ کو بے نقاب کیا ہے اس کے خلاف اجئے شاہ نے 100 کروڑ روپئے کے ہرجانہ کا مقدمہ دائر کیا ہے ۔ کیا اسے صحافت کی آزادی پر کاری ضرب سمجھا نہیں جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT