Tuesday , December 18 2018

راہول گاندھی کی جاسوسی کروانے کا الزام مسترد

نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج کانگریس کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ راہول گاندھی کے بارے میں مودی حکومت سیاسی جاسوسی کروارہی ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن جماعت ہر معاملہ کو سازش کے نظریہ سے دیکھ رہی ہے اور اپنے آپ کو قانون سے بالاتر تصور کررہی ہے۔ بی جے پی نے راہول گاندھی کے منظر عام سے غائب ہوجانے پر سوال اُٹھاتے ہوئے ک

نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج کانگریس کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ راہول گاندھی کے بارے میں مودی حکومت سیاسی جاسوسی کروارہی ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن جماعت ہر معاملہ کو سازش کے نظریہ سے دیکھ رہی ہے اور اپنے آپ کو قانون سے بالاتر تصور کررہی ہے۔ بی جے پی نے راہول گاندھی کے منظر عام سے غائب ہوجانے پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ ان کے مسلسل غیر حاضر ہونے سے کانگریس میں خلفشار پیدا ہوگیا ہے جس کے باعث پارٹی قائدین ذہنی عدم توازن کا شکار ہوگئے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ بی جے پی ترجمان سدھانگشو ترویدی نے راہول گاندھی کا اتہ پتہ معلوم کرنے کیلئے دہلی پولیس کی کوششوں کو معمول کی کارروائی قرار دیا اور بتایا کہ دہلی پولیس سالہا سال سے یہ کرتے آرہی ہے حتیٰ کہ اس طرح کی کارروائی وزیراعظم، وزیرداخلہ اور بی جے پی صدر امیت شاہ، سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی اور دیگر اپوزیشن قائدین ایم ویرپا موئیلی، نریش اگروال اور کے چندرشیکھر راؤ کے معاملہ میں کی جاتی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس نوعیت کی حسب معمول کارروائی سالہا سال سے کی جاتی ہے۔

اگر کانگریس اُسے سیاسی مسئلہ بنانا چاہتی ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر تصور کرتی ہے۔ مسٹر ترویدی نے الزام عائد کیاکہ ہر مسئلہ کو سیاسی رنگ دینا کانگریس کی عادت ہوگئی ہے اور بتایا کہ جب کانگریس برسر اقتدار تھی اُس وقت اپنے ہی وزیر فینانس پرنب مکرجی کی جاسوسی کروانے کا واقعہ منظر عام پر آیا تھا۔ لیکن اس معاملہ میں غیر اطمینان بخش جواب دیا گیا تھا۔ بی جے پی لیڈر نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ کانگریس نے گجرات میں تبدیلیوں پر نگرانی کیلئے وزارت داخلہ میں ایک اسپیشل آفیسر کا تقرر عمل میں لایا تھا جوکہ تمام اُصولوں اور وفاقی نظام کے خلاف تھا اور اس طرح کے معاملات پر سیاست کرنا ان کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ بی جے پی ترجمان نے راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اُنھوں نے میڈیا میں اس بات سے قبل اور مابعد منفی وجوہات کو پیش کیا تھا اور اب شعور پختہ ہونے کے بعد توقع ہے کہ مثبت وجوہات تلاش کریں گے۔

مسٹر ترویدی نے کہاکہ بی جے پی نے کبھی یہ مسئلہ نہیں بتایا کہ راہول گاندھی کہاں ہیں گوکہ وہ ملک کیلئے ایک اہم شخصیت ہیں لیکن ملک کو یہ نہیں معلوم ہے کہ وہ آخر کہاں ہیں۔ اگرچیکہ وہ رکن پارلیمنٹ ہیں لیکن پارلیمنٹ خود ان کے بارے میں لاعلم ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ راہول گاندھی کانگریس کے نائب صدر ہیں لیکن ان کی پارٹی خود اندھیرے میں ہے کہ وہ کہاں ہیں اور ان کے افراد خاندان بھی معنیٰ خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اگرچیکہ وہ ہر ایک کانگریسی کے دل میں رہتے ہیں لیکن نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ راہول گاندھی کے معاملہ میں بی جے پی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اور دوسروں کی جاسوسی کروانا کانگریس کا وطیرہ ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس نے آج یہ الزام عائد کیاکہ راہول گاندھی کے بارے میں نریندر مودی حکومت سیاسی جاسوسی کروارہی ہے اور یہ دعویٰ کیاکہ کانگریس آفس میں راہول گاندھی کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے ہوئے دہلی پولیس کا عملہ پکڑا گیا ہے۔

راہول سے متعلق سوالات معمول کا عمل :پولیس
نئی دہلی، 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی پولیس نے نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کی جاسوسی کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ کچھ پولیس عملہ نے راہول کے دفتر کا جو دورہ کیا تھا وہ اہم شخصیتوں کے تعلق سے معمول کا عمل ہے اور اس کے غلط عزائم نہیں تھے ۔ کمشنر پولیس دہلی بی ایس بسی نے کہا کہ اس طرح کے سروے تمام اہم افراد کے تعلق سے کروائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے راہول کو نشانہ نہیں بنایا ۔ ویرپا موئیلی ‘ ایل کے اڈوانی اور چندر شیکھر راؤ کے گھروں کے بھی دورے کئے گئے ۔ راہول سے متعلق سروے معمول کے عمل کا حصہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT