راہول گاندھی کی سیاسی پیشرفت

صدر کانگریس کی حیثیت سے راہول گاندھی کی شروعات کو مثبت قرار دیا جاسکتا ہے۔ گجرات انتخابات میں اگرچیکہ انہوں نے اپنی پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی لیکن بی جے پی کے گڑھ میں اس پارٹی کے اثر کو کمزور کرنے میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر راہول گاندھی کی کوششوں کو تاخیر سے ہونے والی ایک اچھی پیشرفت قرار دیا جاچکا ہے۔ صدر کانگریس کی حیثیت سے اب ان کے سامنے 2019ء کے لوک سبھا انتخابات ایک بڑی چیلنج کے طور پر کھڑے ہیں۔ ہماچل پردیش میں بی جے پی کی کامیابی کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی، کیونکہ بی جے پی کے چیف منسٹر امیدوار خود کمزور پڑگئے۔ گجرات انتخابات میں کانگیرس نے رائے دہندوں کو قریب کرلیا ہے۔ شہری علاقوں میں اگرچیکہ وزیراعظم نریندر مودی کا سحر کام آیا مگر ان کی طوفانی انتخابی مہم کے باوجود بی جے پی بے اثر ہوکر رہ گئی۔ معمولی اکثریت سے کامیابی نے مودی کو ایک زخم دے دیا ہے۔ اصلاحات کا عمل ان کے لئے سیاسی راستے کا کانٹا بن گیا۔ بی جے پی صدر امیت شاہ کا بھی سیاسی داؤ ناکام رہا۔ مجموعی طور پر گجرات اور ہماچل پردیش کے نتائج بی جے پی کے لئے خبردار کرنے والے ہیں کہ وہ آئندہ سے عوام کو تکلیف دینے والے اصلاحات کے عمل سے پرہیز کریں۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے اثرات نے عام آدمی کو مصائب سے دوچار کردیا ہے۔ اس کے باوجود تاجر طبقے نے بی جے پی کو قریب رکھنے میں ہی اپنی عافیت محسوس کی ہے تو یہ تجارت پیشہ افراد کی مجبوری ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی تجارتی زندگی میں کسی قسم کی سرکاری دشمنی مول لینا نہیں چاہتے۔ اگر گجرات میں بی جے پی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا تو مرکز میں بیٹھی مودی حکومت گجرات کی تاجر برادری کے تعلق سے اپنے خفیہ ایجنڈہ کو بروئے کار لاکر پریشان کرتی۔ اسی حکومت نے سورت کے رائے دہندوں کو یکطرفہ رائے دہی کیلئے مجبور کردیا تھا۔ سورت کی طرح دیگر اہم اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کو صرف ایک انجانے خوف کی وجہ سے ووٹ ملے ہیں اور بی جے پی کی اصل قیادت اس سے داخلی طور پر اچھی طرح واقف ہے۔ عوام نے اسے خوشی سے ووٹ نہیں دیا ہے۔ اب کانگریس کے شہزادہ نے بی جے پی کو دکھایا دیا ہے کہ وہ نوخیز ، نوعمر یا ناتجربہ نہیں بلکہ اپنے سامنے نام نہاد طاقتور ترین قائدین کو پریشان کرنے کا ہنر حاصل کرچکے ہیں۔ خاندانی حکمرانی کا لیبل لے کر اگر انہوں نے گجرات میں مودی کے گڑھ کو للکارا ہے تو یہ صرف ان کی چند ماہ کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ اول سے ہی میدان عمل میں سرگرمی سے نئی حکمت عملی کے ساتھ وارد ہوتے تو شاید گجرات کے انتخابات کانگریس کے حق میں ہوتے۔ راہول گاندھی کے لئے یہ نتائج مسرت کا لمحہ فراہم کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ہی انہوں نے اس طرح کی طوفانی انتخابی مہم چلائی۔ اس مہم کا سارا بوجھ اپنے کاندھوں پر لے کر ہر حلقہ میں کام کیا ہے۔ ایک لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے اپنی ٹیم میں توانائی پھونک دی جس کے بعد کانگریس کے ہر ورکر میں خود اعتماد بھی پیدا ہوگئی ہے۔ پارٹی، ادنی ٰسے ادنیٰ ورکر میں جوش و ولولہ پیدا کرنا ہے۔ پارٹی قیادت کی صلاحیتوں اور محنت پر منحصر ہوتا ہے اور یہ راہول گاندھی نے چند ماہ کے اندر کردکھایا ہے۔ مقابلہ آرائی کے حقیقی جذبہ سے راہول گاندھی کو ضرور یہ درس ملا ہوگا کہ سیاسی میدان میں حریف کو زیر کرنے کے لئے کونسی حکمت عملی ہونی چاہئے اور کونسے داؤ کام آتے ہیں۔ گجرات میں ریاستی سطح پر ایک زوردار یا بااثر لیڈر کی کمی کے باوجود کانگریس کو عام رائے دہندے تک پہونچنے میں راہول گاندھی کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ خاص کر دیہی رائے دہندوں کو انہوں نے کانگریس کے قریب لایا ہے۔ اگرچیکہ گجرات میں مخالف حکمرانی لہر پائی جاتی تھی مگر ریاستی کانگریس کے قائدین نے اس صورتحال سے بھرپور استفادہ کرنے کی تیاری نہیں کی۔ صرف راہول گاندھی پر تکیہ کرلیا جس سے انتخابات میں ووٹوں کے حصول کا فیصد توقع کے مطابق نہیں رہا۔ اگر ریاستی سطح پر کانگریس قائدین شروع سے ہی محنت کی ہوتی تو شاید آج بی جے پی کو دوبارہ اقتدار نہیں ملتا۔ تاہم راہول گاندھی نے گجرات اسمبلی انتخابات کو ایک سخت ترین سیاسی مقابلہ کے طور پر قبول کرتے ہوئے کام کیا تھا اور پارٹی کے بہتر مظاہرہ کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔ اب وہ 2019ء کے عام انتخابات میں نریندر مودی کے لئے باقاعدہ آزمودہ سیاسی تجربہ کار طاقتور سخت ترین چیلنج بن کر کھڑے ہوں گے۔ ایسے میں راہول گاندھی کی ٹیم کو 2019ء کے عام انتخابات کی ابھی سے تیاری کرنی ہوگی۔ گجرات کی حکمت عملی اور ووٹوں کے فیصد کا تجربہ سامنے ہے۔ اس تناظر میں آگے کی انتخابی حکمت عملی تیار کرکے کامیابی کا نشانہ مقرر کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT