Thursday , December 13 2018

راہول گاندھی کی قیادت میں فرقہ وارانہ صورتحال پر مباحث کا مطالبہ

نئی دہلی۔6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) راہول گاندھی جن پر پارلیمنٹ میں بے عملی کا الزام عائد کیا جاتا تھا، آج اپنی پارٹی کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لوک سبھا میں شوروغل کی قیادت کرتے نظر آئے جبکہ ملک کی فرقہ وارانہ صورتِ حال پر عاجلانہ مباحث کا مطالبہ کیا جارہا تھا، نائب صدر کانگریس جو جارحانہ موڈ میں نظر آرہے تھے اور تیسری بار ایو

نئی دہلی۔6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) راہول گاندھی جن پر پارلیمنٹ میں بے عملی کا الزام عائد کیا جاتا تھا، آج اپنی پارٹی کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لوک سبھا میں شوروغل کی قیادت کرتے نظر آئے جبکہ ملک کی فرقہ وارانہ صورتِ حال پر عاجلانہ مباحث کا مطالبہ کیا جارہا تھا، نائب صدر کانگریس جو جارحانہ موڈ میں نظر آرہے تھے اور تیسری بار ایوان کے رکن ہیں، وسط میں پہنچ گئے اور پہلی بار اپنے پارٹی ارکان کی مطالبہ کی قیادت کرنے لگے جو اس مسئلہ پر حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے تحریک التواء کا مطالبہ کررہے تھے۔ ایوان کا آغاز ہوتے ہی کانگریس نے وقفۂ سوالات معطل کرکے تحریک التواء پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ راہول گاندھی اپنی پارٹی کے ساتھیوں کے ساتھ ایوان کے وسط میں جمع ہوکر حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے۔ بعدازاں انہیں اپنی والدہ صدر کانگریس سونیا گاندھی سے مشاورت کرتے دیکھے۔ شوروغل کے دوران وقفہ سوالات مختصر سے التواء کے سواء جاری رہا۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کہیں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہے۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کانگریس ارکان کو تیقن دیا کہ وہ یہ مسئلہ وقفہ صفر کے دوران اُٹھا سکیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی بھی شوروغل کے وقت ایوان میں حاضر تھے۔ وقفہ صفر کے دوران کانگریس قائد ملکارجن کھرگے نے پرزور مطالبہ کیا کہ تحریک التواء کے ذریعہ اس مسئلہ پر مباحث کروائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کئی مثالیں ماضی میں موجود ہیں۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ جب سے یہ حکومت برسراقتدار آئی ہے، ہر جگہ فرقہ وارانہ فسادات پھیل گئے ہیں۔ اس کے پس پردہ کون ہے؟ اس پر مباحث ضروری ہیں۔ ان کے اس تبصرہ پر بی جے پی ارکان نے پُرشور احتجاج کیا۔ کھرگے نے دعویٰ کیا کہ فرقہ وارانہ تشدد ہر جگہ پھیل جانے کے پیش نظر اس پر مباحث ضروری ہیں اور ان تمام ارکان ایوان پر فرض ہے جو ملک میں امن برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ این سی پی کے طارق انور نے فوری کھرگے کی تائید کی۔ وزیر پارلیمانی اُمور نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ یہ قابل اعتراض ہے۔ ملک میں امن برقرار ہے اور ایوان میں بھی امن ہونا چاہئے۔کانگریس، آر جے ڈی، ایس پی، آر ایس پی اور اے اے پی کے ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوکر ’’ہم انصاف چاہتے ہیں‘‘ اور ’’پردھان منتری کہاں گئے، بھاگ گئے بھاگ گئے‘‘ کے نعرے لگانے لگے۔ اسپیکر نے کھرگے سے سوال کیا کہ وہ ایسے واقعات کا حوالہ دیں جو پیش آسکیں، اس پر کانگریس قائد نے کہا کہ کئی مقامات پر ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ فوری طور پر وینکیا نائیڈو اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور اس کو بے بنیاد الزام قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں ملک محفوظ ہے۔ جب سمترا مہاجن نے کہا کہ کانگریس ارکان کو نوٹس دینی چاہئے تاکہ آئندہ اجلاس میں کارروائی مشاورتی کمیٹی اسے شامل کرسکے۔ اس پر کھرگے نے کہا کہ ہم نوٹس دے چکے ہیں۔ ایک نوٹس قاعدہ 193 کے تحت اور دوسری تحریک التواء کی نوٹس ہے جسے آسانی سے خصوصی مباحث میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

کانگریس وہپ کے سی وینوگوپال اور مسلم لیگ کے ای احمد نے کہا کہ تحریک التواء کی نوٹس ان کے اور کھرگے کی جانب سے دی گئی ہے۔ جب اسپیکر نے اصرار کیا کہ اس کا فیصلہ بی اے سی کرے گی تو کھرگے نے کہا کہ جزوی طور پر یہ حکومت کا معاملہ ہے۔ اگر آپ تحریک توجہ دہانی کو خصوصی مباحث میں تبدیل کرسکتے ہیں تو تحریک التواء کو کیوں نہیں کرسکتے؟ یہ غیردرست ہے، ناانصافی ہے، ہم انصاف چاہتے ہیں، جب اپوزیشن ارکان نے ایوان کے وسط میں نعرہ بازی جاری رکھی تو اسپیکر نے دیگر ارکان سے خواہش کی کہ وہ وقفۂ صفر میں عوامی اہمیت کے مسائل اٹھائیں۔ شوروغل کے دوران کانگریس قائدین بشمول راہول گاندھی، صدر کانگریس سونیا گاندھی سے تبادلہ خیال کرتے دیکھے گئے۔

TOPPOPULARRECENT