Monday , December 11 2017
Home / اداریہ / راہول گاندھی کے خلاف کیس

راہول گاندھی کے خلاف کیس

کچھ بھی ہوں پھر بھی دُکھے دل کی صدا ہُوں ناداں
میری باتوں کو سمجھ، تلخی تقریر نہ دیکھ
راہول گاندھی کے خلاف کیس
کانگریس کے لئے ایک کے بعد ایک مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ یوپی انتخابات کی تیاری کرنے والی پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی پر تحقیر مقدمہ میں سپریم کورٹ نے پھٹکار سنائی ہے ۔اگر راہول گاندھی نے آر ایس ایس سے معذرت خواہی نہیں کی تو پھر ان پر ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ چلے گا ۔ سال 2014 ء کے انتخابات میں مہم کے دوران مہاراشٹرا کے شہر بھیونڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے جو تقریر کی تھی اس کے تعلق سے آر ایس ایس نے ممبئی ہائیکورٹ میں شکایت کرتے ہوئے اہانت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ بھیونڈی کے آر ایس ایس سکریٹری راجیش کنٹے نے الزام عائد کیا تھا کہ راہول گاندھی نے انتخابی ریالی میں آر ایس ایس پر الزام عائد کیا ہے کہ آر ایس ایس نے ہی گاندھی کا قتل کیا تھا ۔ اس تقریر کے حوالے سے آر ایس ایس کے لیڈر کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی نے اپنی تقریر کے ذریعہ سنگھ پریوار کے امیج کو دھکا پہونچانے کی کوشش کی تھی ۔ راہول گاندھی نے بی جے پی کے قائدین پر طنزیہ جملے بھی کہے تھے اور کہا تھا کہ یہ بی جے پی والے دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے ہی ہندوستان میں کمپیوٹرس متعارف کروایا ہے جبکہ ہندوستان میں کمپیوٹر متعارف کرانے کا سہرا ان کے والد راجیو گاندھی کے سر جاتا ہے ۔ مہاراشٹرا کورٹ نے آر ایس ایس کی شکایت پر کارروائی کا آغاز کیا تھا اور راہول گاندھی کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس کے روبرو حاضر ہوں ۔ 6 جولائی 2015 ء کو تحت کی عدالت نے سمن بھی جاری کیا تھا ۔ راہول گاندھی نے شخصی حاضری سے استثنیٰ مانگا تھا اور اس درخواست کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی تھی ۔ ہائیکورٹ نے ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے حکم التواء جاری کرنے سے بھی انکار کیا تھا اور اس احکام کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی مہلت بھی دی گئی تھی اب سپریم کورٹ کی بنچ نے مہاتما گاندھی کے قتل کے کیس کے سلسلہ میں پنجاب اور ہریانہ ہائیکورٹ کے فیصلہ کا جائزہ لینے کے بعد کہ آر ایس ایس ورکر نتھورام گوٖڈسے نے ہی مہاتما گاندھی کو ہلاک کیا تھا ، کہا کہ گوڈسے ہی گاندھی کا قاتل ہے وہ آر ایس ایس کے تعلق سے کہنا کہ اس نے قتل کیا تھا یہ دو مختلف چیزیں ہیں ۔ آپ کسی ایک یا پوری تنظیم پر فرد واحد کا جرم مسلط نہیں کرسکتے ۔ اس کیس کی میرٹ کی بنیاد پر جانچ کی جائے گی اور سپریم کورٹ یہ پتہ چلائے گی کہ آیا راہول گاندھی کی تقریر تحقیر کے دائرہ میں آتی ہے یا نہیں ۔ راہول گاندھی نے اس کیس کو اظہارخیال کی آزادی پر روک لگانے کی کوشش قرار دیا اور انھوں نے دستوری طورپر اس کو چیلنج بھی کیا ہے ان کا استدلال ہے کہ اس طرح کے مقدمہ بازی سے اظہار خیال کی آزادی پر اثر پڑے گا ۔ دستور ہند کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہارخیال کی آزادی کے بنیادی اصول ہوتے ہیں اور اگر کوئی شخصی حملے کرتا ہے تو اس کے لئے فوجداری تحقیر کا معاملہ درج ہوسکتا ہے ۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 499 کے تحت قابل لحاظ پابندیوں کا اطلاق ہونا چاہئے ۔ کوئی بھی شخص کسی پر راست الزام عائد کرکے اس کی امیج کو مسخ نہیں کرسکتا ۔ فوجداری تحقیر معاملہ کو ہندوستان میں کافی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے ۔ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی لیڈروں کے ایک دوسرے کے خلاف الزامات و جوابی الزامات عام بات ہیں لیکن بعض اوقات یہ الزام اتنا سنگین ہوتا ہے کہ اس سے فرد کی شخصیت متاثر ہوسکتی ہے یا کسی تنظیم کی بدنامی ہوگی ۔ عدالتوں کے اس تعلق سے جو فیصلے آئے ہیں وہ بھی ملے جلے نتائج کے حامل ہوتے ہیں ۔ سوال یہ بھی اُٹھایا گیا ہے کہ آیا تحقیر کا معاملہ ایک جرم ہے یا نہیں اور اگر ایک یہ کہے کہ جرم ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ یہ جرم نہیں ۔ اس سلسلہ میں ججس کی رائے اور تھیوری بھی مختلف ہوتی ہیں ۔ اب راہول گاندھی کیس میں سپریم کورٹ کی بنچ کی جو رائے آئے گی اس کے مطابق نائب صدر کانگریس کو ردعمل ظاہر کرنا ہوگا ۔ معذرت خواہی سب سے آسان طریقہ ہے لیکن ایک قومی پارٹی کے نائب سربراہ کے لئے اپنے کہے ہوئے لفظ پر معذرت خواہی کرنا ایسا ہی ہوگا کہ وہ جھوٹ بولنے کے عادی ہیں ۔ یوپی انتخابات سے عین قبل کانگریس کے لئے یہ ایک مشکل مرحلہ ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلہ میں راہول گاندھی کو اختیار دیدیا ہے ۔ اور اُن کے ریمارکس کا جائزہ لیتے ہوئے اس کو میرٹ کی بنیاد پر جانچ کرنے کی بات کہی ۔ اب سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد راہول گاندھی اپنی تقاریر کا احتساب کریں گے یا اس کیس پر مزید بحث و مباحث کے ذریعہ اپنی بات منانے کی کوشش کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT